رائیگانی-عرشیہ انجم

زندگی نے تجربات کی دولت دے کر
جانے کتنی قیمت وصول کر لی
جب پلٹ کر دیکھتے ہیں
تو محض اتنا یاد آتا ہے
کبھی قہقہوں سے گونجتے تھے
گھر، آنگن اور دل
کبھی چہرے کی رونق کی بلائیں لیتی تھی ماں
اب تو ہنستے ہیں تو دل لرز اٹھتا ہے
نہ جانے کتنے لمحے سوگواری کی نذر ہو جائیں
خود کو دیکھتے ہیں آئینے میں
تو حیرت سے سوچتے رہ جاتے ہیں
کہاں کھو گئیں وہ شوخیاں
جو ہمارا مزاج تھیں
اب تو اتنے الزام ہیں سر پر
کہ زندگی فقط رائیگانی ہے
اس کے سوا کچھ بھی نہیں
حیات کا ہر لمحہ
داستانِ زیاں ہے
اور کچھ بھی نہیں!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*