آسام میں امیت شاہ کی ریلی،کانگریس کے بہانے مولانا بدرالدین اجمل پر نشانہ

گوہاٹی:آسام کی ریلی میں امیت شاہ نے کانگریس پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے آسام اور ریاست کے لیے بی جے پی حکومت کے ذریعہ کیے گئے کاموں کوگنایا۔وزیر داخلہ نے کانگریس کا نام لیے بغیر کہاکہ جو لوگ اجمل کے ساتھ بیٹھے ہیں وہ دراندازی نہیں روک سکتے۔وہ بدر الدین اجمل کے ساتھ آسام آتے ہیں جن کی زبان آپ نے سنی ہوگی۔بی جے پی آسام این آرسی پرپھنس گئی ہے جہاں پہلے وہ دراندازی کامعاملہ اٹھاتی تھی،لیکن جب سپریم کورٹ کی نگرانی میں این آرسی ہوئی تودس لاکھ سے زائدہندوئوں کے نام باہرہوگئے ،سوال اسی پراٹھاکہ کیایہی لوگ دراندازتھے۔چنانچہ بی جے پی اب سپریم کورٹ کی نگرانی والی این آرسی کوفائنل نہیں مان کربہانہ بنارہی ہے۔این آرسی سے جان چھڑانے کے لیے بی جے پی دوسرے مسائل اٹھارہی ہے۔راہل گاندھی کا نام لیے بغیر امت شاہ نے کہاہے کہ پہلے دہلی کی سڑکوں پر گھومتے ہیں اور لطف اٹھاتے ہیں۔ جب انتخابات آتے ہیں تو وہ ووٹ مانگنے آتے ہیں۔ آسام تحریک کے دوران ، نوجوانوں پر فائرنگ کردی گئی۔ اب وہ ووٹ مانگنے کے لیے اپنا لباس تبدیل کر رہے ہیں۔ کچھ ووٹ کاٹ کر بی جے پی کے ووٹ کاٹ کر کانگریس کی مددکرنا چاہتے ہیں۔ آسام کے لوگ سب کچھ سمجھتے ہیں۔ انھیںبے وقوف نہیں بنایا جائے گا۔ آسام کے عوام جانتے ہیں کہ صرف بی جے پی ہی ترقی یافتہ،پرامن اور دراندازی روکنے والی ریاست تشکیل دے سکتی ہے۔امیت شاہ نے کہاہے کہ آج میں ان سے پوچھتا ہوں جن کی زبان بدلی ہے ، وہ آسام کے فخر کی بات کرتے ہیں۔ دراندازواں نے آسام کے وقارکو نقصان پہنچایا لیکن کبھی کچھ نہیں کیا۔ کیونکہ انھیں ووٹ بینک کا لالچ تھا۔ آپ اجمل کے ساتھ بیٹھ کر دراندازی کو نہیں روک سکتے۔