ایک چیونٹی سے مکالمہ- ڈاکٹر اصغر کمال

ہمارے علاقے میں تعمیر شدہ زیر زمین حویلی کے بڑے چرچے تھے ، دور دور تک اس کی شہرت کے جھنڈے گڑے ہوئے تھے، جو سنتا دیکھنے کی آرزو کرتا ، جو دیکھتا اس میں داخلے کی کوشش کرتا اور یہ حویلی تھی کہ سب کے لئے ایک راز بنی ہوئی تھی ، میں بھی کئی بار جان ہتھیلی پر رکھ کر داخلے کی ناکام کوشش کر چکا تھا، پھر ایک روز اس خاموش طبع چیونٹی سے ہماری ملاقات ہوئی جو اس پراسرار حویلی کے درودیوار سے واقف تھی ، میری دیرینہ خواہش کی تکمیل سے پہلے وہ مجھ سے ایک وعدہ لینا چاہتی تھی ، میں نے حامی بھرتے ہوئے مدعا بیان کرنے کی درخواست کی تو وہ یوں لب کشا ہوئی ” تم ایک مصنف ہو اور ایرے غیرے نتھو خیرے اور نہ جانے کس کس پر اپنا قیمتی قلم آزماتے رہتے ہو ، کیا تم میری کہانی بھی کاغذ پر اتار سکتے ہو، میں گوشۂ گمنامی میں پڑی ہوئی غمزدہ قوم کی ایک ادنی فرد ہوں ، ہماری عزت تو درکنار سب ہمیں حقیر فقیر سراپا تقصیر تصور کرتے ہیں ۔”
میں نے اس کی ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا ، تم خاطر جمع رکھو میں بھی تمھاری طرح ایک چھوٹا سا انسان ہوں جیسا کہ میرے نام سے بھی ظاہر ہے، میں تمھاری روداد زندگی ضرور قلمبند کرونگا ، اس نے رخصت ہوتے ہوئے مجھ سے کہا ’ ٹھیک ہے تم صحیح وقت کا انتظار کرو ، جیسے ہی اندر جانے کا راستہ صاف ہوگا میں تمھیں مطلع کردوں گی‘۔
وہ ہمیشہ برق رفتار یوں مصروف کار نظر آتی گویا کہ اس کارخانۂ ہستی کا تمام بوجھ اسی کے کمزور کاندھوں پر رکھ دیا گیا ہو ، وہ حصول مقاصد کے لئے کبھی تنہا اور کبھی ہم جولیوں کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں دواں نظر آتی ، وہ راستہ روکنے والے منچلوں سے الجھنا ضیاع وقت تصور کرتے ہوئے ہمیشہ اپنا راستہ بدل لیا کرتی تھی اور یوں اس کا یہ سفر بغیر کسی رکاوٹ کے کسی بہتے ہوئے دریا کی طرح جاری رہتا ۔
پھر وہ وقت بھی آیا کہ جس کے ہم منتظر تھے ، اشارہ ملتے ہی ہم اپنے رازدار کے ساتھ حویلی کی جانب چل پڑے۔ یونہی چلتے چلتے اس نے حویلی کے کچھ اصول اور ضابطے بھی ذہن نشیں کرائے:
” حویلی کے اندر کا ماحول حیرت انگیز طور پر بہت نازک ہے وہاں زبان تک ہلانا باعث ندامت ہوگی ، کسی بھی شے کو ہاتھ لگانا موت کو دعوت دینا جیسا ہوگا ، اندر کسی سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے ، لہذا بہتر ہوگا کہ وہاں کی ہر چیز سے ایک فاصلہ رکھا جائے‘‘۔ تمام اصول میرے ہوش اڑانے کے لئے کافی تھے لیکن حویلی کے پراسرار ماحول کے دیدار کے لئے میں ہر اصول پر چلنے کے لئے تیار تھا۔
کچھ دیر کی مسافت کے بعد ہمیں قرینے اور سلیقے سے بنے ہوئے کچھ کمرے نظر آئے وہاں جو مخلوق تھی وہ گردو پیش کے ماحول سے بے خبر اپنے کام میں مصروف تھی، پھر کچھ بڑے ہالوں نے ہماری توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ، وہاں ایک ہال میں دائرہ نما کوئی چیز بڑی تعداد میں رکھی ہوئی تھی اور دوسرے ہالوں میں چینی چاول اور دوسرے غلے کا ذخیرہ رکھا گیا تھا لیکن زیادہ تر اناج کے دانے ٹوٹے ہوئے تھے۔ حویلی سے واپسی پر میں نے اس سے پوچھا، اے نیک باطن چیونٹی میں تمھاری سحر انگیز دنیا سے واقف ہوچکا ہوں اب اگر تمھاری اجازت ہو تو کچھ سوالات کے لئے اپنی زبان کھولوں ، اس نے کہا جی ضرور اب تمھیں اجازت ہے ، اچھا تو یہ بتاؤ کہ کمرے میں رکھی ہوئی وہ گول گول چیز کیا تھی،اس نے جواب دیا ، وہ ہمارے انڈے تھے یعنی ہمارا مستقبل اور ہم اپنے مستقبل کی حفاظت کرنا خوب جانتے ہیں ۔
تم اپنے بچوں کی تربیت کرتے وقت کن امور کا خاص خیال رکھتی ہو ، اس نے جواب دیا ” ہم انھیں متحد ہوکر اتفاق اور پیار محبت سے رہنا سکھاتے ہیں کیونکہ اتحاد میں طاقت ہے اور طاقت میں حفاظت ہے ، پھر ہم انھیں اپنے گھر کا راستہ یاد کراتے ہیں تاکہ باہر کا ماحول بگڑنے پر وہ جلد از جلد گھر پہنچ سکیں،پھر میں نے اس سے دریافت کیا ، وہ غلے کا انبار جو تم نے ہالوں میں لگا رکھا ہے وہ سب ٹوٹا ہوا کیوں ہے ؟ اس نے جواب دیا اگر ہم اسے توڑ کر نہ رکھیں تو اس میں کونپلیں پھوٹ کر پودے کی شکل اختیار کرلیں گے اور پودے ہمارے گھر کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، اس کی بات سن کر میرا منہ حیرت و استعجاب سے کھلا کا کھلا رہ گیا ، کہاں یہ ننھی جان اور کہاں عقل و خرد کی اڑان ، اس کی دور اندیشی کا میں قائل ہوگیا ۔
مجھ پر خاموشی اور حیرت کے ملے جلے اثرات دیکھ کر اس نے مجھے اپنا وعدہ یاد دلایا، میں اپنا وعدہ وفا کرچکی ہوں اب تمھاری باری ہے۔
در اصل وہ علامہ اقبال کے دو شعروں سے بڑی بے چین تھی ، وہ شعر چیونٹی اور عقاب کے درمیان ہونے والے مکالمے پر مشتمل تھے ، جو کچھ اس طرح تھے:
چیونٹی نے کہا:
میں پائمال و خوار و پریشان و دردمند
تیرا مقام کیوں ہے ستاروں سے بھی بلند
عقاب نے کہا :
تو رزق اپنا ڈھونڈتی ہے خاک راہ میں
میں نہ سپہر کو نہیں لاتا نگاہ میں
اس نے گھٹی گھٹی آواز میں مجھے مخاطب کیا ، اے مصنف کچھ تو ہی فیصلہ کر مجھے پائمال یعنی روندا ہوا سمجھا گیا ، مجھے آوارہ ذلیل و خوار کہا گیا جبکہ ہماری پوری قوم بوقت ضرورت گھر سے نکلتی ہے اور آوارہ گردی کو گناہ تصور کرتی ہے ، کیا ہم اپنے رزق کے لئے صرف خاک چھانتے ہیں، اس نے قریب قریب روتے ہوئے کہا ہماری قوم پوری ایمانداری کے ساتھ تلاش رزق میں گھر سے نکل کر در در بھٹکتی ہے ، کبھی کبھی یہ رزق بغیر محنت کے ہمارے دروازے پر ہی عطا کردیتا ہے اور کبھی کبھی بڑی جدوجہد کے بعد حاصل ہوتا ہے ، ہم سائل بن کر لوگوں کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتے اور نہ ہی تلاش رزق میں محنت و مشقت سے گھبراتے ہیں ۔
پر اشک ننھے فریادی کو سمجھاتے ہوئے ہم نے اس سے کہا :
تم علامہ اقبال کی بات کر رہی ہو ، آہ ، وہ پوری زندگی تم جیسی چھوٹی چھوٹی مخلوق میں زندگی کے اصول تلاش کرتا رہا ، اس کا مقصد تمھاری اہانت بالکل نہیں ہے وہ تمھاری مثال دے کر اخلاق و کردار سے گرے ہوئے مغرب زدہ بے دین مسلمانوں کو ان کی عظمت یاد دلا کر انھیں صراط مستقیم پر لانا چاہتے ہیں، انھوں نے مکڑا اور مکھی ، ایک پہاڑ اور گلہری ، ایک گائے اور بکری جیسی نظموں کے توسط سے چاپلوسی ، خود غرضی، خود پرستی ، خود نمائی جیسی معاشرے میں پھیلی ہوئی بیماریوں کو اجاگر کیا ہے، اخلاق و آداب، ہمدردی ، خدمت خلق ، بزرگوں کا احترام ، اللہ کی مرضی و مشیت اور نہ جانے کون کون سے اصلاحی موضوعات کو اپنے کلام کا موضوع بنایا ہے ، رہی بات تمھاری عزت و احترام کی تو تم خاک نشیں ہوتے ہوئے بلند خیال ہو ، جسمانی طور سے تم صرف ایک چیونٹی ہو لیکن عقل و خردکی بات ہو تو تم پہاڑ کی ایک چوٹی ہو ، تم دیکھنے میں ضرور کمتر ہو لیکن ہمت اور حوصلے کا ذکر ہو تو تم پہاڑ سے برتر ہو ، تم اپنی ان خوبیوں کے سبب بڑے بڑے بادشاہوں کی رہنما نظر آتی ہو ، سلطان محمود غزنوی کے بارے میں کون نہیں جانتا ،ایک بار جب وہ ہندوستان پر سولہ حملوں کے بعد شکست خوردہ ، مضمحل ، مایوس ، نا امید کسی دیوار کے سائے میں آرام کر رہاتھا کہ اسے دیوار پر چڑھتی ہوئی ایک چیونٹی نظر آئی ، اس نے دیکھا کہ وہ چیونٹی جب چڑھتے چڑھتے دیوار کے آخری حصے تک پہنچ جاتی ہے تو گر جاتی ہے وہ پھر نیچے سے اپنا سفر شروع کرتی ہے اور اسی طرح اوپر جاکر ڈگمگاتی ہے اور گر جاتی ہے محمود غزنوی بغور اس کا مشاہدہ کرتا رہا ، کہتے ہیں کہ بلند ہمتی کے سبب اسے ننانویں بار میں دیوار عبور کرنے میں کامیابی نصیب ہوئی ، یہ دیکھ کر مایوس محمود غزنوی کے اوسان درست ہوئے اس نے ایک بار پھر اپنے فوجیوں کو جمع کرکے ہندوستان پر حملہ کیا اور وہ کامیاب ہوا ۔
ایک معروف مفکر و ماہر ارضیات نے تمھاری شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے یہاں تک کہ ڈالا کہ تمھارا نظام انسانوں جیسا ہے ، تمھارے یہاں بھی سلطنت کا نظام سنبھالنے کے لئے سلطان ہوتے ہیں، دشمنوں سے مقابلے کے لئے فوجی ہوتے ہیں سازوسامان کی آمدورفت کے لئے ملازم ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ ہم نے تو یہ بھی سنا ہے کہ ہاتھی جیسا قوی الجثہ بھی تمھاری قوت کا لوہا مانتا ہے۔
تم بے حیثیت ہونے کے باوجود با حیثیت نظر آتی ہو ، تم صفحۂ ہستی پر ناقابل دید ہونے کے با وجود قابل ذکر نظر آتی ہو ، کتاب حدیث میں بھی تمھارا ذکر موجود ہے ، جس سے اس حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے کہ تم ذاکرین میں سے ہو اور اللہ تعالی کی محبوب قوم میں شمار کی جاتی ہو ،حضرت ابو ہریرہ رضی علہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” انبیا میں سے ایک نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تو انہوں نے چیونٹیوں کی پوری بستی کو جلانے کا حکم دیدیا، اللہ تعالی نے وحی کے ذریعےانھیں تنبیہ فرمائی کہ ایک چیونٹی کے تجھے کاٹ لینے کے بدلے میں تونے اللہ کی تسبیح کرنے والی پوری ایک جماعت کو ہلاک کر ڈالا”-(متفق علیہ)
ارے تم بڑی خوش بخت ہو کہ رب دو جہاں نے تمھاری ہمدردی اور کنبہ پروری جیسی خوبیوں کو کتاب ہدایت کا حصہ بنا دیا ، اللہ نے قرآن میں تمھاری داستان کچھ اس طرح بیان کی کہ آج ہر مومن کی زبان پر ہے ، اللہ فرماتا ہے :
” جب سلیمان اپنے لشکر کے ساتھ ایک میدان میں آئے تو ایک چیونٹی نے کہا ، اے چیونٹیوں اپنے بلوں میں گھس جاو کہیں سلیمان اور ان کا لشکر بے خبری میں تم کو کچل نہ ڈالے "-( سورہ النمل ، آیت 18)
یہ تھی وہ چیونٹی کہ جس کی تعریف اللہ تعالی نے کی ، اور جس کی تعریف رب کائنات اپنی کتاب میں کرے اسے ذلیل و خوار کرنے والا آج تک دنیا و ما فیہا میں پیدا نہیں ہوا اور سنو! تمھارا ذکرِ خیر قرآن میں بھی ہے اور حدیث میں بھی ہے لیکن عقاب کا ذکر نہ تو کتاب اللہ میں ہے اور نہ ہی مجموعۃ الاحادیث میں ہے ، یہ سن کر وہ مسکرائی اور اور تیز تیز قدموں کے ساتھ حویلی کی جانب بڑھ گئی ،اور میں دور تک اسے دیکھتا رہا ، شاید اسے کوئی ضروری کام یاد آگیا تھا ، شاید میرے الفاظ اس کی تسلی کا سامان بن گئے تھے ، شاید اس کے بیقرار دل کو قرار آگیا تھا ، شاید میں اسے سمجھانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*