مسلمانوں کو کوئی مٹا نہیں سکتا، خود پر اور خدا پر بھروسہ رکھیں، معروف دانش ور پدم شری پروفیسر اخترالواسع سے روزنامہ انقلاب کے سینئر سب ایڈیٹر ڈاکٹر جسیم الدین کی خاص بات چیت

سوال: اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیں؟
جواب: یکم ستمبر۱۹۵۱ کو میں علی گڑھ میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوا، یہیں پلا بڑھا،میری ابتدائی تعلیم گھر پر ہی مولوی اسماعیل کی پانچوں کتابوں کے ذریعے ہوئی، تختی لکھنا سکھایاگیا، اللہ غریق رحمت کرے ماسٹرمحمد حبیب انصاری صاحب میرے استاذ اول رہے،میں نے جب اردو زبان کی پانچوں کتابیں پڑھ لیں ،تختی لکھنا سیکھ گیاتومیرے داداایک دن انگلی پکڑ کر لے گئے اور چنگی کے اسکول نمبر ۱۶ میں جو محلہ بنی اسرائیلیان درگاہ گیٹ پر واقع ہے ، وہاں پر چوتھی جماعت میں داخلہ کرایا، یہاں سے پانچویں کلاس مکمل کرنے کے بعد چھٹی کلاس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سٹی ہائی اسکول میں داخلہ مل گیا، ۱۹۷۱ سے ۱۹۷۷ کے دوران اے ایم یو سے ہی بی اے ،ایم ٹی ایچ اور ایم اے(اسلامک اسٹڈیز)کیا ۔
سوال : اے ایم یو کا زمانۂ طالب علمی کیسا رہا؟
جواب: بہت شاندار رہا، جو کچھ کھایا ،کمایاوہ اسی کی دین ہے،بلکہ میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ میری شخصیت کی تعمیر اور شعور کی تشکیل میں علی گڑھ کا غیر معمولی کردار ہے، میں آج جو کچھ بھی ہوں ، اسی کی رہین منت ہے۔میرے لیے خوشی کا موقع یہ رہا کہ میں زمانۂ طالب علمی میں واحد طالب تھا جسے ہاسٹل میں مقیم نہ ہونے کے باوجوداے ایم یو اسٹوڈینٹ یونین کا اعزازی سکریٹری منتخب کیاگیا۔
سوال: جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں تدریسی زندگی کیسی رہی؟
جواب: ۱۹۸۰ میں باقاعدہ میری تقرری ہوئی ، ۱۹۸۷ میں ریڈر ہوا پھر ۱۹۹۱ میں پروفیسر بنا، اس دوران صدر شعبہ کی حیثیت سے میں نےجمہوری روش کو پروان چڑھایا، اچھی بات کوئی کہے خواہ وہ چھوٹا ہو ،یا بڑا ، اس کوسنا گیا اور اہمیت دی گئی ، علمی اعتبار سے میں نےبریلوی تحریک اور اہلحدیث تحریکات کو کورس کا حصہ بنایااور اس پر پی ایچ ڈی بھی کرائی۔پی ایچ ڈی کے معیار کو بلند کیا، اس میں شعبہ کے دیگر ساتھیوں کا بھر پور تعاون ملا۔جامعہ کا یہ شعبہ آج وقیع ترین شعبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔اس شعبہ کے فارغ التحصیل ملک میں موجود دیگر پانچ جامعات کے شعبہ ہائے اسلامک اسٹڈیز کےسربراہ ہیں، یہ جامعہ کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کے لیےقابل فخر بات ہے۔
سوال: اردو اکادمی کا وائس چیئر مین رہتے ہوئے آپ نے فروغ اردو زبان کے لیے کیا خدمات انجام دیں؟
جواب: شیلا دکشت جی،جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں ،ان کا میں شکریہ ادا کرتاہوں، ان کا میرے اوپر بڑا احسان ہے ، سب سے زیادہ مدت تک مجھے وائس چیئر مین رہنے کا زریں موقع ملا،انھوں نے مجھے یہ ذمہ داری سپرد کی اور میں نے اکادمی کے دیگر ذمہ داران ،کارکنان وممبران کے ساتھ مل جل کراسے بحسن وخوبی انجام دیا، جہاں تک فروغ اردوزبان کی بات ہے تو میں نے اردو کو وہاں تک پہنچایا ،جہاں سورج کی کرنیں نہیں پہنچ پاتیں ۔میں نے اردوکی تعلیم بالغان کےمراکز قائم کیے۔
سوال : اردوکا پروفیسر نہ ہونے کے باوجود آپ کو اردو کے عظیم ادارے کا سربراہ کیسے بنادیا گیا؟
جواب: دیکھیے میرا اردو سے پیشہ وارانہ رشتہ کبھی نہیں رہا، لیکن اردو سے میرا وہی رشتہ ہے جومیرا میری ماں کے دودھ کے ساتھ ہے، وہ میری مادری زبان ہے ، میں اپنے نطق کی ہر صدا کے لیے اس زبان کا شکر گزار ہوں۔
سوال : پدم شری سے نوازے گئے ، یہ بڑا اعزاز ہے، یہ اعزاز پاکر آپ نے کیسا محسوس کیا؟
جواب: ہاں ،ایوارڈ کوئی بھی ہو ، جس کو ملتا ہے ،اسےخوشی ہوتی ہے ، ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا۔البتہ میں حکومت ہند کا شکر گزار ہوں، یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ مجھے تین سرکاری عہدے یا عزت افزائی کا موقع ایک ہی شخص کے ذریعے ملا، پدم شری دینے والے بھی پرنب مکھرجی،حج ڈیلی گیشن میں جس میں میں بھی شامل تھا ،اس وقت وہ وزیر خارجہ تھے، کمشنر برائے لسانی اقلیات بھی انھی کے قلم سے بنا۔یہاں یہ بتادوں کہ جو کچھ بھی مجھے ملا ،وہ نہ میرا حق تھااورنہ میں نے اس کے لیے کوئی بھاگ دوڑ کی ، وہ سب کچھ اللہ رب العزت کی طرف سے وقت سے پہلے اور زیادہ مجھے ملا، اس کے لیے میں اس کا شکر گزار ہوں۔
سوال: کمشنر برائے لسانی اقلیات رہتے ہوئے کیا خدمات رہیں، خصوصاًاردو زبان کے فروغ کے تعلق سے کیا اقدامات کیے؟
جواب: دیکھیے ایسا ہے کہ ۱۹۵۷ کے بعد میں پہلا اردو والا تھا ، جسے اس منصب پر بٹھا یا گیا،مارچ ۲۰۱۴ میں ملک کے سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھر جی نے مجھے کمشنربرائے لسانی اقلیات بنایا، میں نے اس دوران نہ صرف اردوزبان کےلیے بلکہ ملک کی دیگر اقلیتوں کی زبانوں کو بھی فروغ دینے کی بھر پور کوشش کی اور پارلیمنٹ میں اسٹیٹس رپورٹ بھی پیش کی۔
سوال: علمی وفکری موضوعات پر آپ کی درجنوں تصنیفات وتالیفات منظر عام پر آچکی ہیں اور آپ ملک کے گنے چنے چند اہل قلم میں شمار ہوتے ہیں، بتائیں کہ آپ کے اندر تصنیفی وعلمی ذوق کس طرح پید اہوا، نیز ملکی وملی مسائل سے دلچسپی کا آغاز کس طرح ہوا؟
جواب: دیکھیے اس کی وجہ یہ ہے کہہ مولوی اسماعیل کی پانچوں کتابیں پڑھنے کے بعد بچپن میں ہی میرے اندرمطالعہ کا شوق پیدا ہوگیااور مجھے محلہ کے کھیل کود میں مشغول بچوں سے الگ رکھنے کے لیے میرے والدنے باہر نکلنے سے منع کردیا تھا ، نتیجہ یہ ہوا مجھے مطالعہ کے لیے اچھا خاصا وقت ملتارہا اور مطالعہ کی وجہ سے لکھنے کا بھی شوق پیدا ہوگیا۔ میرے گھر میں بھی پڑھنے لکھنے کا ماحول تھا، میرے والد شاعر تھے، ہمارے دادا تہذیبی اور ثقافتی زندگی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے،رہی بات ملکی وملی مسائل سے دلچسپی کی تو ۱۹۶۴ میں جمشید پور میں بھیانک فسادات ہوئے ، اس کےخلاف میں نے جب تقریر کی تو بعد میں پتہ چلا کہ میرے اوپر دو ایف آئی آردرج کی جاچکی ہیں۔اور ونوں مقدموں میں سزا ہوئی ، بعد ازاں جب علی گڑھ آیا تو یہاں اقلیتی کردار کی بازیابی کی تحریک میں پیش پیش رہا، کئی بارجیل گیااور آخری بار سات ماہ تک اپنے دوسرے دوستوں کے ساتھ بند رہا، اس میں آج کل کیرالہ کے گورنر عارف محمد خان جو اس وقت اسٹودینٹ یونین کے صدرتھے،وہ میرے ساتھ تھے ۔
سوال: اپنے ابتدائی دور کی سیاسی وملی تحریکوں کی کچھ تفصیل بیان فرمائیے، جن سے آپ نے اثرات قبول کیے؟
جواب: دیکھیےایسا ہے کہ بنیادی طور پر مجھے ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی صاحب سے سیاسی وملی تحریک ملی اور میں نے ان کے اثرات قبول کیے،میرا تعلق مسلم پرسنل لا بورڈ ، مسلم مجلس مشاورت سے بھی رہاہے۔سید شہاب الدین مرحوم نے مجھے مشاورت کا جنرل سیکریٹری بھی بنایاتھا۔
سوال: مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور میں بحیثیت سربراہ آپ کی کیا کارکردگی رہی، کچھ اہم تعلیمی واصلاحی اقدامات جو آپ نے کیے ہوں ؟
جواب : دیکھیے ایساہے کہ اس یونیورسٹی کی عمر صرف آٹھ سال کی ہے ، لیکن اب اے بلاک بن چکا ہے ، بی بلاک کا کام شروع ہے، اس کے بانیان عزم وحوصلہ کے پہاڑ ہیں، وہ گفتار کے غازی نہیں ،بلکہ کردار وعمل کے غازی ہیں، جوہمارا ہدف رہاہے ، اس میں ہمیں مکمل طور پر کامیابی ملی ہے،ہمارا ہدف ان طلبہ وطالبات کو پڑھنے کا موقع فراہم کرنا رہاہے، جن کے پاس نہ تو نمبر ہے اور نہ ہی پیسے۔ہم چاہتے ہیں ایسے لوگ سماج کے بوجھ نہ بنیں،اس لیے پیشہ وارانہ کورسیز شروع کیے جاچکے ہیں ۔آنے والے وقت میں مزید پروفیشنل کورسز شروع کیے جائیں گے۔اصل چیز یہاں کے ذمہ داران کا عزم وحوصلہ ،جذبۂ صادق، نیک نیتی اور اخلاص وللہیت ہے، اسی وجہ سے وہ کامیاب ہوتے چلےجارہے ہیں، مجھے اس بات پر فخر ہے کہ مجھے اس ادارے کی پانچ سال تک خدمت کرنے کا موقع ملا۔
سوال: موجودہ حالات ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ہر سطح پر خاصے نازک ہیں، ایسے میں آپ جیسے دانش ور انھیں کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: میں صرف ایک بات کہنا چاہوں گا کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں،مسلمانوں کو گھبرانانہیں چاہیے ، خود پہ بھروسہ اور خدا پربھروسہ رکھنا چاہیے، یہ خوب سمجھ لینا چاہیے کہ وہ قوم جو سانحۂ کربلا کے بعد زندہ رہی، جو سقوط بغداد کے بعد زندہ رہی،ہندوستان میں ۱۸۵۷، ۱۹۴۷، ۱۹۹۲ اور ۲۰۰۲ کے بعد زندہ رہی ،وہ آگے بھی زندہ رہے گی ان شاء اللہ۔دینے والے بنیے مانگنے والے نھیں، ایک آخری بات یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ مسلکی عناد وفساد میں نہ پڑیں ، ہر مسلک کو دین کے تابع کریں ، دین کو مسلک کے تابع کرنے پر اصرار نہ کر یں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*