ظالم سے مقابلہ جاری رہے گا، نوکری چھوٹی،مگر ہمت باقی ہے، ڈاکٹر کفیل خاں کا خصوصی انٹرویو

 

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

س:گورکھپور ٹریجڈی پر آپ کی کتاب کا رسپانس کیسا ہے؟
ج:بہت اچھا رسپانس ملا ہے۔ اگر کسی بک کی ایک مہینے میں 1000 کاپیاں نکل جائیں، تو اس کو ہٹ مانا جاتا ہے۔ میری اب تک 7000 ہزار کے قریب فروخت ہوچکی ہے۔ 17/دسمبر کودہلی میں جب سے ریلیز ہوئی اچھا رسپانس ملا ہے اور بیسٹ سیلر کی کیٹیگری میں آئی ہے۔ ہم نے دہلی میں لانچ کرنے کے بعد جے پور، راجستھان، کولکتہ، ویسٹ بنگال، رانچی، جھارکھنڈ، پٹنہ، مظفرپور، لکھنؤ، ترووننت پورم، کالی کٹ، کوچی اور کیرالا، پونے، ممبئی، ممبرا اور اب حیدرآبادمیں 27جنوری کو لانچ کررہے ہیں۔ 30 جنوری کو بنگلور میں لانچ کی جائے گی۔ میری کوشش ہے کہ یہ ہر زبان میں آئے اسی وجہ سے ہم نے ہندی اور اردو میں ٹرانسلیشن بھی کرالیا ہے؛ لیکن ابھی تک اردو کا کوئی پبلشر نہیں ملا ہے۔ تلنگانہ آہی رہا ہوں تو تلگو میں بھی اس کو شائع کیا جائے گا۔
س:آپ نے ظالم سے مقابلہ کیا، جو نقصان آپ کو ہوا اس پر آپ کو کوئی پچھتاوا؟
ج:نہیں کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ایک بھی زندگی بچالی جائے تو جنت کے دروازے آپ کے لئے کھل جاتے ہیں۔ تو خدا نخواستہ زندگی میں اگر ایسی کوئی ضرورت پڑی دوبارہ اور اگر کسی کی زندگی بچانی ہے تو پھر سے میں وہی کروں گا، مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔
س: اتنے سال کی محنت میں آپ نے کیا کھویا کیا پایا؟
ج: ہاں پایا بہت کچھ ہے۔ لوگوں کا پیار پایا ہے، لوگوں کی دعائیں پائی ہیں۔ آج انڈیا کے کسی بھی کونے میں جاتا ہوں تو لوگ مجھے گلے لگاتے ہیں، مجھے اپنے گھر بلاتے ہیں، عزت دیتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہی میری اتنے برسوں کی کمائی ہے اور دھیرے دھیرے ایک ڈاکٹر Activist بن گیا ہے۔
س: کانگریس سے آپ کی نزدیکی کا گورنمنٹ تبدیل ہونے کے بعد غلط اثر نہیں ہوگا؟
ج:میں صرف اتنا کہوں گا کہ پرینکا گاندھی جی نے جو مدد کی تھی، آپ کو یاد ہوگا کہ متھرا جیل سے میں قریب بارہ بجے رات میں نکلا تھا اور گورکھپور سے متھرا کی دوری قریب 800کلو میٹر ہے۔ جنگل راج جیسا ہے یوپی میں۔ میری بیوی اور امی جان ڈر رہی تھیں کہ راستہ میں کیا ہوگا۔ اسی وقت پرینکا گاندھی جی کا فون آگیا اور انہوں نے کہا کہ متھرا کے قریب ہی بھرت پور بارڈر ہے، جہاں پر کانگریس کی حکومت ہے، اگر آپ وہاں پہنچ جائیں تو ہم سیکوریٹی دے دیں گے۔ میں وہاں پہنچ گیا اور جب واپس آیا تو دہلی میں ان کے گھرجاکر انہوں نے جو مدد کی تھی، میں نے ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔ اگر حکومت بننے کے بعد اکھیلیش جی بھی آتے ہیں تو میرے ان سے اچھے روابط ہیں، انہوں نے ہمیشہ میری مدد کی ہے اور اکھیلیش جی کی ایسی پرسنالٹی نہیں ہے کہ کسی سے دشمنی رکھیں۔ اس طرح کا ان کا مزاج نہیں ہے۔ وہ اپنے گورننس پر دھیان دیتے ہیں۔ ان سے یہ امید ضرور رکھتا ہوں کہ جو میری نوکری ہے حکومت کے پاس وہ مجھے ضرور مل جائے گی اور میں اپنے ہاسپٹل پراجکٹ پر جو کام کررہا ہوں، ان شاء اللہ وہ کرلوں گا۔
س: یوگی نے جو ظلم ڈھایا، کیا 2022ء کے الیکشن میں اس کا حساب و کتاب ہوگا؟
ج: یوگی جی نے نہ صرف مجھ پر ظلم کیا ہے، بلکہ انہوں نے 25کروڑ جنتا پر ظلم کیا ہے۔ اترپردیش میں پانچ سال انہوں نے کچھ کیا نہیں ہے صرف انہوں نے نفرت پھیلائی ہے۔ صرف قبرستان، شمشان، علی، بجرنگ بلی، جناح اور اباجان کے نعرے لگائے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف میرے ساتھ بلکہ لاکھوں کروڑوں لوگوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ میری کہانی تو لوگوں تک پہنچ جاتی ہے، میں تو اپنے آپ کو خوش قسمت مانتا ہوں۔ ورنہ کتنے لوگ دس دس سال سے جیل میں ہیں، مظفرنگر میں جب سی اے اے این آر سی کا پروٹسٹ تھا تو اٹھارہ لوگوں کو گولی مار دی گئی، 8سالہ بچے کو گولی ماردی گئی۔ کتنے لوگوں کے گھر اُجاڑ دیے گئے۔ کتنے لوگ جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ہیں آپ کو پتہ نہیں ہے۔ اسی وجہ سے میں کہتاہوں کہ ناانصافی صرف میرے ساتھ نہیں ہوئی ہے اور جہاں تک حساب کتاب کرنے کی بات ہے تو ضرور ہوگا، بس دستورِ ہند کے تحت ووٹنگ دینے کا جو ہمیں حق ملا ہوا ہے اسی سے حساب کتاب ہوگا اور مارچ کے بعد یوگی جی وہی کام جو وہ کرتے پانچ سال پہلے وہ کرنے لگیں گے۔ ان کو اقتدار سے تو بے دخل کیا ہی جائے گا۔ باقی اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا اور جانتا ہے حساب کتاب تو وہی کرے گا، ہم لوگ تو معمولی انسان ہیں، اتنا ضرور ہے کہ یوگی جی کو حکومت سے اُترپردیش کی جنتا بے دخل کرنے و الی ہے۔
س: آپ کے ساتھ ناانصافی کا یوگی حکومت پر کوئی اثر؟
جی ہاں! بہت بڑا اثر پڑے گا۔ اور امپیکٹ کی یہ حالت ہے کہ آپ بھی دیکھ رہے ہوں گے کہ کس طرح سے نیتاؤں کو لوگ کھدیڑ رہے ہیں۔ یوگی جی نے بہت دم خم کے ساتھ ایودھیا نہیں‘ ابھی متھرا کاشی باقی کا نعرہ لگایا ہے لیکن جب وہ متھرا پہنچے تو متھرا کے لوگوں نے ہی کہہ دیا کہ وہ یوگی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ تو بھاگ کر پھر وہ ایودھیا پہنچے۔ ایودھیا کے پجاریوں پرینیتو اور کریش نے کہہ دیا کہ ہم ان کو ووٹ دیں گے ہی نہیں، ان کو ہرادیں گے۔ بی جے پی کو بھی اب لگنے لگا ہے کہ انہوں نے بہت بڑی غلطی کردی تھی یوگی کو سی ایم بناکر تو وہ اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ آپ کو بتادوں کہ پوسٹر اور بینر سے یوگی جی کو ہٹاکر مودی جی کے پوسٹرس لگائے جارہے ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ چناؤ کو مودی بنام اکھلیش کردیا جائے۔ تو اس کا بہت بڑا اثر پڑے گا۔ کتاب بھی ریلیز ہوچکی ہے اور یوپی میں گھر گھر پہنچ رہی ہے اور ہندی ورژن کرنے کی بھی کوشش ہے، اگلے مہینے تک ہندی میں انشاء اللہ آجائے گی۔ صرف ایک میں ہی نہیں، گورکھپور کے آس پاس کی جو 80خاندانوں سے اموات ہوئی ہیں، جس کسی گاؤں میں ایک بھی موت ہوئی ہے، اس گاؤں کے تمام لوگوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ یوگی کو ووٹ نہیں دیں گے اور صرف BRD کی بات نہیں ہے۔ اپریل/ مئی میں جب کورونا کی دوسری لہر آئی تھی‘ تو ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح سے لوگ مررہے تھے۔ اک اک چتا پر چار چار لاشوں کو جلانا پڑا۔ لوگوں کو اپنے ماں باپ کو ندیوں اور نالوں میں پھینکا پڑا۔ ندیاں بھی لاشوں کو ڈھو نہ سکیں، ان میں بھی لاشیں بہتی دیکھی گئیں اور قبرستان میں بھی لائنیں لگی ہوئی تھیں۔ بہت بدعنوانی اور بدانتظامی ہوئی ہے ہر ایک محاذ پر اس کے علاوہ بیروزگاری بہت زیادہ ہے۔ مہنگائی آسمان کو چھورہی ہے۔ پبلک ہیلتھ کی بہت بُری حالت ہے۔ لوگ اس وقت بہت غیض و غضب میں ہیں خاص طور پر دیہی علاقوں میں‘انشاء اللہ اس کا اثر ضرور پڑے گا۔
س: آپ گورکھپور سے نکل کر نہ صرف انڈیا میں ،بلکہ پوری دنیا میں ظلم کے خلاف مجاہد کے طور پر مشہور ہوچکے ہیں، اس سے آپ کے مستقبل پر کوئی اثر ہوگا؟
ج: انسان کو اپنا راستہ خود چننا چاہئے اور منزل کو اللہ کے اوپر چھوڑ دینی چاہئے۔ آپ کی بات ایک دم صحیح ہے کہ آج گورکھپور کے چھوٹے سے قصبے میں قید نہ رہ کر ساری ”باؤنڈریز“ کو توڑتے ہوئے انٹرنیشنل لیول پر پہنچ گیا ہوں اور میری اپنی جو مہم ہے ہیلتھ سے متعلق‘جسے حیدرآباد میں میڈیاپلس آڈیٹوریم سے ہی لانچ کیا تھا‘ آپ کو بھی یاد ہوگا۔ اب تک 13-14 چیف منسٹرس اور ہیلتھ منسٹرس کو بھی دے چکا ہوں۔ میری کوشش ہے کہ ”رائٹ ٹو ہیلتھ کیئر“ لوک سبھا،راجیہ سبھا سے پاس ہوکر ایک قانون بنے تاکہ کسی غریب اور کسی انڈین سٹیزن کا اس کے گھر کے آس پاس تین سے پانچ کلو میٹر کے اندر اچھا سے اچھا علاج ہو کم سے کم ایمرجنسی سروس ملے بلالحاظ مذہب، ذات، پات، رنگ و نسل میں اس پہ کام کررہا ہوں۔ اس کے علاوہ ہم نے ڈاکٹرس آن روڈ انسٹی ٹیوٹ چلایا تھا۔ جس کے ذریعے تقریباً 250میڈیکل کیمپ ہم لوگ کرچکے ہیں۔ اور ایک لاکھ سے زائد بچوں کا علاج ہم لوگوں نے فری کیا ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ ان سارے کاموں میں لوگوں نے بہت زیادہ مدد کی، مجھے اپنے پیسے خرچ نہیں کرنے پڑے۔ لوگ آکر دوا، تھرمامیٹر، آکسیجن کنسنٹیٹر، گلوس، سنیٹائزر دیتے رہے اور ہم یہ کام کرتے رہے اور آگے بھی کرتے رہیں گے۔
س: آپ کا ہاسپٹل پروجکٹ کہا ں تک پہنچا؟
ج: ہم نے پروجکٹ تو پورا بنالیا ہے۔ بروشر ہے، میں لے کر بھی آرہا ہوں‘ میں زمینیں تلاش رہا ہوں کہ کوئی حکومت مجھے کہیں زمین دے دے، اور کوشش ہے کہ نارتھ بیلٹ جہاں سے زیادہ ساؤتھ کے ہاسپٹلس کی اور پرائمری ہیلتھ سینٹرس کی حالت اچھی ہے لیکن جو یوپی، بہار، مدھیہ پردیش، راجستھان، ویسٹ بنگال، آسام، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ میں ایسی جگہیں ہیں جہاں پر گاؤں میں چلے جایئے تو ایک ایک ڈاکٹر کے اوپر 51ہزار مریضوں کی ذمہ داری ہے۔ اور پرائمری ہیلتھ سنٹر جو ٹوٹا ہوا ہے تو میری کوشش ہے کہ ہاسپٹل وہیں پہ بناؤں۔ ابھی تک کسی حکومت نے کوئی وعدہ نہیں کیا ہے اور نہ کسی این جی او نے جس کی وجہ سے وہ ادھورا ہے۔ کہتے ہیں کہ کام کرتے رہنا چاہئے، مجھے امید ہے کہ مجھے جلد ہی کوئی نہ کوئی ایسا ملے گا جو ہماری مدد کرے گا۔ میں لوگوں سے اپیل کروں گا حیدرآباد اور پورے تلنگانہ اور آندھراپردیش کے جو اچھے لوگ ہیں کہ اس کام میں حصہ لیں، یہ ہاسپٹلس چیرٹیبل ہاسپٹل ہوگا اور اس میں ورلڈ کلاس فیسلیٹی میں دینا چاہتا ہوں۔ غریب لوگوں کی جو ضرورتیں ہے‘ بیچارے جو نہیں جاسکتے ہیں ہم ان کے گھر کے پاس طبی سہولتیں دے سکیں۔ اس میں آپ سب کی مدد کی ضرورت ہوگی۔
س: حیدرآباد یا تلنگانہ سے آپ کی امید کیا ہے؟
ج: یہاں مجھے بہت زیادہ پیار ملا ہے اور پورے تلنگانہ، آندھراپردیش، کیرلا، کرناٹک اتنے لوگوں کا پیار ملا ہے۔ لوگوں نے میری کہانی کو سنا، میں جب جیل میں تھا تو انصاف کے لئے لوگوں نے آواز بہت اٹھائی ہے تو ایک وجہ یہی بھی ہے میری کہانی ان تک پہنچے اس لئے میں بک وہاں لانچ کررہا ہوں اور امید یہی ہے کہ ہاسپٹل کا جو میرا پروجکٹ ہے، میری لیگل فائٹ ہے اور جدوجہد ہے اور آگے بھی بہت پریشانی آنے والی ہے مجھے پتہ ہے‘ تو مجھے مدد کی ضرورت ہوگی۔ آپ کے ذریعہ میں لوگوں سے اپیل کرنا چاہوں گا کہ جو محبت اور پیار آپ نے دیا ہے وہ بنائے رکھئے گا اور ہوسکے تو میرے پروجکٹ اور ہاسپٹل اور باقی چیزوں میں میری مدد کیجئے گا۔
س: موجودہ سیاسی حالات پر آپ کی رائے ؟
ج: موجودہ حالات میں اتنی کوشش ضرور کروں گا کہ بی جے پی حکومت یوپی میں دوبارہ نہ آئے اور 2024 میں مودی جی گھر واپس جائیں جھولا اٹھاکے۔ دیکھئے! مودی جی اور یوگی جی سے میری اپنی کوئی مخالفت نہیں ہے۔ میری مخالفت ان کی آئیڈیالوجی سے ہے جو انسان کو انسان میں بانٹتی ہے۔ اور لوگوں میں نفرت پیدا کرتی ہے، کاسٹ اور ریلیجن‘ ساؤتھ انڈیا اور نارتھ انڈیا کے درمیان‘ کالے اور گورے ہیں‘ مسلم ہیں ہندو ہیں اور دلت ہیں پنڈت ہیں‘ یہ پالیٹکس ہوتی ہے۔
مذہب ہمارا ذاتی معاملہ ہے۔ اللہ پر میرا ایمان ہے‘ یہ میرا شخصی معاملہ ہے۔ مذہب اورذات پات کی بنیاد پر میں دوسروں سے امتیاز نہیں کرسکتا۔
تو یہ میری کوشش ہے کہ یہ جو نفرتی حکومت ہے وہ ختم ہو‘ وہ ہٹے دستوری طریقے سے۔ اور اگر ضرورت پڑے گی تو ہم سیاست میں بھی آئیں گے۔ میں یوگی کے خلاف مقابلہ کے لئے تیار ہوں۔ انشاء اللہ
یوگی حکومت کے پانچ سال میں پانچ سو دن جیل میں رہا ہوں۔ تین بار جیل بھیجا ہے اترپردیش حکومت نے۔ بھائی کو گولی وہاں ماری گئی جہاں چیف منسٹر خود موجود تھے۔ ایک جوائنٹ فیملی تھی‘ ایک اچھی فیملی سے تعلق ہے اَپر مڈل کلاس سے۔ پریوار بکھر گیا۔ ایک بھائی ابھی گورکھپور میں ہے‘ ایک بھائی لکھنؤ میں ہے۔ میں پورا انڈیا گھوم رہا ہوں۔ معاشی دیوالیہ ہوگیا۔ حالت یہ ہوگئی کہ لیگل لڑائی لڑتے لڑتے امی جان، بیوی سب کے زیور گروی رکھنے پڑے۔ کار بیچنی پڑی، زمین بیچنی پڑی۔زندگی نے بہت کچھ الٹ پھیر کئے۔ کورونا کے وقت لوگ کہتے تھے کہ کسی بھی 65سال کی عمر کے لوگوں کو گھر سے باہر نکلنا نہیں چاہئے، اس وقت میری امی جان علی گڑھ اور الہ آباد ہائی کورٹ کے چکر لگارہی تھیں۔8لوگوں کو جیل ہوئی جس میں 7لوگوں کو نوکری دے دی گئی اور مجھے انکوائری میں کلین چٹ ملنے کے بعد ہائی کورٹ کے سکینڈ سسپنشن پہ اسٹے لگانے کے بعد بھی مجھے یوپی چناؤ کے ایک مہینے پہلے برخاست کردیا گیا ہے اور یوگی جی نے جو سب سے زیادہ درد دیا ہے ان پانچ سال میں وہ یہ کہ مجھے اپنے ہی بچوں سے دور کردیا۔ میری شادی کو سات سال ہوگئے جبکہ پانچ سال ایسے ہی گزر گئے۔ تو سب کچھ بکھر گیا۔ نوکری چلی گئی، امی جان،بیوی، اپنے بچوں، اپنے بھائیوں اپنی بہنوں سب کا گنہگار ہوں۔ لیکن ہاں! بہت کچھ پایا بھی ہے۔ جب میں جیل میں تھا تو 9مہینے کوئی مجھے ملنے بھی نہیں آیا۔ اور جب جیل سے باہر آیا تو 9مہینوں کے بعد ہزاروں کی بھیڑ تھی۔ اور پھر دھیرے دھیرے نہ صرف انڈیا سے بلکہ پوری دنیا سے لوگوں نے دعائیں کیں، کال کیا۔ زندگی نے دیا بھی بہت ہے۔ بہت لوگوں کا پیار ملا۔ ایک ایسا ڈاکٹر تھا جو 2017ء سے پہلے ہاسپٹل جاتا تھا اور میڈیکل کالج‘ گھر آکر اپنی زندگی چلتی تھی بس، یہی زندگی تھی۔پتاہی نہیں تھا کہ کون ہے اخلاق، یا ونود کماریا کیوں گوری لنکیش کو مار دیا گیا؟ روہت ویمیلا کو کیوں خود کشی کرنی پڑی؟ ان کا قصور کیا تھا؟ دھرم کے نام پر ریلجن کے نام پر اتنی نفرت کیوں پھیلی ہوئی ہے؟ زندگی میں پڑھائی بہت کی۔ کتابیں بہت پڑھیں۔ پھر دھیرے دھیرے احساس ہوا کہ اگر اچھا کام کرنے کے بعد بھی اچھی ڈگری لینے کے بعد بھی اچھی پڑھائی کرنے کے باوجود اچھی فیملی سے تعلق کے باوجودبھی ظلم سہنا پڑرہا ہے تو ان کا کیا ہوگا جو بیچارے غریب ہوں گے اورمظلوم ہوں گے، جن کی آواز سننے والا کوئی نہیں ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*