عجب قیامت کا حادثہ ہے کہ اشک ہے، آستیں نہیں ہے ـ عامر منظور

زمین کی رونق چلی گئی ہے،اُفق پہ مہر مبین نہیں
تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے
مگر تری مرگِ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے

یہ اشعار شورش کاشمیری نے مولانا ابو الکلام آزاد کے سانحۂ وفات پر کہے تھے اور حال میں کچھ یوں ہوا جس کا بیان کرنا اشک بہائے بغیر ممکن ہی نہیں۔ ابھی مولانا قاسم صاحب مادھو پور مظفرپور کے سانحۂ وفات کا زخم تازہ ہی تھا کہ مولانا امین اشرف صاحب قاسمی مادھو پور سیتا مڑھی کے حادثۂ ارتحال نے دلوں پر بجلی گرادی۔ اس الم ناک خبر نے دل ودماغ کو ہر دوسرے موضوع سے بے گانہ کر دیا۔ ہر جانے والا اپنے پیچھے ایسا مہیب خلا چھوڑ کر جارہا ہے کہ اس کے پُر ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ جہاں تک علم کے حروف ونقوش، کتابی معلومات اور فن کا تعلق ہے اس کے ماہرین کی تو کوئی کمی نہیں، لیکن دین کا ٹھیٹھ مزاج ومذاق اور تقویٰ وطہارت، سادگی وقناعت اور تواضع وللہیت کا البیلا انداز، جو کتابوں سے نہیں، بلکہ صرف اور صرف بزرگوں کی صحبت سے حاصل ہوتا ہے، دھیرے ھیرے ختم ہو رہا ہے۔
سرکاردوجہاں کا فرمان کس قدر جامع اور سچا ہے کہ ایک عالم دین کی موت پورے عالم کی موت ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث شریفہ کے عظیم خادم، علوم نبویّہ کے حقیقی وارث اور ایشیا کے ممتاز عالم دین مولانا قاسم صاحب مظفرپور ی نور اللہ مرقدہ ایک تھکے ماندے مسافر کی طرح خاموشی سے دائمی نیند سوگئے ۔ جب پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو موت آکر رہی تو پھر دوسرے کی کیا بات! موت تو مہربان رب کے دیدار کا ایک ذریعہ ہے؛اگر آدمی کا انتقال نہ ہو تو اپنے رحیم وکریم رب کا دیدار کیسے کرے گا! یہی تو وجہ تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے موت کو پسند فرماکر، اپنے منبر سے اپنی موت کا یوں اشارہ دیا: (إنَّ عَبْدًا خَیَّرَہُ اللَّہُ بَیْنَ أَنْ یُؤْتِیَہُ مِنْ زَہْرَةِ الدُّنْیَا مَا شَاءَ، وَبَیْنَ مَا عِنْدَہُ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَہُ“․ فَبَکَی أَبُو بَکْرٍ وَقَالَ:فَدَیْنَاکَ بِآبَائِنَا وَأُمَّہَاتِنَا)ترجمہ:اللہ تعالی نے ایک بندے کو اس کے درمیان اختیار دیا ہے کہ اللہ تعالی ان کو دنیا کی رونق دیں، جتنی وہ چاہے اوران (نعمتوں )کے درمیان جو اللہ تعالی کے پاس ہے؛لہٰذا اس بندے نے ان (نعمتوں) کو اختیار کیا جو اللہ تعالی کے پاس ہیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ (سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے موت کو پسند کیا؛لہٰذا ) رونے لگے اور فرمایا:آپ پر ہم اپنے ماں باپ قربان کرتے ہیں۔

قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے: (کُلّ نَفْس ذَائِقَة الْمَوْت) ہرجان دار کو موت کا مزہ چکھنا ہے؛ چناں چہ سب کے سب انبیا ورسل، صحابہ وتابعین اوراولیا وصلحا کو اس جہان سے کوچ کرنا پڑا۔ ہم سب کو بھی ایک دن جانا ہوگا۔ حضرت قاضی صاحب نور اللہ مرقدہ بھی اپنے مقررہ وقت پر، پاک پروردگار کے حکم کا اتباع کرتے ہوئے اس جہاں سے کوچ کرگئے۔ اللہ تعالی جنّت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے،اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ـ

مولانا قاسم صاحب مظفر پور ی ایسی شخصیت تھے کہ جس کے شجر سایہ دار تلے پہنچ کر ہر کس وناکس راحت وسکون محسوس کرتا تھاـ

مولانا مرحوم کی شخصیت پورے ہندوستان خصوصاً بہار کے لیے دل نواز،حیات افروز اور ایسی باغ وبہار تھی کہ جس کی خصوصیات کو ایک مختصر تحریر میں سمونا مشکل ہے ۔ ہر فن میں الله تعالیٰ نے انہیں ایک خاص ملکہ عطا فرمایا تھا۔ علم حدیث وفقہ ان کا خاص موضوع تھا۔ اس فن میں پورے بہار میں بے مثال تھے۔ ہر فن کی معلومات کا خزانہ تھے۔ ان کے سامنے بڑے بڑے علما مثل چراغ بن جاتے تھے۔
میری ملاقات قاضی صاحب سے مولانا عبد الحنان صاحب نور اللہ مرقدہ بانی دارالعلوم بالاساتھ کے انتقال کے موقع پر جب قاضی صاحب نماز جنازہ میں شرکت کیلئے تشریف لائے تو ہو ئی اور میرا تعارف اس وقت کے دارالعلوم بالاساتھ کے ناظم صاحب نوراللہ مرقدہ نے کرایا کہ یہ طالب علم مولانا نور عالم خلیل امینی، استاذ دارالعلوم دیوبند کے بھتیجے ہیں ـ قاضی صاحب اتنا سننے کے بعد فوراً ہاتھ پکڑ کر بیٹھنے کو کہا اور فرمانے لگے کہ منظور بھائی کے بیٹے ہو؟میں نے کہا جی، اس کے بعد جب بھی دارالعلوم بالاساتھ تشریف لاتے تو ناظم صاحب سے کہلوا کر بلاتے اور فرماتے مولانا نور عالم صاحب سے بات ہوگی تو میرا سلام پیش کرناـ واقعی قاضی صاحب بے مثال شخصیت تھےـ اللہ آپ کے درجات بلند فرمائے آمین ـ
ابھی قاضی صاحب کے جدائی کا صدمہ اور بوجھ ہلکا بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک اور ہمارے علاقے کی مشہور تاریخ ساز شخصیت مولانا امین اشرف صاحب سفر آخرت فرما گئے ـ امین اشرف صاحب نوراللہ مرقدہ خوب صورت ، درمیانہ قد ،سفید ریش بزرگ تھے۔ کوئی اگر آپ کو دیکھتا تو آنکھ ہٹانے کو اس کا دل نہ چاہتا، چہرے سے نورانیت ٹپکتی تھی، داڑھی پوری سنت کے مطابق تھی۔ ان کا چہرہ بارعب تھا۔ غصے کے وقت ان کے چہرے پر جلال کی ایک کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ با ت کرتے تو ہر کوئی ان کی گفتگو سے ان کا گرویدہ ہو جاتا۔ صاف صاف الفاظ میں گفتگو فرماتے، جس سے کوئی بھی ان کی بات سمجھے بغیر نہ رہتاـ الله تعالیٰ نے جو خطابت کا ملکہ عطا فرمایا تھا، وہ شاذ ونادر ہی کسی کو نصیب ہوتا ہے، اتنی بے ساختہ ، سلیس، رواں اور شگفتہ گفتگو کرتے کہ ان کے فقرے فقرے پر ذوق سلیم کوحظ ملتا ۔ ان میں قدیم وجدید اسالیب اس طرح سے جمع ہو کر یک جان ہو گئے تھے کہ سننے والا جزالت اور سلاست دونوں کا لطف ساتھ ساتھ محسوس کرتا ـ میں اکثر جمعہ کے دن مادھو پور اپنے ایک دوست کے گھر جاتا تھا،جو مولانا امین اشرف صاحب نوراللہ مرقدہ کے پڑوسی ہیں ـ اگر مولانا مرحوم صاحب گاؤں میں ہوتے تو کھانے پر بلاتے اور عمدہ نصیحت فرماتے اور گھر کا احوال دریافت کر تے، مخلصانہ دعاؤں سے نواز تےـ

آئے عشّاق، گئےوعدہٴفردا لے کرا
اب انھیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبالے کر

اس دارِ فانی میں جو بھی آیا ہے اسے ایک نہ ایک دن کوچ کرنا ہی ہے،لیکن کچھ لوگوں کے انتقال سے ایک مہیب خلا پیدا ہوجاتا ہے اور گرد و پیش میں تاریکی چھا جاتی ہےـ مولانا امین اشرف صاحب نوراللہ مرقدہ کی وفاتِ حسرت آیات یقینا اسی زمرے میں ہے اور اس سے پورے عالم اسلام اور بالخصوص بہار کے دینی و علمی اور سماجی حلقے میں جو خلا پیدا ہوا ہے،اس کے پُر ہونے کی بظاہر کوئی صورت دُور دُور تک نظر نہیں آتی ـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*