Home ستاروں کےدرمیاں پروفیسر فاروق احمد صدیقی اور عظیم آباد کی ایک یادگار تقریب-ریحان غنی

پروفیسر فاروق احمد صدیقی اور عظیم آباد کی ایک یادگار تقریب-ریحان غنی

by قندیل

کچھ شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں جو دلوں میں گھر کر جاتی ہیں۔ انہی میں پروفیسر فاروق احمد صدیقی بھی ہیں ۔ ان سے میری پہلی باضابطہ ملاقات تقریبآ ایک دہائی قبل غالباً مئی 2008 کو مغربی چمپارن ضلع کے والمیکی نگر میں ایک سیمینار میں ہوئی تھی۔ یہ پروگرام میرے درینہ دوست ڈاکٹر شکیل معین نے ادبی تنظیم” ہم نشیں” کے زیرِ اہتمام منعقد کیا تھا جس کے وہ صدر ہیں اور معتبر افسانہ نگار اور شاعر محترم جناب شفیع مشہدی اس کے سرپرست ہیں ۔ جنرل سکریٹری کی ذمہ داری مجھے ملی ہوئی ہے۔ یہ سمینار” دوہا” پر ہوا تھا ۔اس میں پٹنہ سے پٹنہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس نیر حسین ، مظفر پور سے پروفیسر فاروق احمد صدیقی ، دلی سے ڈاکٹر انور پاشا اور کئی دوسرے دانشوران علم وادب شریک ہوئے تھے ۔ یہ دو روزہ سمینار تھا جو نیپال کی سرحد پر والمیکی نگر کے پر فضا مقام پر منعقد ہوا تھا ۔ اس سمینار میں میزبان کی حیثیت سے میری بھی شرکت ہوئی تھی۔ اس موقع پر سیمینار اور پھر کھانے کے دوران پروفیسر فاروق احمد صدیقی سے میرے جو مراسم ہوئے وہ ایک دہائی گذرنے کے باوجود اللہ کا شکر ہے آج بھی نہ صرف برقرار ہیں بلکہ مستحکم ہوئے ہیں ۔اس رشتے کے استحکام کی بنیادی وجہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پاسداری ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کسی کو بھی آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے دلی لگاؤ اور محبت ہوگی اس سے اللہ کے بندے بھی محبت کریں گے۔ اس پس منظر میں والمیکی نگر کا ایک واقعہ سن لیجیے ۔ یہ واقعہ میں تفصیل سے بہت پہلے قلمبند کر چکا ہوں اور یہ اخبار میں شائع بھی ہو چکا ہے ۔واقعہ یہ ہے کہ ہم لوگ سیمینار کا سیشن ختم ہونے کے بعد کھانا کھا رہے تھے۔ میرے ٹھیک سامنے محترم پروفیسر فاروق احمد صدیقی بیٹھے تھے ۔ کھانے کے دوران ان کے ہاتھ سے لقمہ گر گیا ۔ انہوں نے اسے اٹھا کر کھا لیا ۔ میں ان کی اس ادا سے بہت متاثر ہوا۔بات آئی گئی ہوگئی ۔ کسی نے اس کانوٹس لیا یا نہیں مجھے نہیں معلوم ۔لیکن مجھے پروفیسر فاروق احمد صدیقی کی یہ ادا بہت پسند آئی اور اچانک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور صحابی حضرت حذیفہ بن یمان کا ایک واقعہ یاد آ گیا اور میں سوچنے لگا کہ سیرت النبی اور حدیث پر پروفیسر فاروق احمد صدیقی کی اگر گہری نگاہ نہ ہوتی تو وہ گرے ہوئے لقمے کو اٹھا کر نہ کھاتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت پر عمل کرنے سےمحروم رہ جاتے ۔ اس تعلق سے میری جو تحریر شائع ہوئی وہ ان سے مزید قربت کی وجہ بنی۔ پروفیسر فاروق احمد صدیقی کا یہ عمل فاتح ایران حضرت حذیفہ بن یمان کے ایک واقعہ کی عکاسی کر رہا تھا ۔ حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسولِ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب لقمہ گر جائے تو اسے جھاڑ کر کھا لو۔روایت ہے کہ جب ایران میں کسریٰ پر حملہ کیا گیا تو اس نے مذاکرات کے لیے حضرت حذیفہ رضی آللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے دربار میں بلایا ۔آپ وہاں تشریف لے گئے ۔جب وہاں پہنچے تو تواضع کے طور پر پہلے ان کے سامنے کھانا لا کر رکھا گیا ۔آپ نے کھانا شروع کیا ۔کھانے کے دوران آپ کے ہاتھ سے ایک نوالہ نیچے گر گیا ۔ انہیں اس کے تعلق سے ایک حدیث یاد آئی اور آپ نے اس نوالے کو اٹھانے کے لیے نیچے ہاتھ بڑھایا ۔ آپ کے برابر ایک صاحب بیٹھے تھے ۔انہوں نے حضرت حذیفہ کو کہنی مار کر اشارہ کیا اور کہاکہ یہ کیا کر رہے ہیں ۔ یہ تو دنیا کی سوپر طاقت کسریٰ کا دربار ہے۔اگر تم اس دربار میں زمین پر گرا ہوا نوالہ اٹھا کر کھاؤ گے تو ان لوگوں کے ذہن میں تمہاری وقعت نہیں رہے گی اور یہ کہیں گے کہ یہ کیسے لوگ ہیں ۔ اس لیے یہ نوالہ آٹھا کر کھانے کا موقع نہیں ہے۔ آج اس کو چھوڑ دو۔ یہ سن کر حضرت حذیفہ نے بر جستہ جواب دیا ” کیا میں ان احمقوں کی وجہ سے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت چھوڑ دوں”۔ اور گرا ہوا نوالہ اٹھا کر کھا لیا ۔ اس پس منظر میں پروفیسر فاروق احمد صدیقی کے اس عمل نے مجھے بہت متاثر کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وسیلے سے مجھے ان سےبہت قربت ہو گئی۔حقیقت یہ ہے جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت ہو گی اس سے ہر کوئی محبت کرے گا ۔ یہ ان سے میری قربت کی مختصر کہانی ہے ۔

اسی سال غالباً فروری کی کسی تاریخ کو پروفیسر فاروق احمد صدیقی کا فون آیا اور انہوں نے یہ خوشخبری سنائی کہ ان کی شخصیت اور فن کے تعلق سے ایک کتاب چھپ کر آ چکی ہے اور مارچ کی کسی تاریخ کو پٹنہ میں اس کا اجرا ہو گا ۔اس کے کچھ دنوں بعد برادر ڈآکٹر اسلم جاوداں نے فون کر کے اطلاع دی کہ 10مارچ کو بہار اُردو اکادمی کے سمینار ہال میں اردو کونسل ہند مشہورِ شاعر ، ادیب و نقاد اور بی آر اے امبیدکر بہار یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہ اردو پروفیسر فاروق احمد صدیقی کے اعزاز میں ایک "محفل اعتراف ” منعقد کرنے جا رہی ہے جس میں ان پر ترتیب دی ہوئی کتاب ” پروفیسر فاروق احمد صدیقی: شخصیت اور فن ” کی رونمائی بھی ہوگی ۔اس کے مرتب ڈاکٹر غلام جابر شمس پورنوی ( بانی و صدر نالج سیٹی ،کشن گنج)ہیں۔ اس اطلاع کے فوراََ بعد محترم فاروق احمد صدیقی صاحب نے یہ کتاب مجھے میرے بیٹے کامران غنی صبا کے توسط سے عنایت فرمائی۔ اس کتاب پر گفتگو کا ابھی موقع نہیں۔ لیکن اتنا ضرور عرض کروں گا کہ یہ کتاب بہت محنت سے ترتیب دی گئی ہے اور اس کی ایک دستاویزی حیثیت ہے۔ 280 صفحات پر مشتمل اس کتاب کے مطالعہ سے پروفیسر فاروق احمد صدیقی کی شخصیت اور ان کی شعری اور ادبی خدمات کو اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے ۔

عظیم آباد میں ویسے تو ادبی محفلیں اکثر آراستہ ہوتی رہتی ہیں لیکن اس طرح کی محفل سجانے میں بزرگ شاعر اور رمز عظیم آبادی کے شاگرد حضرت معین کوثر کی "بزم دوستاں” اور ڈاکٹر اسلم جاوداں کی "اردو کونسل ہند” کو مہارت حاصل ہے۔ ایسی ہی ایک شاندار اور جاندار محفل 10 مارچ 2024 کو ڈاکٹر اسلم جاوداں نے بہار اردو اکادمی کے سمینار ہال میں سجا ئی ۔ اس میں عظیم آباد کے تقریبآ سبھی قابل ذکر دانشوران علم و ادب اور علماء و مشائخ موجود تھے۔ ان سب نے پروفیسر فاروق احمد صدیقی کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر جس طرح روشنی ڈالی اور ان کی ادبی خدمات کا جس خلوص کے ساتھ اعتراف کیا اس کی نظیر ماضی قریب میں نہیں ملتی۔ علمی اور ادبی حلقوں میں اس کی باز گشت آج بھی سنی جارہی ہے اور عرصے تک سنی جاتی رہے گی ۔ ہر چند کہ اس پروگرام کی تفصیلات مقامی اخبارات میں شائع ہو چکی ہیں لیکن یہاں یہ بات خاص طور پر قا بل ذکر ہے کہ اس تاریخ ساز محفل میں ایسی ایسی شخصیتیں سامعین کی صف میں پوری دل جمعی کے ساتھ بیٹھی ہوئی نظر آئیں جو ڈائیس کی زینت بنتی ہیں ۔ محفل اعتراف کی صدارت اردو کونسل ہند کے صدر جناب شمائل نبی نے کی اور نظامت کا فریضہ ناظم اعلیٰ ڈاکٹر اسلم جاوداں نے انجام دیا۔محترم شمائل نبی نہ صرف بزرگ اور تجربہ کار سیاسی رہنما ہیں بلکہ ایک زمانے میں وہ اردو تحریک کے سپہ سالار بھی رہ چکے ہیں۔ ایک عرصے کے بعد کسی عوامی اور ادبی محفل میں ان کی موجودگی سے منتظمین کو کافی حوصلہ ملا ۔ تقریب سے خطاب کرنے والوں میں اردو مشاورتی کمیٹی کے سابق چیئرمین شفیع مشہدی ، خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ پٹنہ سیٹی کے سجادہ نشین ڈاکٹر سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی ، بہار پبلک سروس کمیشن کے سابق چیئرمین امتیاز احمد کریمی ، مشہور ادیب اور شاعر پروفیسر علیم اللہ حالی ، کثیر الاشاعت اخبار قومی تنظیم کے مدیر اعلیٰ اور اردو ایکشن کمیٹی بہار کے صدر جناب ایس ایم اشرف فرید ،مشہور خطیب اور قاضی شریعتِ ڈاکٹر مفتی امجد رضا امجد، ماہر تعلیم اور آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت بہار چیپٹر کے صدر پروفیسر ابوذر کمال الدین ، ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی کے پروفیسر انور پاشا ، مجاہد اردو اور کاروان ادب حاجی پور کے جنرل سکریٹری جناب انوار الحسن وسطوی،کالج آف کامرس آرٹس اینڈ سائنس کے صدر شعبہ اردو اور صدف انٹر نیشنل کے ڈائرکٹر صفدر امام قادری ، بہار اردو اکادمی کے سابق وائس چیئرمین ڈاکٹر عبد الواحد انصاری، سابق ایم ایل اے ڈاکٹر اظہار احمد ،گورنمنٹ اردو لائبریری کے چیئرمین جناب ارشد فیروز ، بہار اردو اکادمی کے سابق سکریٹری اور افسانہ نگار مشتاق احمد نوری ،مشہور علم دین اور مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کے سابق پرنسپل مولانا ابوالکلام قاسمی،کئی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر نسیم اختر ، مشہور خطیب ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی ، ڈاکٹر قمر ثاقب خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔تقریب کا افتتاح معروف اسلامی اسکالر اور خانقاہ منعمیہ قمریہ میتن گھاٹ ،پٹنہ سیٹی کے سجادہ نشیں پروفیسر سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی نے شمع روشن کر کے کیا ۔ اس موقعے پر مہمان خصوصی پروفیسر فاروق احمد صدیقی کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اردو کونسل ہند کی جانب سے جناب شمائل نبی کے دست خاص سے شال پوشی کی گئی اور توصیفی سند و میمنٹو پیش کیا گیا ۔پروگرام میں سب سے پہلے ڈاکٹر نسیم اختر نے کتاب کا بہت عمدہ تعارف پیش کیااور ہزاری باغ سے تشریف لائے ونوبا بھاوے یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر ہمایوں اشرف نے کتاب کے حوالے سے پروفیسر فاروق احمد صدیقی کی ادبی جہات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر فاروق صدیقی نے اردو کونسل ہند اور ڈاکٹر اسلم جاوداں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ اعزاز انہیں اور بہتر کارکردگی کے لیے حوصلہ دے رہا ہے ۔ اردو کونسل کے ناظم ڈاکٹر انوار الہدی نے بھی فاروق احمد صدیقی کو ایک ادب پرور اور ادب نواز ز شخصیت قرار دیا اور سبھی مہمانوں اور ہال میں کثیر تعداد میں موجود سامعین کا کونسل کی جانب سے شکریہ ادا کیا ۔

تقریب میں اردو ایکشنن کمیٹی بہار کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر اشرف النبی قیصر ، حاجی پور سے سید مصباح الدین احمد ،عظیم الدین انصاری ،ڈاکٹر عارف حسن وسطوی ، مظفر پور سے ڈاکٹر جلال اصغر فریدی ، اُردو ایکشن کمیٹی بہار کے رکن شاہ فیض الرحمن ،ظفر صدیقی ،پرویز انچم، ڈاکٹر عشرت صبوحی ، ڈاکٹر آفتاب النبی، ڈاکٹر آصف سلیم،سمیت کثیر تعداد میں اہل ذوق حضرات نے شرکت کر کے محفل کو رونق بخشی اور پروفیسر فاروق احمد صدیقی کو پر خلوص خراج تحسین پیش کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پروفیسر فاروق احمد صدیقی ان معنوں میں بہت خوش قسمت ہیں کہ عظیم آباد کی تاریخی سر زمین پر منعقد کی گئی تاریخ ساز ادبی محفل میں دانشوران علم و ادب اور علماء و مشائخ جب ان کی شخصیت اور فن پر گفتگو کر رہے تھے تو وہ خود بھی اس محفل میں موجود تھے۔ اس کے لیے میں انہیں ، ان کے اہل خانہ ،اردو کونسل ہند کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر اسلم جاوداں اور ان کے رفقا کو صمیم قلب سے مبارک باد دیتا ہوں اور شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے بھی اس یادگار محفل کاحصہ بنایا ۔

You may also like