میں تو مسلمان ہوں -توصیف القاسمی 

 

موبائل نمبر 8860931450

صغیر بھائی کوکن (ممبئی) والے کا فون آیا ، علیک سلیک کے بعد انہوں نے بڑی عزت و احترام اور پیشگی معافی کے ساتھ سوال کیا کہ آپ کا مسلک و فرقہ کیا ہے ؟ راقم نے جواب دیا کہ میں مسلمان ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان تو سب ہی ہیں ، پھر بھی آپ کا فرقہ کیا ہے ۔ راقم نے کہا اگر آپ ایک لاکھ مرتبہ بھی مذکورہ سوال دہرائیں گے تو راقم کا ہر مرتبہ یہ ہی جواب ہوگا کہ ”میں مسلمان ہوں“ ۔ انہوں نے بتلایا دراصل میرا وقت تبلیغی جماعت میں لگا ہے اور میں نے دینی کتابوں و اسلامی اسکالروں کا مطالعہ بھی کیا ہے ، میں بہت پریشان ہوں کہ میں کس فرقے کو اختیار کروں ؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اپنی زندگی لے کر اللہ کے حضور جاؤں اور میری وابستگی ”فرقۂ غیر ناجیہ“ سے ہو اور میں جہنم میں پھینک دیا جاؤں ۔ یہ ایک بھیانک صورت حال ہے کہ ہم نے دین اسلام کو فرقوں اور مسلکوں کی شکل میں بیان کیا ہے اور پھر ہر مسلک کے علماء ، قرآن وحدیث سے مناظرے بازی کر کے اپنے فرقے کو جنتی اور دوسرے کو جہنمی کہتے ہیں ۔ مناظروں و مباحثوں سے جو دین وجود میں آتا ہے اس میں کہیں بھی الدین النصیحۃ (دین خیر خواہی کا نام ہے) الدین یسر(دین آسان ہے)من قال لا الہ الااللہ دخل الجنۃ(ہر کلمہ گو داخل جنت ہوگا) والا فلسفہ نظر نہیں آتا ۔ ایسے میں ایک سادہ لوح مسلمان کے لئے بڑی پریشانی کھڑی ہو جاتی ہے کہ وہ کیا کرے ؟ یہ بھیانک صورت حال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اگر کوئی شخص مسلک و فرقہ کو نظر انداز کر کے اپنے آپ کو صرف ”مسلمان“ کہے، تو اس کی معتبریت سوالوں کے گھیرے میں آجاتی ہے اور ناممکن سمجھا جانے لگا کہ کوئی مسلمان ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا کوئی مسلک و فرقہ ہی نہ ہو اور بعض متشدد حضرات تو غیر مسلکی مسلمان کو مجہول النسب سے تعبیر کرتے ہیں ، یعنی قرآن کا دیا ہوا مبارک نام ’’ھو سمکم المسلمین‘‘ ہمارے لئے ناکافی ہے ۔ اس تباہ کاری کی بنیاد میں جہاں جمود و مفاد ہے وہاں شخصیت پرستی کی اثر اندازی غالباً سب سے زیادہ ہے۔ اسلام کی عبقری شخصیتوں نے الگ الگ شعبہائے زندگی میں بہت سے کام نمایاں کئے جو کہ اسلام کے دور عروج کی نشانیاں تھیں، مگر اخلاف ان سے چپک کر رہ گئے اور پھر وہی ”نمایاں پن“ الگ الگ مکاتب فکر کی بنیاد ہوگیا ۔

ہمارے محترم دوست ڈاکٹر حمزہ شاہباز کہتے ہیں کہ میں ایک ڈاکٹر ہوں ، میرا تجویز کردہ نسخہ دوسرے ڈاکٹر کے تجویز کردہ نسخے سے الگ ہو سکتا ہے ، مگر ہم ڈاکٹروں میں یہ رواج نہیں کہ دوسرے کے تجویز کردہ نسخہ کی مخالفت کریں یا اس کو غلط ثابت کریں ۔ ہمارے محترم علماے کرام ایسا کیوں نہیں کرتے کہ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں امت کو حل بتلائیں ، مگر دیگر علمائے کرام کے پیش کردہ حل کی مخالفت نہ کریں ۔ بلکہ ”وہ بھی صحیح اور ہم بھی صحیح “ والا فارمولہ اختیار کریں ۔ کوئی صاحب یہ سوال نہ اٹھائیں کہ بیک وقت دو حل کیسے صحیح ہو سکتے ہیں ؟ اور یہ کہ جیسے بیک وقت ”دو دین“ صحیح نہیں ہو سکتے بعینہ اسی طرح بیک وقت دو متضاد مسئلے صحیح نہیں ہوسکتے ۔ ہماری یہی غلطی ہے کہ ہم امت مسلمہ میں موجود استحبابی اور فروعی اختلافات کو فورا انتہائی بنیادی بنا دیتے ہیں نتیجتاً ”دو میں سے ایک ہی صحیح “ والا معاملہ بن جاتا ہے۔ علم منطق میں تضاد اور ٹکراؤ کے موجود ہونے کے لئے آٹھ شرائط کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ مسلکی جنگ میں ہم فوراً سے پہلے ٹکراؤ ثابت کردیتے ہیں اور تناقض و ٹکراؤ کی آٹھ شرائط سر پٹخ کر رہ جاتی ہیں ۔ دوسری طرف دین اسلام کو مکمل نظریہ اور مکمل نظام حیات کہنے والے علما اور مفکرین کہتے ہیں کہ دین اسلام میں کہیں کوئی اختلاف نہیں اس کی تمام تر تعلیمات اپنے نظریہ کے ساتھ حد درجہ منظم اور مربوط ہے ، ان کا دعویٰ ہے کہ احکام و نظریات میں اتنی کامل ہم آہنگی دنیا کے کسی بھی مذہب و نظریہ میں نہیں ۔مگر یہی اسلام جب مسلکوں فرقوں اور شخصیات کے چنگل میں پھنس جاتا ہے تو اتنا پیچیدہ ہو جاتا ہے کہ ایک سادہ لوح مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ میں مسلمان ہوں بھی کہ نہیں اور یہ کہ مسلمان ہونے کے بعد فرقہ ناجیہ کی تلاش کا مرحلہ بھی عبور کرنا ہوتا ہے ۔ مسالک وفرقوں کی آگ سے دور رہتے ہوئے مثبت انداز میں کام کرنے والے علماء بھی مشکوک قرار پاتے ہیں انکو اپنی معتبریت باقی رکھنے کے لئے تفرقے بازی کے انگارے ہاتھ میں لینے ضروری ہوتے ہیں بصورت دیگر آپ کو بزدلی اور صلح کل کا طعنہ دے دیا جائے گا پاکستان کے مشہور تجزیہ نگار اوریا مقبول جان نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ”دونوں جانب کے یہ شدت پسند گروہ اپنے ہی مسالک کے بزرگوں کو بزدلی اور امن پسندی کا طعنہ دیتے ہیں “ مسلم ممالک کو تباہ و برباد کرنے کے لئے طرار خفیہ ایجنسیاں اس ہتھیار کو بار بار استعمال کرتی ہیں اور ہمارے لمبے جبے لمبی تسبیح اور طویل القاب والے حضرات بہت آسانی سے ان ایجنسیوں کا شکار ہو جاتے ہیں ، جسارت نیوز ویب سائٹ کے مطابق سی آئی اے کے سابق سینیئر آفیسر مائیکل شیوئر Michael Scheuer نے کہا ہے کہ شیعہ سنی اختلافات کا جاری رہنا ہی ہمارا مقصد ہے۔

غیر ملکی نیوز چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مائیکل شیوئر نے کہا کہ دنیا بھر میں شیعہ سنی اختلاف ہمارا مقصد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب داعش تنظیم نے بغداد پر چڑھائی کی تو یہ ہماری پلاننگ کے بالکل عین مطابق تھا۔ شام و عراق میں شیعہ سنی جھگڑا ہمارے مقاصد کی تکمیل کی کڑی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارا مشن ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں شیعہ سنی کو ایک دوسرے کیخلاف کھڑا کیا جائے۔ اس طرح ہم فوجی آپریشن کے بغیر ہی اپنے مقاصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں جب بھی نفاذ شریعت کی بات ہوتی ہے تو وہاں کا لبرل طبقہ سوال اٹھاتا ہے کہ کونسا اسلام نافذ کروگے ، دیوبندی اسلام ؟ بریلوی اسلام ؟ خانقاہی اسلام؟ اکابر پرستی والا اسلام ؟ اہل حدیث والوں کا اسلام ؟ شیعوں کا اسلام ؟ سنیوں کا اسلام ؟ یہ سوال اٹھنا فطری ہے کیونکہ ہر مسلک و فرقہ والے دوسروں کو خارج از اسلام کہتے اور سمجھتے ہیں ۔ ایسے میں لبرلز کے خیال کے مطابق شریعت کے نفاذ کی حمایت کرنا سخت قسم کے جنگجو سرداروں کے ہاتھوں میں ملک کی باگ ڈور دینے کے مترادف ہے ۔ بھارت کے پس منظر میں یہاں کی سیاسی پارٹیاں اس جادوئی چھڑی (مسلکی آگ ) کو چھیڑ دیتی ہیں اور کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیتی ہیں ہم اس قدر معصوم ہیں کہ اپنے حضرت و مسلک کو بچانے کے لیے آسانی سے اسلام م مسلمانوں کی تباہی پر راضی ہوجاتے ہیں سچ کہا ہے اقبال نے کہ: دینِ کافر فکر و تدبیرِ جہاد

دینِ مُلا فی سبیلِ اللہ فساد

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*