شہناز نبی کی ڈرامہ نگاری میں عصری مسائل-شیریں ظفر

(شیریں ظفر,گیسٹ لکچرر‘ کلکتہ گرلس کالج‘ کولکاتا)

اردو ڈرامے کی تاریخ میں بنگال کے ڈرامہ نگاروں کا قد روز اول سے نمایاں رہاہے ۔ واجد علی شاہ سے آغا حشر کاشمیری تک کی تخلیقات بنگال کی قدآوری کی تصویر ہیں ۔آج بھی اردو ادب میں مغربی بنگال کے منظر نامہ پر جو نام اہم مانے جاتے ہیں ان میں ایک نام ڈاکٹر شہناز نبی کا بھی ہے ۔ڈاکٹر شہنازکی ڈرامہ نگاری کے نمایاں پہلو کو سمجھنے کیلئے اردو ڈرامہ کے ارتقاوعروج سے صرف نظرناممکن ہے ۔
اردو ڈرامہ پارسی ارباب ذوق کی سرپرستی میں پروان چڑھا۔ انہوں نے اردو ڈرامے کی قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ڈرامے کے فن سے دلچسپی اور مالی منفعت کے پیش نظر پارسیوں نے بڑی بڑی تھیڑیکل کمپنیاں قائم کیں جن کے اپنے ڈرامہ نگار،ڈا ئرکٹر اور کام کرنے والے ہوتے تھے۔ زیادہ تر ڈراموں کا موضوع وفاداری،سچائی اور شرافت ہوتا تھا اور ان کے قصے دیومالا، قرونِ وسطیٰ کی داستانوں اور شیکسپیر کے ڈراموں پر مبنی ہوتے تھے۔تقریباً ایک صدی تک برصغیر پر پارسی تھیٹر کا راج رہا۔
انیسویں صدی کے آخر تک ڈرامے کے فن کو نہ تو سنجیدگی سے محسوس کیا گیا اور نہ اسے سراہا گیا۔ امانت اور مداری لال کے اندر سبھا کے تتبع میں جو ڈرامے لکھے گئے وہ زیادہ تر منظوم ہوتے تھے۔
بیسویں صدی کے آغاز میں پارسی تھیٹر میں بعض ایسے ڈرامہ نگار شامل ہو گئے جنھوں نے اردو ڈرامے کی روایت کو آگے بڑھایا اور اس میں چند خوش گوار اور صحت مند تبدیلیاں لا کر اسے نئی جہتوں سے آشنا اور ڈرامے کے معیار کو بلند کیا۔ اسے معاشرتی موضوعات اورسنجیدہ عناصر سے روشناس کرا یااورکسی حد تک فنّی شعور کا ثبوت دیا۔
لیکن اس کے بعد اردو میں ڈرامے کی حالت دگرگوں ہونے لگی اور اس کی یہ حالت مسلسل زوال کاشکار رہی ۔ اردو ادب کے دامن میں ڈراموں کی قلت کی ایک وجہ عوام الناس کی اس صنف سے عدم دلچسپی بھی رہی ہے ۔بالخصوص شاعری اور افسانے کے مقابلے میںڈرامے کے تئیں لوگوں کا رویہ سرد رہا ۔
ادب کی دیگر اصناف کے مقابلے میں ڈرامہ جس دقت نظری کا متقاضی ہے اس پر ادبا و شعرا کی طویل فہرست کھری نہیں اترپائی ۔اس کے ساتھ ہی عوام کی ذہنیت بھی ڈرامے کو قبول کرنے میں آڑے آئی ۔کہاجاتا ہے کہ ڈرامہ ذہنی اور تہذیبی اعتبار سے بلند معاشرے اور قوموں کا عکاس ہوتا ہے ۔ہوسکتا ہے کہ اردو بان بولنے والی قوم تہذیب و معاشرت کی اس بلند سطح پر ابھی نہیں پہنچ پائی ہوجہاںشاعری اور افسانوں کے مقابلے میں ڈرامہ درجہ قبولیت حاصل کرتاہے۔تاہم اس کے زوال کی وجوہات میں ڈرامہ کو اسٹیج کرنے کے لوازمات کا گراں ہونا بھی کہاجاسکتا ہے ۔
واجدعلی شاہ کی اس فن ڈرامہ سے انسیت کے سبب اودھ کی سرزمین سے ڈرامہ نگاری کا شاندار آغاز ہوا ۔1855میں اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ نے اپنے محل کے صحن میں آغا حسن امانت کا تحریر شدہ ڈرامہ ’اندر سبھا‘ اسٹیج کیا۔ وہ پری جمال اور شہزادہ گلفام کی کہانی پر مبنی منظوم ڈرامہ تھا۔ خود واجد علی شاہ کتھک رقص اور کتھا کلی کے ماہر تھے۔ واجد علی شاہ نے اس ضمن میں کئی تجربات کیے۔ان ڈراموں میں بھڑکیلے میک اپ اور زرق برق کاسٹیوم استعمال ہوتے تھے، پس منظر میں موسیقی دی جاتی تھی۔
بنگال میں ڈرامے کی مقبولیت و فروغ کی ایک اہم وجہ نواب واجد علی شاہ کا مٹیابرج قیام ہے ۔1856میں واجدعلی شاہ معزول کردیئے گئے ۔ انہیں کلکتہ کے قریب ایک غیر آبادعلاقے مٹیابرج بھیج دیاگیا جسے انہوں نے لکھنؤ کے طرز پر بسانے کا ارادہ کیا اور ان کی کوششوں سے مٹیابرج بنگال کا لکھنؤقرار پایا۔
1850کے بعد بنگال میں جدید طرز پر لکھے گئے نثری ڈراموں کا سراغ ملتا ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بنگلہ ڈراموں اورا ردومیں نثری ڈرامے اسٹیج کی زینت بنے ۔ان ڈراموں میں سید ابوالفضل فیاض کا ’ صولت عالم گیری ‘ 1857شائع ہوااور یہ پہلا کامیاب طبع زاد ڈرامہ ماناجاسکتا ہے ۔
بنگا ل کے جدید ڈرامہ نگاروںکی فہرست میںجونمایاں نام نظرآتے ہیں ان میں کمال احمد‘ ظہیرا نور ‘ شوکت عظیم‘ صدیق عالم ‘ نوشاد رضا اور شہناز نبی کے علاوہ اصغر انیس ‘ حسین احمد زاہدی ‘قمر جاوید ‘ سہیل ارشدوغیرہ چند ایسے نام ہیں جنہوں نے بنگال کی سماجی ‘ ثقافتی اور عوامی زندگی کے مسائل کوا پنے ڈراموں کے ذریعہ منظر عام پر لانے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔
ڈاکٹر شہناز نبی معاصر تانیثی ادب میں اپنی ایک الگ شناخت رکھتی ہیں۔ فیمنزم کے حوالوں میں بھی ان کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے ۔ ’ بھیگی رتوں کی کتھا‘ ‘ ا ’گلے پڑائوسے پہلے ‘ اور ’مجھے مت چھوئو‘ جیسے شعری مجموعوں میںشامل تانیثی فکر و شعور اور حسیت کی حامل ان کی نظمیں جہاںان کی قوت فکرو نظر کاثبوت ہیںوہیںایکوسسٹم اور فوٹو سنتھیسس جیسی نظمیں ان کی تخلیقی توانائی کا بین اظہار ہیں۔ڈاکٹرشہنازنبی نے تنقید کے میدان میں بھی کئی منزلیں طے کی ہیں۔آغا حشر‘ دکنی ادبیات‘ فورٹ ولیم کالج ، انیسویں- بیسویں صدی میں بنگال میں اردو نثر جیسے موضوعات کو اپنی تنقید وتحقیق کا موضوع بنایا ہے۔ وہ بنگلہ ‘ ہندی اورانگریزی میں بھی درک رکھتی ہیں۔ انہوں نے کرشن چندر کے ناول ’ غدار‘ کا بنگلہ میں ترجمہ کیااور اردوکی بہت سی نظموں اور افسانوں کو بنگلہ زبان میں متعارف کرایا۔ ڈرامے کے میدان میں بھی انہوں نے کئی تجربات کئے نیز عوامی دلچسپی کے معاشرتی اور موضوعاتی ڈرامے خلق کئے ۔انہوں نے زیادہ تر عصری مسائل کو ہی اپنے ڈرامے کا موضوع بنایا ہے جو ان کے بیدار شعور کا بین ثبوت ہے ۔ڈرامہ کی تنقید پر’ صید ہوس اور آغاحشر‘ کے عنوان سے ان کی کتاب1998میں شائع ہوئی ۔
ادھر دو دہائی میں شہناز نبی نے تقریباً15ڈرامے تخلیق کئے ۔ ان میں سے کئی ڈرامے اخبارات و رسائل کی زینت بننے کے ساتھ ساتھ اسٹیج بھی کئے جاچکے ہیں ۔ شہناز نبی نے اپنے ڈراموں کی ابتدا ترجموں سے کی ۔ انہوں نے بنگلہ سے اردو میں بچوں کے ڈرامے کے عنوان سے کئی اصلاحی ڈرامے ترجمہ کئے جو 1998 میں شائع ہوئے ۔ بچوں کے ادب سے انہیں خاص شغف ہے اس لئے انہوں نے بچوں کی خاطر کئی ڈرامے لکھے جن میں ’ جنگل میں اسکول‘ اور ’ اٹھ جاگ مسافر ‘ کافی مشہورہیں ۔ ڈرامہ ’جنگل میں اسکول‘ میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور کم پڑھے لکھے طبقہ میں اس کی بیداری کی کوشش کو دکھایاگیا ہے ۔2016میں ان کے تمام ڈرامے’ پہچان مجھے نادان‘ کے نام سے شائع ہوکر قبول عام کی سند حاصل کرچکے ہیں ۔
جنگل میں اسکول 1994کے آخر میں لکھا گیا اوراس ڈرامے کو ایوارڈ سے بھی نوازاگیا ۔اس ڈرامے میںجانوروں کو علامتی کردار بناکر پیش کیاگیا ہے ۔ سارس کو جنگل میں ان پڑھ لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے ایک اسکول کے قایم کا خیال آتا ہے ۔وہ اسکول قائم کرکے سبھی دوسرے جانوروں سے اس میں داخلہ لینے کی گزارش کرتا ہے ۔ اپنی چالاکی میں مشہور لومڑی سمجھتی ہے کہ اس کے بچوں کو تعلیم کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ انہیں خود ہی ساری چالاکی اورمکاری سکھادے گی ۔ لیکن جب ہرن اسے یہ بتاتا ہے کہ شیر سے قرض لینے کے عوض اسے بیاج کی شکل میں روزانہ شیرتک ایک جانور پہنچانا پڑتا ہے اوراس کا قرض جوں کا توں ہے اسی لئے اسے اصل اور سود کا فرق جاننے کیلئے درس گاہ تک جاناضروری ہے تب وہ لومڑی تعلیم حاصل کرنے پر راضی ہوجاتی ہے ۔گدھا اپنی بے وقوفی سے واقف ہے اس لئے اسے لگتا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے لائق نہیں ہے ۔ صبح سے شام تک بوجھ ڈھونے کے بعد تھکان کے سب اس کے موٹے دماغ میں یوں ہی کچھ سمجھ میں نہیں آئے گا ۔ تمام دوسرے جانور اسے بتاتے ہیں کہ وہ شام کے وقت اسکول جاسکتا ہے اور تعلیم حاصل کرکے اس کے دماغ کا موٹا پن کم ہوسکتا ہے تب وہ بھی تیار ہوجاتا ہے ۔
دھیرے دھیرے تمام جانوروں کو علم کا احساس ہوتا ہے اور وہ شیرکے ناپاک عزائم کو سمجھ پاتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کو ان پڑھ رکھ کر اپنی حکومت بچانا چاہتا ہے اور ظلم کا بازار گرم رکھنا چاہتا ہے ۔ تمام لوگ شہر کے خلاف بغاوت کا علم بلند کرکے اسکول میں داخلہ لیتے ہیں ۔
اس طرح کے علامتی ڈرامے خال خال ہی دیکھنے کو ملتے ہیں ۔اس ڈرامہ میں گھوڑا کو مزدور ‘ لومڑی کو عقل مند ‘ مور کو خوبصورت ‘ گدھے کو بے وقوف اور ہرن کو تیز دکھایاگیا ہے جب کہ شیر کو حاکم اور سیار کو حاکم طبقہ کی ہاں میں ہاں ملانے والے کے بطور پیش کیاگیا ہے ۔اس ڈرامے کی زبان عام فہم اور سلیس ہے ۔ مختصر اور چھوٹے چھوٹے مکالمے ڈرامہ کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں ۔اس ڈرامہ کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس پیش کش میں مکھوٹے کا استعمال ناظرین کیلئے باعث دلچسپی ہے ۔ یہ ڈرامہ پہلی مرتبہ بچوں کے ذریعہ ایک اسکول میں اسٹیج کیاگیا ۔بعدازاں نوشاد عالم نے عکس تھیٹر کے بینر تلے مختلف شہروں میں اس ڈرامے کے شوز کئیاور اس ڈرامے کو تعلیمی بیداری کی ایک مہم کے طور پر استعمال کیا۔
ڈرامہ ’ اٹھ جاگ مسافر ‘ بھی بچوں کا ڈرامہ ہے جس میں ملک کے ایک ایسے بادشاہ کو دکھایاگیا ہے جو نیند کا شوقین ہے اور خواب خرگوش میں ہی رہنا پسند کرتا ہے اسے ملک اور رعایا کی خبر گیری کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے ۔جب پڑوسی ملک اس کے ملک پر حملہ آور ہوتا ہے تو بادشاہ کو بڑی مشکل سے جگایا جاتا ہے۔ بادشاہ خواب غفلت میں اتنے برسوں رہا کہ اسے نئی ایجادات کے بارے میں بھی کوئی علم نہیں تھا۔ یہاں تک کہ وہ جنگ میں استعمال ہونے والے نئے اسلحوں سے ناواقف تھا۔ اس کے وزیر اور درباری اسے حالات حاضرہ سے آگاہ کراتے ہیں۔ بادشاہ جنگ جیتنے کے بعد دوبارہ سونے کا خواہش مند ہے لیکن اس بار درباری وزیر، رقاصہ،ہرکارہ سبھی بادشاہ کو بیدار رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
اس ڈرامہ میں چھوٹے چھوٹے مکالموں کے ذریعہ شہناز نبی نے بڑی بلیغ باتیں کہیں جو سننے سے تعلق رکھتی ہیں ۔ڈرامے کے ایک منظرمیں :
ہرکارہ : حضور ہمیں ملک سے غریبی اور مفلسی دور کرنی ہے۔ سرحدوں کی حفاظت کرنی ہے۔
رقاصہ : علم کی روشنی پھیلانی ہے، ہر شہری کو خواندہ بنانا ہے۔ پڑھنا لکھنا سکھانا ہے۔ نئے اسکول بنانے ہیں۔
سنگیت کار :بیماروں کا ہسپتال اور بے روزگاروں کو روزگار فراہم کرنے ہیں۔
بادشاہ : (سوچتے ہوئے) ہوں… جس ملک میں اتنے سارے کام پڑے ہو وہاں کا بادشاہ کیسے سو سکتا ہے بھلا۔
ہم نے بھی جان لیا ہے کہ جو سویا وہ کھویا۔ اگر آپ سب نے ہمیں نہ جگایا ہوتا تو اب تک ہمارے دیش پر
ملک فتنہ پر داز کا قبضہ ہوچکا ہوتا۔ لیکن یہ تو بتائیے کہ ہماری نیند گئی کہاں … ملک فتنہ پرواز کے بادشاہ کی
آنکھوں میں، اور کہاں …
اس ڈرامے اس مکالمے اتنے چست ہیںکہ کہیں بھی جھول کا احساس نہیں ہوتا بلکہ اپنے خوبصورت اندازبیان کے سبب ہرمکالمہ سبق آموز محسوس ہوتا ہے۔
ڈاکٹر شہناز نبی نے اپنے ڈراموں میں سماج کے سنجیدہ مسائل کو بڑی خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔ جیسے بچہ مزدوری، دہشت گردی اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی وغیرہ ۔
ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک پڑھے لکھے اور تہذیب یافتہ سماج کا ہی حصہ ہیں لیکن جب اسی سماج میں کوئی معصوم کسی ہوٹل، چائے دکان یا چپل کی دکان میں مزدوری کرتا ہے تو ہم اور آپ دل مسوس کر گزر جاتے ہیں لیکن شہناز نبی کا تعلق چونکہ درس و تدریس سے برسوں رہا ہے۔ اس وجہ سے ان کی حساسیت کا درجہ ہم عام انسانوں سے کافی بلند ہے ۔وہ ایسے مسائل سے تڑپ اٹھتی ہیں اور ان کا قلم بے ساختہ ’شعلوں میں گھرا بچپن‘ ، جیسے ڈرامہ خلق کرتا ہے۔ بچہ مزدوری پر قوانین اور پابندی کے باوجود آج بھی یہ یہ قبیح سلسلہ زوروں پر رائج ہے جس کی سب سے اہم وجہ وہ حالات ہیں جن سے اکثر متوسط طبقہ اور خط افلاس کی سطح سے نیچے کے لوگ دوچار ہیں۔ ان بچوں کو بھی اسکول جانے اور تعلیم حاصل کرنے کا شوق ہوتا ہے لیکن گھر والوں کی کفالت اور سماج کی بے حسی انہیں مزدوری پر مجبور کرتی ہے۔
چمیلی کا بھائی چھوٹو بھی اسکول چھوڑ کر مزدوری کرنا چاہتا ہے اس کی بہن چمیلی دوسروں کے گھروں میں کام کرتی ہے لیکن چاہتی ہے کہ اس کا بھائی پڑھ لکھ کر افسر بنے۔ اس ڈرامہ میں چمیلی اور چھوٹو کے درمیان ہوا مکالمہ سنیںجن میں علم کی اہمیت و افادیت کے ساتھ ساتھ بڑھتی مہنگائی اور علم کو کاروبار بنادیئے جانے کاخوبصورت بیان ہے :
چمیلی : … چھوٹو، ارے او چھوٹو
چھوٹو : … (دوڑ کر آتا) کیا ہے آپا؟
چمیلی : … یہ تری فیس کے روپئے ہیں۔ کل ماسٹر صاحب کو دے دیجئے۔
چھوٹو : … لیکن آپا …
چمیلی : … لیکن کیا؟
چھوٹو : … میں اسکول نہیں جاؤں گا۔
چمیلی : … پاگل ہوا ہے کیا۔ہیں ‘ بول بول
(اسے گدگداتی ہے پھر ہاتھ پکڑ کر چک پھیریاں لیتی ہے اور گاتی ہے)
میرا بھیّا پڑھ لکھ کر امیر بنے گا
ٹھاٹ باٹ سے اک اونچے بنگلے میں رہے گا
چاندسی دلہن ڈھونڈ کر اک دن میں لے آؤں گی
راجا بھیّا کے بچوں کو گود کھلاؤں گی
……
چھوٹو (ہاتھ جھٹک کر) : آپا میں اسکول نہیں جاؤں گا۔
چمیلی : کیوں… اسکول کیوں نہیں جائے گا؟
چھوٹو : سارے بچے کچھ نہ کچھ کام کرتے ہیں … روپئے کماتے ہیں … میں بھی کام کروں گا۔
چمیلی : کام کرے گا؟ (حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر)
کارخانے جائے گا؟ کون سا کارخانہ؟ چپل کارخانہ…
کیلیں ٹھونکے گا … تلے کاٹے گا … سلوشن چپکائے گا یا گیراج میں تیل سے تر بہ تر
کپڑے پہنے موٹر پارٹس پہچاننے کی کوشش کرے گا یا ہوٹل میں برتن دھوئے گا…؟
چھوٹو : سارے لڑکے……
چمیلی : کون سارے لڑکے… وہ جن کے گھر کمانے والی کوئی نہیں …
لیکن میں تو ہوں نا تیرے لئے!
چھوٹو : نہیں آپا! میں کارخانے جاؤں گا اور مزدوری کروں گا۔
چمیلی : تجھے پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بننا ہے چھوٹو!
چھوٹو : آپا! اس بار اسکول کی فیس بھی بڑھ گئی ہے اور کتابیں بھی مہنگی ہوگئی ہیں۔
گجرات فسادات پر مبنی اورقومی یکجہتی کے جذبے پر محیط ڈاکٹرشہناز نبی کا ڈرامہ ’ ہم ایک ہیں ‘ کافی مشہورہوا۔اسی طرح 1995میں لکھاگیا۔ ڈاکٹر شہناز نبی کا ڈرامہ ’حوالہ جاترا‘ میں انہوں نے گھوٹالوں اور گھپلوں کو اپنے ڈرامہ کا موضوع بنایا ہے اور حکومت کی پالیسیوں سے ملک کو ہونے والے نقصانا ت عوام کے سامنے لانے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔2004میں ڈاکٹر شہناز نبی نے ’ فیل گڈ ‘ کے عنوان سے ڈرامہ لکھ کر یہ بتادیا کہ غربت‘ افلاس ‘ بے روزگاری کے منہ کھولے عفریت کے باوجود حکومت عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے ’ فیل گڈ‘ کا نعرہ دے رہی ہے ۔ یہ حقیقت سے منہ موڑنا ہے اوراس فیل گڈ نعرے کی انہوں نے قلعی کھول دی :
روزی نہ روٹی اور اچھا ہوں میں
نوکری نہ چاکری اور اچھا ہوں میں
گھر ہے نہ بار اور اچھا ہوں میں
خالی بازار اور اچھا ہوں میں
ہاں اچھا ہوں میں، بھئی اچھا ہوں میں، اجی
اچھا ہوں میں
اس مختصر سے جائزے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ مغربی بنگال کے ادبی منظر نامہ پر اردو ڈرامے کے حوالے سے ڈاکٹر شہناز نبی کا نام نہ صرف اہم ہے بلکہ انہوں نے عصری زندگی اور اس کے تمام تر مسائل کو ڈرامے کے ذریعہ بیان کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔تعلیم نسواں‘ بچہ مزدوری ‘ بچوں کا جنسی استحصال اور دہشت گردی جیسے مسائل پرا نہوں نے اپنے قلم کے ذریعہ آواز اٹھانے کی کوشش کی ہے ۔ معاشرتی نظام کی اصلاح کیلئے انہوں نے بیداری کے جذبہ کو فروغ دیا۔ جسے دیکھتے ہوئے ہم امید کرتے ہیں کہ مغربی بنگا ل میں ڈرامہ کا مستقبل تابناک اور روشن ہے ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*