Home نقدوتبصرہ ’ دربھنگہ ٹائمز ‘ کا ایک شمارہ نورالحسنین کے نام-شکیل رشید

’ دربھنگہ ٹائمز ‘ کا ایک شمارہ نورالحسنین کے نام-شکیل رشید

by قندیل

( ایڈیٹر ، ممبئی اردو نیوز )

نورالحسنین مہاراشٹر ( اورنگ آباد) کے اُن چند فکشن نگاروں میں سے ایک ہیں ، جو اپنی افسانوی تخلیقات ، اور اپنی ناول نگاری کے لیے ، پوری اردو دنیا میں معروف ہیں ۔ ہونا تو یہ تھا کہ مہاراشڑ کا کوئی ادبی رسالہ ان کی حیات و خدمات پر گوشہ شائع کرتا کہ یہ ان کا حق تھا ، حق ہے ، لیکن یہ نیک کام ڈاکٹر منصور خوشتر کی قسمت میں لکھا تھا ، اور انہوں نے یہ کام بڑی خوب صورتی کے ساتھ ’ دربھنگہ ٹائمز ‘ کے گوشے کی صورت میں کر دکھایا ۔ اس تعلق سے وہ اپنے اداریے ’ کہنے کی بات ‘ میں لکھتے ہیں : ’’ انہیں ( نور الحسنین کو ) شروع سے ہی اردو زبان و ادب سے گہرا لگاؤ رہا ہے ۔ ان کی پہلی کہانی کی اشاعت اس وقت ہوئی جب وہ ساتویں جماعت کے طالب علم تھے ۔ اب تک آپ کے چار افسانوی مجموعے ، تین ناول ( کے مجموعے ) ، چھ تنقیدی مضامین کے مجموعے منظرِ عام پر آکر قارئین سے دادِ تحسین وصول کر چکے ہیں ۔ وہ شخص جس نے اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے اتنا سارا کام کیا ہے میں نے ان پر گوشہ لانا ضروری سمجھا ۔‘‘ یقیناً ڈاکٹر منصور خوشتر صاحب یہ گوشہ ضروری تھا ، اور آپ نے اس گوشے میں نورالحسنین کی حیات و خدمات کے وہ تمام پہلو بڑی خوبی سے ، کوزے میں سمندر کے مصداق ، جمع کر دیے ہیں ، جو ان کے افسانوں ، ناولوں اور ان کی تنقیدی خوبیوں کو اجاگر کرتے ، اور اس حوالے سے فکشن و تنقید کے تئیں ان کے رجحانات کو سمجھنے میں معاون بنتے ہیں ۔
اس شمارے میں صاحبِ گوشہ پر پندرہ مضامین اور چار افسانے شامل ہیں ۔ تین مضامین ان کے ناول ’ تلک الایّام ‘ پر ، دو مضامین ان کے ناول ’ آہنکار ‘ پر ، اور دو مضامین ان کے اہم ناول ’ ایوانوں کے خوابیدہ چراغ ‘ پر ۔ ان کی افسانہ نگاری اور ناول نگاری پر مزید مضامین ہیں ۔ تنقید پر صرف ایک مضمون ہے ۔ اور ایک خاکہ نما مضمون بھی ہے جو فکشن نگار کی زندگی کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے ۔ آئیں چند مضامین پر نظر ڈالتے ہیں ۔ معروف فکشن نگار عبدالصمد کا ایک تاثراتی مضمون بعنوان ’ نورالحسنین اردو فکشن کا ایک اہم نام ‘ صاحبِ گوشہ کو ’’ ایماندار اور جنیوئین فنکار ‘‘ قرار دیتا ہے ۔ عبدالصمد لکھتے ہیں : ’’ قرۃالعین حیدر کے بعد شاید وہ واحد ناول نگار ہیں جنہوں نے ناول کو ایک باقاعدہ ریسرچ ورک کی شکل دی ‘‘۔ افسانوں کے تعلق سے لکھتے ہیں : ’’ ان کے افسانے زمین کو چھوڑتے ہوئے کبھی محسوس نہیں ہوتے ۔ اپنے سماج اور اپنی زمین سے ان کا گہرا رشتہ ہے ‘‘۔ مرحوم ڈاکٹر حسین الحق نے ناول ’ ایوانوں کے خوابیدہ چراغ ‘ کا تجزیہ کیا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ یہ ناول ’’ اپنے عنوان کے لحاظ سے تاریخیت ، تاریخی شعور اور تخلیقی شعور کی طرف اشارے کرتا ہے ۔ اپنی ابتدا سے آخر تک نورالحسنین ایک کامیاب قصہ گو کی طرح قاری کو اپنے قصے سے باندھے رکھتے ہیں ‘‘۔ پروفیسر عتیق اللہ نے ’ چاند ہم سے باتیں کرتا ہے ‘ ناول کو موضوع بناتے ہوئے ناول میں مضنماتی تقاضے پر بات کی ہے ، وہ لکھتے ہیں : ’’ نورالحسنین کے ناول کو مخلوط فنی تخلیق Pastiche سے موسوم کیا جا سکتا ہے لیکن انہوں نے چاند اور عشق کے تلازمے سے شیرازہ بندی کو ترجیح بھی دی ہے ‘‘۔ یہ ایک وقیع مضمون ہے جو نورالحسنین کی ناول نگاری کے فن کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے ۔ ڈاکٹر نگار عظیم نے افسانوں پر بات کی ہے، وہ لکھتی ہیں : ’’ نورالحسنین کا قلم اپنی وادی میں اپنوں کے اردگرد کبھی بستی میں کبھی شہر میں تو کبھی نانی دادی ، خالہ ابو اور دادا کے جھولے سے کہانیاں نکالتا رہے گا اور اپنی پٹاری میں جمع کرتا رہے گا، ان کی کہانیوں کی پٹاری کبھی خالی نہیں ہوگی ‘‘۔ یہ ایک طویل مگر شاندار مضمون ہے ۔ مضامین بہت سے ہیں سب پر بات ممکن نہیں ہے ، اس لیے بس ایک مضمون کا ذکر اور کروں گا ، پروفیسر قاسم امام کے مضمون ’ یا …. نورالحسنین کا ‘۔ یہ ایک ایسا خاکہ ہے جس میں پروفیسر صاحب نے نورالحسنین کی حیات کے ساتھ ان کی خدمات کو بھی شامل کر لیا ہے ؛ ایک اقتباس ملاحظہ کریں : ’’ آج نورالحسنین کا ذکر اردو دنیا کے کئی مشاہیر ادیب و ناقد کر رہے ہیں ۔ قلم سے نکلا ہوا ماضی خاموش نہیں حال کا شور اور مستقبل کا انجام بننے کو تیار ہے ۔ بقول ڈاکٹر سلیم محی الدین ’ مصوری سے مصوری اور سنگ تراشی سے سنگ تراشی ہے ‘۔ چاند روشنی کا وہ خوبصورت استعارہ ہے جسے نورالحسنین نے ہماری آنکھوں میں اتار دیا ہے ۔ چاند نے عشق کو دیکھا اور ہم نے نورالحسنین کو….. وہ داستانِ عشق میں کھوئے ہیں اور چاند ہم سے باتیں کر رہا ہے ‘‘۔
گوشے میں نورالحسنین کی چار لاجواب کہانیاں بھی شامل ہیں ۔ ڈاکٹر منصور خوشتر کو اس گوشے کے لیے بہت بہت مبارک ۔
ایک مختصر سا گوشہ ، چار مضامین پر مشتمل ، مرحوم امام اعظم پر ہے ۔ چاروں مضامین اچھے ہیں ۔ مزید کئی اہم شخصیات پر مضامین ہیں جیسے مولانا ابوالکلام آزاد ، راسخ عظیم آبادی ، علامہ اقبالؔ ، وغیرہ ۔ شمارے میں آٹھ تبصراتی اور چار ریسرچ اسکالرز کے مضامین شامل ہیں ۔ افسانے اور منظومات کے ساتھ کتابوں پر تبصرے بھی ہیں ۔ یہ شمارہ چار سو روپیے کا ہے ، اسے موبائل نمبر 9234772764 پر رابطہ کرکے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

You may also like