مختار انصاری کولے کر بی جے پی- کانگریس میں بڑھی تکرار

وارانسی:بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے ایم ایل اے اور ڈان مختار انصاری کولے کر بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے مابین تنازعہ دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔ بی جے پی پنجاب کی کانگریس حکومت پر انصاری کو بچانے کا الزام عائد کررہی ہے۔ اس تناظر میں بی جے پی کے ممبر اسمبلی ایلکا رائے نے پرینکا گاندھی واڈرا کو متعدد خطوط لکھے ہیں اور ان سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔اس تنازعہ نے اب ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے۔ کانگریس کے لیڈر اجے رائے نے بی جے پی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ حکومت انہیں مناسب سکیورٹی فراہم نہیں کرکے ان کی زندگی کو خطرے میں ڈال رہی ہے، کیونکہ مختار انصاری کی زندگی کو شدید خطرہ ہے۔ اجے رائے اپنے بھائی اودھیش رائے کے قتل کا مرکزی گواہ ہے۔ رائے کے مطابق، چونکہ میں قتل کیس میں اصل گواہ ہوں، اس لیے عدالت کے حکم کے مطابق میں نے ایک خط لکھ کر وزیر اعلی سے تحفظ کی درخواست کی لیکن عدالتی حکم کے باوجود میری سیکیورٹی، جو نامعلوم وجوہات کی بنا پر واپس لی گئی تھی، بحال نہیں کی جاسکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ حکومت مختار انصاری جیسے مافیا ڈان کو تحفظ فراہم کررہی ہے، ان کے خلاف جو بھی کاروائی ہو رہی ہے، یہ محض دکھاوے کی بات ہے۔ رائے نے بتایا کہ عدالت نے وارانسی کے ایس ایس پی کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہیں کی جاسکی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جو خط وزیر اعلی کو لکھا ہے اس میں انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ ان کی جان کو لاحق خطرے کے پیش نظر میں اس معاملے میں بلا خوف و خطر آگے نہیں بڑھ پایا ہوں۔تاہم رائے نے کانگریس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے ایم ایل اے الکا رائے پرینکا گاندھی کو خط لکھ رہی ہیں، لیکن انہیں یہ سمجھنا چاہیےکہ کانگریس کبھی بھی کسی مافیا کی حمایت نہیں کرتی ہے۔ اگر مرکز اور ریاستی بی جے پی کی حکومت مختار انصاری کو پنجاب کی جیل سے نہیں لاسکتی ہے، تو یہ ان کی ناکامی ہے۔