Home قومی خبریں سید عبید الرحمن کی نئی کتاب ‘Peaceful Expansion of Islam in India’ منظر عام پر 

سید عبید الرحمن کی نئی کتاب ‘Peaceful Expansion of Islam in India’ منظر عام پر 

by قندیل

نئی دہلی (پریس ریلیز): سید عبید الرحمٰن کی تازہ ترین کتاب ’’Peaceful Expansion of Islam in India ‘‘ برصغیر پاک و ہند میں اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کو بالکل مختلف انداز میں پیش کرتی ہے۔ درحقیقت ملک میں اسلام کی آمد کے بارے میں اس قدر تحقیق شدہ، مفصل کتاب اس دیرینہ قیاس کو ختم کر دیتی ہے کہ اسلام ہندوستان میں شمال کے راستے آیا اور طاقت اور تلوار کے زور سے پھیلا۔

سید عبیدالرحمٰن نے باریک بینی سے تحقیق و تجزیے سے ثابت کیا ہے کہ اسلام ہندوستان میں اس وقت آیا جب عرب میں اسلام پھیلنا شروع ہوا۔ عرب تاجروں کے ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کی ایک طویل روایت تھی۔ اسلام کی آمد سے بہت پہلے سے وہ تجارت کے لئے نہ صرف مالابار بلکہ چین تک جاتے تھے۔ اسلام کی آمد کے بعد وہ جہاں ، جہاں بھی گئے نئے مذہب کو ساتھ لے گئے۔ اس طرح دہلی اور شمالی ہندوستان کے مختلف حصوں میں اسلام کی آمد سے بہت پہلے ہی مسلمان نہ صرف مالابار اور کیرالہ میں بلکہ تامل ناڈو، کونکن، گوا، گجرات اور مہاراشٹر کے کئی حصوں میں بھی بڑی تعداد میں آباد ہو چکے تھے۔

سید کہتے ہیں کہ تاجروں اور صوفیاء کرام نے ہندوستان کو عمومی اندازوں سے کہیں زیادہ متاثر کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ بار بار یہ دعویٰ کہ بر صغیر ھند وپاک میں اسلام تلوار کے استعمال سے یا طاقت کے زور سے پھیلا، اسے اکثر لوگ، بشمول مسلمان بھی سچ سمجھنے لگے ۔ تاہم وہ مزید کہتے ہیں کہ یہ سچائی کی مکمل تحریف ہے اور بہت سے مغربی ماہرین بشمول وہ لوگ جو اپنے سخت مسلم مخالف نقطہ نظر کے لیے جانے جاتے ہیں اس حقیقت کو تسلیم کرتے چلے آئے ہیں کہ ہندوستان کے بہت سے خطوں میں اسلام طاقت کے استعمال کے بغیر پرامن طریقوں سے پھیلا۔

کتاب کے تعارف میں لکھتے ہوئے سید کہتے ہیں کہ ’’عرب مسلمانوں نے اسلام کی آمد کے ساتھ ہی ہندوستان کے ساتھ تجارت اور تجارتی تعلقات کا آغاز کر دیا۔ ہندوستان کے ساتھ تجارت کرنے والے مسلمان یا تو عرب تھے یا فارسی۔ ہندوستان کے ساتھ عربوں کی سمندری تجارت اسلام سے پہلے اسی طرح تھی جس طرح زرتشتی اور نسطوری فارسیوں کی ہندوستان کے ساتھ تجارت تھی۔ Periplus of the Erythraean Sea کے مصنف کا دعویٰ ہے کہ پہلی صدی عیسوی کے دوران بھی Muziris (Cranganore) کا شہر مالابار کی غیر متنازعہ یا اصل بین الاقوامی بندرگاہ تھا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس شہر میں تجارتی بحری جہازوں کی بھرمار تھی جو نہ صرف عرب بلکہ یونانیوں سے بھی سامان لے کر جاتے تھے۔ عربوں نے اسلام کی آمد سے بہت پہلے مالابار میں آباد ہونا شروع کر دیا تھا۔ پلینی اسی صدی میں لکھتے ہوئے اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ حقیقت میں عربوں کی کافی تعداد مالابار کے ساحل پر وسطی اور جنوبی حصوں کے علاوہ سری لنکا کے مختلف حصوں میں آباد تھی۔ ان کے مطابق یمن اور حضرموت کے لوگ خاص طور پر مالابار ساحل پر بڑی تعداد میں پائے جاتے تھے۔ تاہم عرب کیرالہ اور مالابار میں نہیں رکے اور وہاں سے وہ ہندوستان کے مغربی ساحل پر تقریباً ہر اہم بندرگاہ کے علاوہ خلیج بنگال تک پھیل گئے۔ عرب تاجروں کی بستیوں کا ذکر کینٹن میں چوتھی صدی کے اوائل میں ملتا ہے یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ اسلام کی آمد سے بہت پہلے عرب ہندوستان کی اہم بندرگاہوں پر اکثر سفر کرتے تھے۔

سید کا دعویٰ ہے کہ ہندوستان کے بیشتر حصوں میں خاص طور پر مالابار، کونکن، گوا، کرناٹک، تمل ناڈو، کشمیر، گجرات اور یہاں تک کہ ملک کے باقی حصوں میں اسلام کا پھیلاؤ پرامن طریقوں سے ہوا۔ لوگوں نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا۔ ٹی ڈبلیو آرنلڈ کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ”…66 ملین ہندوستانی مسلمانوں میں سے بڑی تعداد میں مذہب تبدیل کرنے والے یا مذہب تبدیل کرنے والوں کی اولادیں ہیں، جن کے تبدیلئ مذہب میں قوت یا تلوار نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ یہ لوگ صوفیائے کرام اور مسلم مشنریز کے کردار سے متاثر ہو کر مسلمان ہوئے۔

اگر اسلام جنوبی ہندوستان میں تاجروں کے ذریعے پھیلا تو ملک کے شمالی علاقوں میں صوفیاء کرام نے اسے عوام میں مقبول بنانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ نہ صرف عوام بلکہ ان کا اثر حکمراں طبقہ پر بھی جگ ظاہر ہے۔ ایک مشہور صوفی بلبل شاہ کے ہاتھوں کشمیر کے بادشاہ رنچن شاہ کے قبول اسلام کے واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ صوفیاء کرام نے ہندوستان میں زندگی کے تقریباً ہر پہلو کو متاثر کیا اور آبادی کے ہر طبقے کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔

اس اہم کتاب میں لکھتے ہوئے، سید کہتے ہیں کہ ’’تاجروں اور صوفیاء نے محض مسلمان ہونے اور اس وقت ایک پھیلتے ہوئے اور غالب مذہب کا حصہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں اپنے اعلیٰ مقام کو دوسرے عقائد کے لوگوں کو اپنے مذہب کی طرف راغب کرنے کے لیے استعمال کیا۔

مقامی لوگوں کے ساتھ برابری اور مساوات کا برتاو بھی لوگوں کے اسلام سے متاثر ہونے کی اہم وجہ بنی۔ اسلام قبول کرتے ہی نچلے طبقات کے افراد کی معاشرتی حیثیت بالکل تبدیل ہو جاتی تھی اور نہ صرف مسلمان بلکہ معاشرے کی دوسری قومیں بھی ان کو برابری کا درجہ دینے لگتیں تھیں۔ اس نے ان لوگوں کے معاشی حالات کو بھی بہتر کیا اور ان کی تقدیر کو مکمل طور پر بدل دیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ہندوستان میں جبری تبدیلی مذہب کا اثر برائے نام تھا اور آرنلڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”مسلم حکمرانوں کی طرف سے تشدد سے اسلام کے پھیلاؤ پر کتنا کم اثر پڑا اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے سابقہ مراکز بشمول دہلی اور آگرہ جیسی جگہوں میں مسلم آبادی دس، پندرہ فیصد سے زیادہ نہیں رہی۔

اس کتاب میں کیرالہ، تامل ناڈو، گجرات، مہاراشٹر، گوا، بنگال اور کشمیر میں اسلام کی ابتدائی آمد کے بارے میں تفصیلی ابواب ہیں۔ اس میں صوفیاء کرام کے بارے میں بھی ایک تفصیلی باب ہے جنہوں نے پورے ملک پر گہرا اثر ڈالا اور اسلام کو شمال سے جنوب اور ملک کے مشرقی حصوں سے لے کر مغربی حصوں تک مقبول کیا۔

یہ کتاب یقینی طور پر اس بات پر ایک طویل مدتی اثر ڈالے گی کہ ہم برصغیر پاک و ہند میں اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کو کس طرح دیکھتے ہیں۔ اس کی بہت ضرورت تھی اور ایسے وقت جب اسلامو فوبیا اپنے عروج پر ہے تو سید عبیدالرحمٰن کو اس اہم کتاب کی تصنیف پر داد دینی چاہیے۔

Name of the Book: Peaceful Expansion of Islam in India Author: Syed Ubaidur Rahman Pages, 439, Hardbound, Price: Rs 995. Publisher: Global Media Publications Contact: 9818327757

You may also like