آہ، ظالم! تو جہاں میں بندۂ محکوم تھا ـ خان یاسر

موت کے سوداگروں کی کارستانیوں کے نتیجے میں ملک بھر میں موت کا بازار گرم ہے۔ آج ایک ایسے فرد کے انتقال کی خبر بھی آئی جسے زندگی نے صحافت کے فرائض کی ادائیگی کے لیے چن لیا تھا۔ اس فرد نے بحیثیت صحافی، بحیثیت شہری اور بحیثیت انسان اپنے فرائض کی ادائیگی میں مجرمانہ غفلت سے کام لیا… یا شاید یہ کہنا زیادہ صحیح ہو کہ مظلوم کی آواز بننے کے بجائے ظالم کی آواز بن کر اس نے صحافت کا ایک معیارِ معکوس قائم کیا۔ ایسا اس نے ظالموں کے خوف سے کیا یا جاہ و منصب و دولت کے حصول کے لیے، یہ وہ خود بہتر جانتا ہوگا۔ یہ مقاصد اسے حاصل ہوئے یا نہیں، یہ تو اس سے بہتر اور کوئی نہیں جان رہا ہوگا۔ زندگی بھر کیمرے کے سامنے بیٹھ کر چیخ چیخ کر جس ظالمانہ نظام کی وکالت کی، آخر اسی نظام کی نااہلی کی بھینٹ چڑھ گیا: فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ!
ایک شخص اپنے اعمال کے ساتھ اپنے رب کے حضور پہنچ گیا۔ ہمارے لیے یہ عبرت کا مقام ہے… خوشی کا نہیں۔ کسی دوسرے کو امتحان میں فیل ہوتا دیکھ کر خوش ہونا ایک سنجیدہ اور کامیاب طالب علم کی علامت نہیں ہے۔ ایک مخلوق اگر خالق کو پہچانے بغیر اور ایک صحافی اپنی صحافتی ذمہ داریوں سے غفلت برت کر اللّٰہ کے دربار میں حاضر ہوگیا تو اس میں خوشی کیسی؟ خوشی کا موقع تب ہوگا جب ہم اپنے رب کے سامنے اس حال میں حاضر ہوں کہ ایک مومن کی حیثیت سے شہادت حق، اعتصام باللہ، تمسک بالقرآن اور اقامت دین کی ذمہ داریوں کو کماحقہ نبھاتے رہے ہوں۔
اُس نے اپنی ذمہ داری نہ نبھائی ـ آج اُس کی باری تھی! ہم اپنی نبھائیں یا نہ نبھائیں،باری تو ہماری بھی آنی ہے!
سوچنے کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ ضمیر فروش صحافیوں کی فہرست میں یقیناً وہ اکیلا نہ تھا۔ میڈیا ہی نہیں، زندگی کے ہر شعبے میں پاسدارانِ ظلم و جہل کا اگر ہم شمار کرنا چاہیں تو شاید نہیں کرسکیں گے۔ ایسے میں سسٹم پر مومنانہ جرأت اور داعیانہ خیرخواہی کے ساتھ تنقید ضروری ہے۔ خیال رہے کہ یہاں سسٹم سے صرف نظم حکومت اور انتظامیہ مراد نہیں ہے بلکہ پورا نظام مراد ہے ـ نظام اگر ظلم و استحصال پر مبنی ہو تو ہر شعبۂ زندگی میں چھوٹے بڑے ظالم اور اعوان و انصار اور ان کے وکیل پیدا ہوتے رہیں گے، ایک کے جانے کے بعد دوسرے ان کی جگہ لیتے رہیں گے… زمین پر جب تک انسان خدا بنے رہیں گے اس وقت تک فتنہ و فساد بھی ہوتا رہے گا اور انسان اپنے منصب اور فرائض سے غافل رہ کر اسفل السافلین کی نت نئی تفسیریں پیش کرتا رہے گا۔ انسانوں کو معیارِ مطلوب تک لے جانا ہے تو ان تک حق کا پیغام لے کر پہنچیں۔ جسے جانا تھا وہ جاچکا۔ اس میں خوشی ڈھونڈنے کے بجائے یہ سوچیے کہ جو رہ گئے ہیں ہمارے پاس ان کی اصلاح کا کیا پروگرام ہے؟
مختصراً یہ کہ خوشی اس وقت منائیں جب کسی ایک ضمیر فروش کا نہیں بلکہ صحافت سے (اور ملک سے) ضمیر فروشی کا خاتمہ ہو۔ اور اُس صبح کے آنے میں ہمارے قلم کی روشنائی، آنکھوں کا تیل، ماتھے کا پسینہ اور جگر کا لہو شامل ہو۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*