Home خاص کالم میٹھی عیدکی میٹھی یادیں-معصوم مرادآبادی

میٹھی عیدکی میٹھی یادیں-معصوم مرادآبادی

by قندیل
یہ عجب اتفاق ہے کہ جس مسجد کی چھت پر چڑھ کر ہم بچپن میں عیدکا چاند دیکھنے کی کوشش کرتے تھے اس کا نام ہی چاندوالی مسجد تھا۔یہ ہمارے وطن مرادآباد میں پرنس روڈ پر محلہ کٹارشہید میں واقع تھی۔ مسجد تو آج بھی ہے، مگر نئی تعمیرات کے سبب اب اس کی چھت پر چڑھنا آسان نہیں رہ گیا ہے اور نہ ہی لوگوں میں چاند دیکھ کر عید منانے کی للک باقی رہی ہے۔ جب سے چاند دیکھنے کا کام رویت ہلال کمیٹیوں کے سپرد ہوا ہے تب سے صورتحال بدل گئی ہے، ورنہ لوگ انفرادی طورپر چاند دیکھنے کا اہتمام کرتے تھے اور جب تک خود چاند کے دیدار نہ کرلیںتے ، عید منانے کا قصد ہی نہ کرتے۔واقعی کیا زمانہ تھا۔عیدآتی تو ساری خوشیاں اپنے ساتھ لاتی تھی اور کئی کئی دن اس کا سرور رہتا تھا، لیکن آج سب کچھ بدل گیا ہے۔زمانہ بدلتا ہے تو اس کی قدریں بھی بدل جاتی ہیں۔
جی ہاں آج عید ہے۔ وہی عید جس کا انتظار ہم سب بڑی بے چینی سے کرتے ہیں اور وہ چند لمحے گزار کررخصت ہوجاتی ہے۔ ان چند لمحوں کی خوشی کے لیے ہم کتنے جتن کرتے ہیں۔ کیسی کیسی تیاریاں ہوتی ہیں اور کتنے دن تک عید کا سرور ذہنوں میں رہتا ہے۔ کئی کئی دن لوگ کام پر نہیں لوٹتے اور عید کی خوشی میں مگن رہنا چاہتے ہیں۔ یقیناََ عید عالم اسلام کا سب سے بڑا تیوہار ہے جس کی خوشیاں ہی سب سے الگ ہیں۔ لوگ دوردراز علاقوں اور ملکوں سے اپنے گھر والوں کے ساتھ عید منانے کے لیے سفر کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں۔ کیونکہ اپنے گھروالوں کے ساتھ عید منانے کا لطف ہی کچھ اور ہے۔اسی لیے عید کے دن سب اپنے عزیزواقرباء کے گھروں پر جاتے ہیں اور عید کے پکوان بڑے ذوق وشوق سے کھاتے ہیں۔ عید پر گھر میں ہر چیز نئی ہوتی ہے۔نئے کپڑے، نئے جوتے، نئی ٹوپیاں اور نئی جاء نمازیں یعنی سب کچھ نیا ہی نیا۔ یہاں تک کہ گھروں میں سفیدی، چادریں، تکئے اور دسترخوان بھی نئے نئے۔ یہ قدرت کا کتنا بڑا انعام ہے جو اللہ کے بندوں کو رمضان کی عبادتوں اور ریاضتوں کے طفیل ملتا ہے۔ کیسی نعمت اور برکت کا دن ہے یہ عید الفطر کا دن۔عید کے دن اپنوں سے گلے ملنے پر جو خوشی ہوتی ہے، وہ کسی اور موقع پر نہیں ہوتی۔ یہ دنیا کی شاید سب سے پرانی رسم ہے اور  شاعر قمر بدایونی نے اسے ان لفظوں میں زبان دی ہے۔
عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم
رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے
عید کا تہوارخوشی اور مسرت کا تہوار ہے، جسے ہم اپنے بچپن سے مناتے چلے آرہے ہیں۔آج سے پچاس سال پہلے کی عید کو یاد کرتا ہوں تو ذہن میں کیسی خوشگوار یادوں کے نقوش ابھرتے ۔کیسے نرالے دن تھے۔ ہم رمضان شروع ہوتے ہی بے چینی سے عید کا انتظار شروع کردیتے تھے۔ایک ایک روزہ اسی انتظار میں گزرتا تھا کہ جلدی سے عید آجائے۔ مگر عید تو اپنے وقت پر ہی آتی تھی۔ یوں تو رمضان کے تیس روزے فرض ہیں، لیکن ایسا کم ہی ہوا کہ پورے تیس روزے رکھے ہوں۔ اکثر 29 ویں شب میں ہی چاند دیکھنے کی عجلت ہوتی تھی اور عید کے شوقین کہیں نہ کہیں سے اس کی خوش خبری لے بھی آتے تھے۔ اکثر یوں بھی ہوا کہ رات گئے چاند کی رویت کا اعلان ہوا اور عید کے شادیانے بجنے لگے۔واقعی 29 کا چاند دیکھنے کی جو خوشی ہوتی تھی، وہ تیس روزے پورے کرنے میں آج بھی نہیں ہوتی۔
کتنی مشکل سے فلک پہ یہ نظرآتا ہے
عید کے چاند نے بھی انداز تمہارے سیکھے
 ہمیں یاد ہے کہ جب ہم عید کی صبح نئے کپڑے، نئے چپل پہنے ہوئے اپنے والد کی انگلی پکڑ کر عیدگاہ جاتے تھے تو وہاں فرزندان توحید کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہوتا تھا۔نماز کے بعد سڑکوں پر بچوں کی دلچسپی کاہر سامان دستیاب ہوتا،جسے ہم ضد کرکے خریدتے اور پھر تھوڑی ہی دیر میں اس کا قصہ بھی تمام کردیتے۔ عیدی اتنی ملتی تھی کہ چھوٹی سی جیب بھر جایا کرتی تھی، مگر وہ نوٹوں کا زمانہ نہیں تھا۔ ہمیں چارآنے، آٹھ آنے ہی عیدی کے طورپر ملتے تھے، مگر ان میں جو برکت تھی وہ آج سینکڑوں روپوں میں بھی نہیں۔ یوں لگتا تھا کہ ہماری جیب اشرفیوں سے بھری ہو ۔
 مرادآباد کی عیدگاہ میں نمازدوگانہ کی ادائیگی کے بعد ہم اپنے ابو کی انگلی پکڑ کر سب سے پہلے دادا اور دادی کی قبر پر فاتحہ پڑھنے قبرستان جاتے تھے۔یہ قبرستان ہی دادا والا قبرستان کہلاتا تھا اور آج بھی ہے۔ یہیں ہمارے بیشتر رشتہ داروں کی قبریں ہیں۔ خود والدین بھی اسی میں آسودہ خواب ہیں۔قبرستان میں حاضری کے بعد قریب ہی ایک عزیز کے گھر جاتے جہاں عید کے پکوان ہمارے منتظر ہوتے تھے۔ سوئیّاں، دہی بڑے، پلاؤ، شامی کباب اور شیر کھاکر طبیعت سیر ہوجاتی تھی۔یہ تمام اشیاء ہمارے گھروں کی خواتین پوری پوری رات جاگ کر تیار کرتی تھیں۔پتھروں کی سلوں پر اڑد کی دال پیسی جاتی اور اس کے دہی بڑے بنائے جاتے۔رات ہی کو پلاؤ کی یخنی بھی تیار ہوجاتی۔ شامی کبابوں کا قیمہ بھی پتھر کی سلوں پر اتناباریک پیسا جاتا کہ آپ اسے ہونٹوں سے کھالیں۔
جب سے ہمارے گھروں میں مکسی آئی ہے تب سے دہی بڑوں، کوفتوں اور شامی کبابوں کا لطف ہی جاتا رہا۔آج میں سوچتا ہوں کہ ہماری ماں، بہنیں کھانے کی تیاری پر کیسی کیسی محنتیں کرتی تھیں۔عید کی صبح جب ہم بیدار ہوتے تو کرتا، پائجامہ، نیا بنیان اور جوتیاں ہماری منتظر ہوتیں۔ہمارے کپڑے گھر میں ہماری والدہ یا بڑی بہنیں سیتی تھیں۔ اب تو ریڈی میڈ کاز مانہ ہے۔کسی کاکرتا چھوٹا تو پائجامہ بڑا اور کسی کا پائجامہ چھوٹا تو کرتا بے ڈھب۔ اسی کانام فیشن پڑ گیا ہے۔ لیکن مجال ہے کہ ہماری ماں اور بہنوں کے تیار کیے کپڑوں میں کوئی نقص نظر آجائے۔
عید کارڈکتنے لوگوں کو یاد ہیں، جو بازار میں ملتے تھے۔ کیسی حسین عبارتوں سے مرصع ہوتے تھے۔ان کارڈوں کی خوبی یہ تھی کہ ہر رشتہ دار کو مبارکباد پیش کرنے کی عبارت الگ ہوتی تھی۔ہم اپنے بچپن میں ان عید کارڈوں کی تلاش میں گھنٹوں صرف کیا کرتے تھے۔لیکن اب یہ عید کارڈ قصہ پارینہ ہوچکے ہیں اور ان کی جگہ سوشل میڈیا نے لے لی ہے۔
 عید کے تہوارسے کتنوں کی روزی روٹی وابستہ ہے، اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ تین سال پہلے لاک ڈاؤن کے دوران دہلی کے تاجروں نے کہا تھا کہ  عید کی خریداری نہ ہونے کے سبب انھیں 300 کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔واقعی ایک عید سے کتنے گھروں میں چراغ جلتے ہیں۔ عید کے دن ہمیں ان غریبوں اور مساکین کو ضرور یاد رکھنا چاہئے جو ہماری طرح خوشحال اور مالا مال نہیں ہیں۔ اس وقت سب سے زیادہ ضروری غزہ کے ان معصوم بچوں، عورتوں، بوڑھوں اور جوانوں کو یاد رکھنا ہے جو گزشتہ چھ ماہ سے اسرائیل کی درندگی اور بربریت کا شکار ہیں۔

You may also like