اردو اور عربی قصیدے پر تقابلی تنقید کی ایک عمدہ اور وقیع مثال :ڈاکٹر شیخ عقیل احمد

قومی اردو کونسل میں ڈاکٹریوسف رامپوری کی کتاب کی رسم رونمائی
نئی دہلی: ’قصیدہ ‘شاعری کی مایۂ ناز صنف ہے۔اس کی ابتدا عربی سے ہوئی ،پھر فارسی سے منتقل ہوکر یہ صنف اردو میں آئی۔علوئے مضامین، شوکتِ الفاظ، رفعتِ تخیل اور نزاکت کے سبب جس طرح اس صنف پر طبع آزمائی کرنا آسان نہیں ہے، اسی طرح قصیدے پر تنقید لکھنا بھی جوکھم اور چیلنج بھراکام ہے۔ اس کے لیے جہاں قصیدے کے فن سے واقفیت ضروری ہے، وہیں لسانیات کاگہراعلم بھی ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر یوسف رامپوری نے ’اردو اور عربی کے اہم قصیدہ گوشعرا‘ کے عنوان سے جو کتاب تصنیف کی وہ نہایت وقیع ہے اور تحقیق کے باب میں مثالی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں انھوں نے تقابلی تنقید کا ایک عمدہ نمونہ پیش کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹرشیخ عقیل احمد نے کونسل کے صدر دفترمیں منعقدہ رسم اجرا کی تقریب میں کیا۔ انھوںنے کہا کہ یہ کتاب عہدِ حاضر میں اس لیے اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں اردو اورعربی کی قصیدہ گوئی کا تقابلی وتنقیدی جائزہ لیا گیا ہے اور دونوں زبانوںکے ممتاز شعرا کے قصائد سے بحث کی گئی ہے۔ کتاب پر ایک نگاہ ڈالنے سے ہی پتہ چل جاتاہے کہ مصنف کی نگاہ عربی اور اردو دونوںزبانوں کی قصیدہ گوئی پر بہت گہری ہے اورانھیں دونوں زبانوں کی تاریخ و ادب کی گہری معلومات کے ساتھ دونوں زبانوں پر عبور بھی حاصل ہے۔
اس موقعے پر حقانی القاسمی نے کہا کہ اردو زبان میں قصیدے کے تعلق سے یہ اپنی نوعیت کا بہت ہی اہم تقابلی مطالعہ ہے۔ اس میں عربی اور اردو دونوں زبانوں کے قصائد کا مربوط اور مرکوز جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ عربی اور اردو قصائد کے کینن، اشتراکات، افتراقات ، موضوعاتی اور ہیئتی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔عربی اور اردو قصائد کے جملہ مباحث کو بہت ہی عمدگی سے سمیٹا گیا ہے اور زبان و بیان میں جامعیت اور معروضیت کا خاص خیال رکھا گیاہے۔ اس موقعے پر ڈاکٹر عبدالرشید اعظمی نے یوسف رامپوری کی تحقیقی و تنقیدی کتاب کی اہمیت و معنویت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ فی زمانہ قصائد کو پڑھنا اور سمجھنا بھی مشکل ہوگیا ہے مگر یوسف رامپوری نے ژرف نگاہی سے عربی اور اردو دونوں زبانوں کے قصائد پر کام کیا ہے اس لیے یہ کتاب علمی اور ادبی حلقوں میں یقینا قبولیت کی نظر سے دیکھی جائے گی۔ کتاب کے ناشر مولوی فیروز اختر قاسمی نے بھی اس موقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یوسف رامپوری کی نصف سے زائد کتابیں زیور طبع سے آراستہ ہوچکی ہیں اور بہت سے تحقیقی و تنقیدی مصامین موقر رسائل و جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ یہ کتاب یوسف رامپوری کی مطالعاتی وسعت اور محنت و ریاضت کی عمدہ مثال ہے۔ صاحبِ کتاب یوسف رامپوری نے تمام سامعین اور مہمانان کا شکریہ ادا کیا اور کتاب کے تعلق سے تعارفی کلمات پیش کیے ۔ محترمہ آبگینہ عارف نے پروگرام کی نظامت کے فرائض انجام دیے۔ رسم اجرا کی اس تقریب میں قومی اردو کونسل کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر (ایڈمن) جناب کمل سنگھ، ڈاکٹر کلیم اللہ (ریسرچ آفیسر) ، ڈاکٹر فیروز عالم (اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر)، ڈاکٹر وسیم اقبال، ڈاکٹر نوشاد منظر، ڈاکٹر مسرت، مشہود عالم، محمد اکرام، محمد فہیم وغیرہ نے شرکت کی۔