تلنگا نہ اور آندھر پردیش میں اردو کی سمٹتی بساط باعث تشویش: انور پاشا

اردو طبقہ اپنی زبان کی جانب سے بیگانہ ہوتا جارہا ہے: ڈاکٹر مصطفی کمال
حیدرآباد:’کل ہند انجمن اساتذہ ٔ اردو جامعات ہند‘ کے زیر اہتمام’’ تلنگا ، آندھر اپردیش میں اردو : مسائل وامکانات‘‘ کے موضوع پر منعقدہ آن لائن قومی مذاکرے میں شرکا نے تلنگا نہ اور آندھرا پردیش میں اردو کے بدلتے منظرنامے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ابتدائی سطح پر اردو تعلیم کی بنیادوں کو مضبوط کرنے اور اس سلسلے میں عوامی سطح پر تحریک چلانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ اس قومی مذاکرے کے آغاز میں انجمن کے سکریٹری پروفیسر شہاب عنایت ملک نے انجمن کو سرگرم بنانے کے لیے پروفیسر انور پاشا کو مبارکبا د دیتے ہوئے اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ جموں وکشمیر جیسی ریاست میں جہاں کہ اردواحد سرکاری زبان کا درجہ رکھتی ہے وہاں بھی اردو کی جڑوں کو کا ٹنے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں ۔ انجمن کے صدر پروفیسر علی جاوید نے ماضی میں آندھرا پردیش میں سرگرم شخصیات کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کی جانب توجہ دلائی کہ اردو تعلیم کے سلسلے میں جو سروے کیے گئے ہیں ان کو حاصل کرکے ان کی بنیاد پر مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے ۔ انجمن کے قومی کنوینر پروفیسر انور پاشا نے کہا کہ تلنگا اورآندھر اپردیش میں اردو کی سمٹتی بساط باعث تشویش ہے۔ کیوں کہ یہ وہ خطہ ہے جو اردو کا گہوارہ رہا ہے اور جہاں اردو کی جڑیں بہت مضبوط تھیں ، لہذا اس سلسلے میں مرکزی وریاستی سطح پر لائحہ عمل تیار کرکے ان پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔مذاکرے کے مہمان مقرر پروفیسر بیگ احساس صاحب نے آندھرا وتلنگانہ کے اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اردو کے بتدریج گھٹتے اساتذہ وطلبا کی تعداد اور بند ہوتے شعبے کو تشویش ناک بتایا اور کہا کہ ہم نے اس حقیقت کی جانب سے آنکھیں بند کرلی ہیںجو اردو کے سلسلے میں ہمارے رویے کا مظہر ہے۔ مہمان مقرر پروفیسر نسیم الدین فریس صاحب نے اردو اخبارات ورسائل کے گھٹتے قارئین اور ریاست میں یونیورسٹیوں میں شدت سے کم ہوتی مقامی طلبا کی تعداد کو خطرے کی گھنٹی قرار دیا او ر اس سلسلے میں سنجیدگی سے لائحہ عمل طے کرنے کی ضرور ت پر زور دیا ۔ مذاکرے کے اہم مقررین میں سے ڈاکٹر محمد ایوب حسین نے آندھرا اور تلنگانہ میں ابتدائی وثانوی سطح پر اردو تعلیم کو جن زمینی حقائق اور چیلنجز کا سامنا ہے اور مرکزی وریاستی سطح پر انتظامیہ کا جومنفی کردار رہا ہے ان کا ذکر کرتے ہوئے اعداد وشمار کے ذریعہ اردو تعلیم کی صورت حال سے آگاہ کیا اور اس سلسلے میں اپنے تجربے کی بنیاد پرکارآمد مشورے دیے۔ اسکولی تعلیم سے وابستہ جناب خواجہ قطب الدین نے اسکولی نظام تعلیم میں اردو کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے اردو آبادی کو اپنی مادری زبان کے تئیں بیدار کرنے کا مشورہ دیا۔ مذاکرے کے صدر ڈاکٹر مصطفی کمال نے اپنے طویل تجربے کی بنیاد پرماضی اور حال کے منظرنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے اردوداں حلقے میں پیدا ہورہی بے حسی اور اپنی زبان کی جانب سے بیگانگی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے فرمایاکہ ضروری ہے کہ اردو تنظیموں اور اداروں کو فعال بنایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ایک زمانے میں انجمن ترقی اردو ہند اور انجمن ترقی پسند مصنفین کا فی سرگرم اور متحرک تھیں لیکن اب یہ دونوں انجمنیں قصۂ پارینہ بن چکی ہیں ۔ انھوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ کل ہند انجمن اساتذہ ٔ اردو متحرک ہوئی ہے اور اس انجمن کے زیر اہتمام اردو کی کھوئی ہوئی بنیادوں کی بازیافت کی سمت میں سنجیدہ کاوشیں ہونی چاہیے۔مذاکرے کی نظامت کے فرائض پروگرام کے کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر فیروز عالم نے بخوبی انجام دیے اور اپنے تمام مہمانوں کا تعارف کراتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان شخصیات کے مشورے سے انجمن آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرے گی ۔ مذاکرے میں جناب شوکت حیات صاحب کے علاوہ متعدد اہم شخصیات موجود تھیں اور بڑی تعداد میں ناظرین آن لائن اس سے وابستہ تھے۔