دلیپ کمار کی آپ بیتی ـ قیصر نذیر خاور

ہوش سنبھالنے پر مجھے احساس ہوا کہ میری آپی (والدہ) یا میری سب سے بڑی بہن شمع (جسے گھر میں بے بی پکارا جاتا تھا) جب مجھے سکول جانے کے لئے صبح تیار کرتی تھیں تو وہ آخر میں ‘سرومچو’ کو چولہے پر پڑے توے کو الٹا کرکے اسے توے کی کالک سے چھوا کر میرے چہرے کے کسی حصے پر ایک نشان لگا دیتی تھیں ۔ یہ عمل سہ پہر کو دوبارہ دوہرایا جاتا تھا جب میں پھر سے تیار کیا جاتا تھا تاکہ کھیلنے کے لیے باہر جا سکوں ۔ میں اس پر جھنجھلا جاتا تھا اور گھر کی سیٹرھیاں اترتے اترتے اسے پونچھ دیتا تھا اور گلی کے نکڑ پر لگے میونسپلٹی کے نلکے سے منہ پر پانی کے چھینٹے مار کر اسے مٹا دیتا تھا ۔ مزید بڑے ہونے پر سمجھ آئی کہ توے کی کالک کا یہ چھوٹا سا نشان تو ‘ نظر بٹو ‘ ہے جو میری ماں اور بہن یہ یقین رکھتے ہوئے میرے چہرے پر لگا دیتی ہیں کہ میں لوگوں کی بُری نظروں سے بچا رہوں ۔ ان کی یہ حرکت اس وقت تک تو باقاعدگی کے ساتھ جاری رہی جب تک مجھے خود تیار ہونے کا سلیقہ نہیں آیا تھا ۔ اس کے بعد بھی جب میں تیار ہو رہا ہو تا تھا تو ان دونوں میں سے کوئی نہ کوئی ایک اس طاق میں رہتی کہ جیسے ھی میں تیاری مکمل کر لوں تو وہ مجھے گھیر گھار کر ایک عدد نظربٹو میرے منہ پر چپکا دیں ۔ میں چیختا چلاتا رھتا کہ اب میں بڑا ھو گیا ھوں اب تو ایسا مت کیا کریں لیکن ان کی اُس محبت کا کیا کرتا جس میں انہیں سوائے اس کالے مصنوعی تِلک کو میرے منہ پر چسپاں کرنے کے اور کوئی سجھاؤ آتا ھی نہیں تھا جس کے ذریعے وہ اپنے اس لاڈلے کو دنیا کی نظر بد سے بچا کر رکھ سکیں ۔
اسی طرح کی ایک اور محبت مجھے اپنی دادی میں بھی نظر آتی تھی جو خود ستر کے پیٹے میں تھیں لیکن میرے والد جو پچاس ٹاپ رہے تھے ، کے لیے ان کی محبت سال میں ایک بار ضرور جوش مارا کرتی تھی ۔ ایسے سمے میرے دیکھنے میں یہ آتا کہ دادی ، جو ہمارے ساتھ والے مکان میں چچا کے ساتھ رہتی تھیں ، پھوپھو جو سامنے والے گھر میں اپنے کنبے ساتھ آباد تھیں اور ہمارے گھر میں ایک ہی طرح کی سرگرمی چل رہی ہوتی تھی ۔ یہ عام طور پر منگل اور بدھ کے دن ہوتے تھے ۔ گھر کے تمام برتن راکھ سے مانجھے جا رہے ہیں ، انہیں اچھی طرح دھونے اور چمکانے کے بعد دھوپ میں سکھایا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہم بچوں کو اٹھتے بیٹھتے تاکید کی جا رہی ہے کہ آنے والی جمعرات سے اس سے اگلی جمعرات تک کسی نے نہ تو باہر کوئی ایسی شے کھانی ہے جس میں گوشت کے شامل ہونے کا ہلکا سا بھی شائبہ ہو اور نہ ہی اسے گھر میں لے کر آنا ہے ۔ اس ایک ہفتے میں تینوں گھروں میں سوائے دال سبزی کے اور کوئی شے نہیں پکا کرتی تھی ۔ خدا خدا کرکے وہ جمعرات آتی جس دن یہ کرفیو ختم ہونا ہوتا تھا ۔ اس روز بہت اہتمام سے انڈوں کو ابالا جاتا تھا ، ثابت مونگ پکتی ، کھٹی مولیوں کا سالن اور ابلے ہوئے چاول (خشکہ ) بنتے ۔ اور مغرب کی اذان سے پہلے ہمارے ان تین گھروں سے ایک ایک تھال نکلا کرتا تھا جس پر ایک پلیٹ میں ابلے چاول ، ایک پیالے میں کھٹی مولیوں کا سالن اور دوسرے میں ثابت مونگ بمع دو عدد ابلے انڈے رکھے ہوتے تھے ۔ ان تینوں تھالوں کی منزل نزدیک والی مسجد ہوا کرتی تھی ۔ ان تھالوں میں سے ایک تھال میرے ہاتھ میں بھی ہوتا تھا اور میں دل میں خوش خوش تیز قدم چلتا مسجد کی طرف بڑھتا ۔ خوشی اس بات کی ہوتی تھی کہ گوشت نہ پکنے کا کرفیو اب بس ٹوٹنے کو ہے ۔ یہ سب کیا تھا اور سال میں ایک بار ایسا کیوں ہوتا ہے ، اس کی سمجھ بھی کچھ بعد میں آئی ۔ ہوا کچھ ایسے تھا کہ جب ہمارے والد پیدا نہ ہوئے تھے اور ہمارے دادا دادی کے ہاں پھوپھوؤں کی لائن لگی تھی تو ہمارے دادا اور دادی کشمیر گئے تھے اور چڑڑ شریف میں ” نور الدین رِشی ” کے مزار پر اولاد نرینہ کی مَنت مان کر آئے تھے ۔ جب ہمارے والد پیدا ہوئے تو میرے دادا دادی نے مَنت میں وعدہ کی باتیں تو پوری کی ہی ہوں گی لیکن ہمارے والد کی لمبی حیات کے لیے ہماری دادی نے ‘ نور الدین رِشی’ کے نام پر اس نیاز کو ، جس کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے ، جاری و ساری رکھا ۔ دادی فوت ہوئیں تو ہماری والدہ نے بھی اس نیاز کو اس وقت تک جاری رکھا جب تک ہمارے ‘بو جی’ حیات رہے ۔ جو لوگ ‘ نور الدین رِشی ‘ کے بارے میں جانتے ہیں ان کو بخوبی علم ہے کہ انہوں نے اپنی ساری زندگی گوشت نہیں کھایا تھا اور بھات ساگ سے پیٹ کی آگ کو شانت رکھا تھا اور عمر کے آخری حصے میں اس سے بھی کنارہ کرتے ہوئے دودھ اور پانی پر ہی اکتفا کیا تھا ۔
میں نے ابھی ابھی دلیپ کمار کی آپ بیتی ” The Substance and the Shadow ” ختم کی ہے ۔ یہ آپ بیتی میرے پاس آ تو دسمبر شروع ھونے سے پہلے ہی گئی تھی لیکن میں نے طے کیا تھا کہ میں اسے ۱۱ دسمبر سے پڑھنا شروع کروں گا جب دلیپ کمار (یوسف خان ) کا 92 واں جنم دن خیریت سے گزر جائے گا ۔ ویسے تو موت کا کھٹکا ہر وقت لگا رہتا ہے لیکن میرے دل میں ایک وہم سا تھا ( ان کی ناساز طبیعیت اور نمونیے کا سن کر ) کہ اس عمر میں کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ اگلا پل زندگی کا ہے یا اس نے عالم برزخ کے کھاتے میں جا درج ہونا ہے ۔ میں چاہتا تھا کہ دلیپ کمار کے اندر کا یوسف خان زندگی کی 92 ویں سالگرہ آتش دان کے سامنے آگ سینکتے گزار لے تو ان کی کتاب کا پلاسٹک ریپر اتاروں ۔ جیسے ہی یہ خبر مجھ تک پہنچی کہ یہ دن خیریت سے گزر گیا ہے تو میں نے ان کی آپ بیتی کو ریپر سے آزاد کیا اور ندیدوں کی طرح اس کے حروف کو چاٹنے لگا ۔ ادھر کتاب ختم ھوئی ادھر میں ماضی میں گیا اور مجھے وہ یاد آیا جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں ۔
محبت کا کچھ ایسا ھی انداز مجھے دلیپ کمار کی آپ بیتی میں نظر آیا جہاں ان کی ہندکو/ پشتو بولنے اور ھندکو/ پشتو کلچر سے وابستہ دادی نے یوسف خان کے پیدا ھونے کے بعد ان کو ‘نظر بد’ سے بچانے کے لیے ‘ نظر بٹو ‘ لگا کر ان کی درازیِ عمر کی دعا کی تھی ۔ یہ شاید اُسی نظر بٹو کا کمال ھے جسے ان کی دادی ، ان کی اماں اور آغا جی (والد) کی مخالفت کے باوجود ، لگاتی رھیں اور اب سائرہ بانو ان کے ماتھے پر لگاتی اور ان کی دراز عمر کی دعا کرتی ہیں ، کہ وہ اوپن ہارٹ سرجری اور دیگر بیماریوں کے باوجود زندگی کی 92 بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔
قدرت شاید اس میں ھی بھلا دیکھ رھی تھی کہ پشاور کے قصہ خوانی بازار میں محمد غلام سرور کے ھاں پیدا ھونے والا یوسف خان پشاور سے نکلے ، بمبئی جائے اور فلمی دنیا میں کوہ نور کی طرح چمک کر لوگوں کی نظروں کو خیرہ کرے ۔ تبھی اس کے والد نے پشاور سے بمبئی (موجودہ ممبئی) نقل مکانی کی ٹھانی اور ۱۹۳۰ کی دیائی میں وھاں جا آباد ھوئے ۔ محمد غلام سرور کا دیولالی میں بھی پھلوں کا باغ تھا وہاں برنیز سکول آج بھی موجود ھے بلکہ اب تو کالج بن چکا ھے ۔ یوسف خان کا پچپن اسی سکول میں گزرا تھا ۔
جوانی میں قدم رکھنے پر پھل فروش باپ کا یہ بیٹا اپنے اندر اداکاری کے بِن تراشے (uncut) ہیرے کو چھپائے ‘پونا’ کے اندو ملٹری کنیٹینز (Aundh military canteens) میں سے ایک کینٹین پر پھل فروشی کے دھیان میں تھا کہ بمبئی ٹاکیز کی دیویکا رانی نے یوسف خان میں چھپے اُس ہیرے کو پہچان لیا اور اسے فلمی دنیا میں دلیپ کمار کے نام سے لا کھڑا کر دیا ۔
وہ اپنی آپ بیتی میں اس بارے یوں لکھواتے ھیں : "۔ ۔ ۔ وہ بات کرتے کرتے انگریزی پر اتر آئیں ، جس پر انہیں کمال کا عبور حاصل تھا ، وہ بولیں ‘ یوسف میں سوچ رہی تھی کہ تھہیں بطور اداکار متعارف کراوٗں اور یہ کوئی بری بات نہ ھو گی کہ تم اپنے لئے کسی فلمی نام کا انتخاب کر لو ۔ ۔ ۔ ۔میرا خیال ھے دلیپ کمار ایک اچھا نام رہے گا ۔ ۔ ۔ تمہیں یہ کیسا لگتا ھے ؟’ ۔ ۔ ”
۱۹۴۴ کی ‘ جوار بھاٹا ‘ دلیپ کمار کی پہلی فلم تھی ۔ اس بارے میں وہ لکھتے ہیں : ” میرا خیال ھے کہ میں بہت خوش قسمت تھا کہ میں نے بمبئی ٹاکیز کے تھرتھراہت پیدا کرنے والے ماحول میں کم عمری ہی میں کام کرنا شروع کر دیا تھا جہاں نیو تھیئٹر سے آئے لکھاری بھی تھے اور عمدہ لکھتے تھے ۔ ” لیکن یہ لاھور کے شوکت حسین رضوی کی فلم ‘ جگنو ‘ (۱۹۴۷) تھی جس میں دلیپ کمار نے نورجہاں کے مقابل ہیرو کا کردار ادا کرکے اپنے اندر چھپے اداکاری کے جوہر کی ایک جھلک دکھائی اور میلہ لوٹ لیا تھا ۔
اس کامیابی کے بارے میں دلیپ کمار اپنی آپ بیتی میں اس سرد جنگ کا تفصیل سے ذکر کرتے ہیں جو ان کے اور ان کے آغا جی (والد ) کے درمیان اس وقت سے جاری تھی جب سے انہوں نے ‘ جوار بھاٹا ‘ میں کام کیا تھا اور اس کے بعد کی دو فلمیں پریتما (۱۹۴۵) اور ملن (۱۹۴۶) بھی اسے ختم نہ کر پائی تھیں ۔ یہ ‘جگنو’ ھی تھی جس نے آغا جی کو مائل کیا تھا کہ وہ یوسف خان کو دلیپ کمار کی حیثیت میں قبول کریں ۔
۱۹۵۱ء کی ‘ داغ ‘ نے انہیں ‘پہترین اداکاری’ پر پہلا فلم فئیر ایوارڈ دلایا اس وقت تک وہ فلمی دنیا میں بطور ٹریجڈی ہیرو اپنا ایک خاص مقام پیدا کر چکے تھے اور ان کے معالج ڈاکٹر ڈبلیو ڈی نکولس انہیں یہ مشورہ دے چکے تھے کہ وہ ہلکے پھلکے ‘Light’ کردار بھی کریں ورنہ ان کی صحت پر بُرے اثرات مرتب ھو سکتے ھیں ۔ گو ‘ ٹریجڈی کنگ ‘ اپنی جگہ ‘دیوداس’ جیسے رول بھی نبھاتا رھا لیکن فلم ‘ آن ‘ ۱۹۵۲ء سے ان کی اداکاری کا ایک نیا انگ سامنے آیا ۔ محبوب کی اس فلم میں ‘ نمی ‘ ان کے مد مقابل تھی ۔ پینتس لاکھ روپے کی لاگت سے بنی اس رنگین فلم نے ڈیڑھ کروڑ روپے کا بزنس کیا جو اس وقت کا ایک ریکارڈ تھا ۔ ہلکے پھلکے کرداروں کا یہ سفر ‘ آزاد’ (۱۹۵۵ء) سے ہوتا ہوا دلیپ کمار کے روپ میں چھپے کونور کو تراشتا فلم ‘ کوہ نور ‘ تک لے آیا ۔ یہ فلم ۱۹۶۰ میں ریلیز ھوئی تھی ۔ ‘کوہ نور’ دلیپ کمار کی ہلکی پھلکی ایکٹنگ کے ساتھ ساتھ مینا کماری ، جو اس فلم کی ہیروئن تھیں ، کی بھی مزاح سے بھرپور ایکٹنگ کی وجہ سے اھم ھے ۔ اسی سال ‘ کے آصف ‘ کی بارہ سالہ محنت بھی رنگ لائی اور ‘مغل اعظم ‘ ریلیز ھوئی جس میں کوہ نور کا دھوندر (دلیپ کمار) شہزادہ سلیم تھا اور ‘مدھو بالا ‘ انارکلی کے روپ میں ان کے مد مقابل تھیں ۔
دلیپ کمار کا فلمی سفر اس کے بعد سے سست رو ہو جاتا ہے اور وہ اگلے پندرہ برس میں کوئی قابل قدر کام کرتے دکھائی نہیں دیتے ۔ ۱۹۷۶ سے ۱۹۸۱ تک وہ فلمی دنیا سے دور رہتے ھیں اور پھر بطور کریکٹر ایکٹر کے دوبارہ واپسی پکڑتے ہیں ۔ یہ سفر پھر انہیں صدی کے آخر تک لے آتا ھے ۔ ۱۹۹۸ کی ‘ قلعہ ‘ ان کی آخری فلم ھے ۔
اب دلیپ کمار کی زندگی کا سفر انہیں راجیہ سبھا کی طرف لے جاتا ھے ، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کھڑی نفرتوں کو کم کرنے کی طرف کھینچ لاتا ھے ۔ مکہ اور مدینہ لے جاتا ھے اور اپنی آپ بیتی لکھنے کی طرف بھی راغب کرتا ھے ۔ پتنگیں اڑانے والا یوسف خان ایک لمبے عرصے تک دلیپ کمار میں زندہ رھا ھے ، ڈوروں کی چرخیوں اور پتنگوں بھرا صندوق اب بھی ھے لیکن بازوؤں میں اب دم نہیں رھا ، فٹ بال ، بیڈ منٹن ، کرکٹ ، ہاکی ، گالف سب چھوٹے بس ‘ برج’ اور ‘ شطرنج ‘ رہ گئے ہیں جن سے کبھی دل بہلاوہ ھو جاتا ھے ۔ وہ درجن بھر زبانیں جانتا ھے لیکن اب ڈائیلاگ بولنے کو کچھ بھی نہیں ۔
دلیپ کمار نے اپنی آپ بیتی بہت کھرے پن سے لکھوائی ھے ۔ کامنی کوشل ( اصل نام اوما کشیَپ) اور مدھو بالا (ممتاز جہاں) کے بارے میں انہوں نے سچ بھی لکھا ھے اور شائشتگی کا دامن بھی نہیں چھوڑا ۔ سائرہ سے محبت اور پھر شادی ، بچوں کا نہ ھونا ، اس سے بے وفائی ، پاکستانی ‘ عاصمہ رحمان ‘ جو ان کی بہنوں فوزیہ اور سیعدہ کی سہیلی تھی اور تین بچوں کی ماں تھی ، سے ۱۹۷۹ میں ایک طرح کا تعلق اور پھر ۱۹۸۲ میں قطع تعلق بھی ، یہ سب بھی اس آپ بیتی کا حصہ ھے ۔
اس تعلق کے بارے میں وہ اپنی پشیمانی کا اظہار کچھ یوں کرتے ھیں :
"۔ ۔ ۔ بہرحال میری زندگی کا ایک قصہ ایسا بھی ھے جسے میں بھولنا چاھوں گا کیونکہ اس نے سائرہ اور مجھے ایک دوسرے سے بالکل غافل کر دیا تھا ، یہ واقعی میں ایک سنگین غلطی تھی جو میں نے ایک خاص دباؤ میں آ کر کی تھی ۔ ۔ ۔”
خاصے کھرے پن کے باوجود دلیپ کمار نے ضرورت پڑنے پر کئی باتوں کو اِدھر اُدھر بھی کروا دیا ھے اور یا تو بین السطور چلے گئے ہیں یا پھر بات گول کر گئے ھیں ۔
خیر آپ بیتی لکھنے والے کو اتنا حق تو دینا ھی چاہیے کہ وہ کچھ نہیں بھی لکھنا یا لکھوانا چاہتا تو نہ لکھے یا نہ لکھوائے ۔
اس آپ بیتی کی راوی اودیٰتر نیر (Udayatara Nayar) ہیں ۔ انہوں نے مسیحی ‘فادر’ کی طرح دلیپ کمار سے سب سنا ، خود میں جذب کیا اور پھر اسے لکھا ھے ۔ ان کی انگریزی بھلے اتنی کامل نہیں جتنی کہ انہیں وہ اختصار سکھا دیتی جو کتاب میں ریپیٹیشن (Repetition) کو ختم کر سکتی لیکن ایسے بھی ٹھیک ھے ۔ انہوں نے اس کتاب کو مزید دلچسپ بنانے کے لئے 43 ایسی شخصیات کی ، دلیپ کمار کے بارے میں تحریریں بھی شامل کی ھیں جو انہیں قریب سے جانتے ھیں ۔ ان میں لتا جی ، شبانہ اعظمی ، امیتابچن ، یش چوپڑا ، کمل حاسن ، فریدہ جلال ، رشی کپور ، عامر خان ، منوج کمار ، ہیما مالنی ، ممتاز ، شرمیلا ٹیگور اور وجنتی مالا کے علاوہ کچھ خاندان کے لوگ بھی شامل ھیں ۔ ان کی یہ تحریریں خود اپنی جگہ دلیپ کمار کی شخصیت کے کئی دریچے وا کرتی ہیں ۔ کتاب میں شامل تصاویر اپنی کہانی الگ سے بیان کرتی ھیں ۔
کتاب کا دیباچہ سائرہ بانو نے خود لکھا ھے اور اودیٰتر نیر کا تعارفی باب پڑھ کر اندازہ ھوتا ھے کہ سائرہ بانو نے جس طرح ۱۹۸۰ میں فلم انڈسٹری کو چھوڑ کر پالی ہِل (Pali Hill) پرگھر گرہستی سنبھال لی تھی کہ دلیپ پھر سے اِدھر اُدھر نہ ھو پائیں ۔ اسی طرح آپ بیتی بھی اپنی نگرانی میں بیان اور فائنل کروائی ھے اور اس پر خود پیش لفظ لکھ کر باھر کے تمام دروازے اور کھٹرکیاں بند کر دی ہیں کہ کوٗی اور عاصمہ اندر گھس نہ پائے ۔ واقعی میں یہ محاورہ سچا ہے کہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے ۔
دلیپ کمار کی فلموں اور ایوارڈز کی تفصیل اور اشاریہ (Index) قاری کے لیے باعث سہولت ہے ۔ 456 صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب ‘ ہے ہاؤس’ (Hay House) انڈیا نے نیو دہلی ، ہندوستان نے شائع کی ہے جہاں اس کی قیمت 699 ہندوستانی روپے ہے ۔