بہار کے نتائج اور سسکتی جمہوریت ـ ڈاکٹر محمد طارق ایوبی

شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی تحریک، پھر کرونا اور لاک ڈاؤن کے بعد ہونے والے بہار انتخابات بڑی اہمیت کے حامل تھے، بہار کے اس اسمبلی انتخاب سے مستقبل کا مطلع تقریباً صاف ہوگیا ہے، ذرا غور کیجئے ایک طرف CAA اور NRC کی مخالفت میں طوفان برپا تھا، پھر جب لاک ڈاؤن ہوا تو شاید سب سے زیادہ بہار ہی کے لوگ پریشان ہوے، ہزاروں کلومیٹر کا پیدل سفر کرنے والوں کی اکثریت بہار کی تھی، گود میں بچے کی لاش دبائے اور شوہر کی موت پر ماتم کرتے ہوے دوڑنے والی عورتیں بہار کی ہی تھیں، بھوک سے راستوں میں دم توڑ دینے والے بھی بہار کے تھے، بہار کے ہی وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ کسی کو یہاں آنے کی ضرورت نہیں جو جہاں ہے وہیں رہے، بی جے پی حکومت کی ناعاقبت اندیشی سے کہا جاتا ہے کہ پورا ملک پریشان ہے، مہنگائی اور اس پر لاک ڈاؤن کے بعد بڑھی بے روزگاری نے گویا کمر توڑ کر رکھ دی ہے لیکن بہار کے الیکشن میں دوسری بڑی پارٹی کے طور پر ۷۴ سیٹوں کے ساتھ بی جے پی سامنے آئی ہے، پہلی بڑی پارٹی راسٹریہ جتنا دل ہے جس نے ۷۵ سیٹیں حاصل کی ہیں، مصائب کا انبار تھا، حکومت کی غلط پالیسیاںتھیں، آر ایس ایس کا آتنک تھا، بھوک مری تھی، سیلاب کی مار تھی، نتیش کا دوغلاپن تھا، ناکام پالیسیاں تھیں لیکن پھر بھی این ڈی اے کی سرکار بنی اور اس طرح بنی کہ نتیش کمار وزیر اعلیٰ ضرور بنے مگر بی جے پی کے رحم و کرم پر، اب دو باتوں میں سے کوئی ایک بات صاف ہے، یا تو یہ سارا کھیل ای وی ایم کا ہے یا پھر فرقہ پرستی کا زہر گھر گھر پہنچ چکا ہے، لالو پرساد یادو اور ممتا بنرجی وغیرہ کا شمار ایسے لیڈران میں ہوتا ہے جن کو آر ایس ایس نہ اب تک جھکا سکی ہے نہ خرید سکی ہے، یہ خوش آئند ہے کہ لالو کی پارٹی کو اب بھی ۷۵ سیٹیں ملی ہیں، جب عوام کو تبدیلی چاہیے تھی تو ۱۵ سال حکومت کرنے کے بعد بھی عوام نے لالو کو کرسی سے اتار دیا، اب یہ ۷۵؍ سیٹیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام میں تبدیلی کا عزم تھا مگر یا تو ایک بڑی تعداد فرقہ پرستی کے ساتھ ہوگئی اس لیے تبدیلی نہ آسکی یا پھر یہ سارا کھیل ای وی ایم کا رہا۔
اترپردیش کے انتخابات میں بی جے پی نے سب کا صفایا کر دیا تھا ایسے ہی جیسے لوک سبھا الیکشن میں کیا تھا اور تقریباً یک طرفہ جہت درج کی تھی، نتیجہ میں لوگوں نے شدت کے ساتھ ای وی ایم کو موضوع تنقید بنایا تھا، اس کے بعد چھتیس گڑھ، راجستھان اور مدھیہ پردیش و گجرات کے انتخابات ہوئے اور اب بہار کے الیکشن ہوئے نتائج پر غور کیجئے تو تقریباً سب ایک جیسے اور بہت قریب قریب، 2015 میں بہار میں بی جے پی کو صرف ۵۳؍ سیٹ ملی تھیں، اب ۷۴ اور اس کی شریک پارٹی جنتا دَل یونائیٹیڈ تیسرے نمبر پر، فائنل رزلٹ دیکھیے تو فاصلے بہت کم، اس سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل میں بقیہ تمام ریاستیں رفتہ رفتہ بی جے پی کی گود میںہوں گی، پورے بھارت پر اس کی حکمرانی ہوگی، 2024 کا الیکشن اگر ای وی ایم سے ہوا تو مکمل اکثریت کے ساتھ بی جے پی ہی براجمان ہوگی، وقتاً فوقتاً کانگریس زندگی کا ثبوت دیتی ہے لیکن بظاہر لگتا ہے کہ اس نے یا تو مصالحت کرلی ہے یا پھر اس کے لیے اب شکست و ریخت سے نکلنا ممکن ہی نہیں، اترپردیش میں سپا بھی تقریباً شکست خوردگی کے ساتھ آخری سانسیں لے رہی ہے۔
ہماری قوم کے پاس جذباتی بحثوں کے علاوہ کچھ ہے ہی نہیں، منٹوں سکنڈوں خلافت قائم ہوتی ہے، حصہ داری کے نعرے لگتے ہیں، الزامات کی بارش ہوتی ہے اور پھر اچانک ماتم بپا ہوجاتا ہے، وجہ صاف ہے کہ ہمارے پاس نہ کوئی متحدہ پریشر گروپ ہے نہ دور رس متحدہ قومی پالیسی، یہ جذباتی بحثیں بھی زیادہ تر وہی لوگ کرتے ہیں جنھوں نے اب تک نہ کچھ بنایا ہے اور نہ ان کا کچھ بگڑا ہے، گویا وہ ابھی زمین پر گھٹنوں کے بل بھی نہیں چلے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں، سیکولر کہی جانے والی پارٹیوں نے ہمیشہ ہماری قوم کا استحصال کیا ہے اور اس کے ووٹ کا استعمال کیا ہے، ان میں سرفہرست کانگریس ہے، لیکن اس پہلو پر بھی توجہ ہونی چاہیے کہ آپ جس ملک میں رہ رہے ہیں اس ملک میں زندگی گذارنے کے لیے اور ہاتھ پائوں پھیلانے کے لیے ایک سازگار ماحول کی ضرورت ہے، بجائے اس کے کہ اس ماحول کی تشکیل کی منصوبہ بندی کی جاتی عین اس وقت جبکہ وجود و تشخص کی بقا کا مسئلہ درپیش ہے ہم پھر دوسری بھیانک غلطیاں کرنے میں لگے ہیں، یقینا کانگریس کے لیے ہماری خود سپردگی ایک غلطی تھی، ایک کو سیکولر اور ایک کو کمیونل قرار دے کر اپنا دوست اور دشمن متعین کردینا ہماری دوسری غلطی تھی، ایسے ملک میں اقلیتوں کی سیاست معاہدوں سے مشروط اور موقع پرستی پر مبنی ہونا چاہیے، لیکن بد قسمتی سے ایسا نہ ہوسکا، ملت کے سروں پر قابض لوگوں نے جب جس سے محبت رچائی اس کی جھولی میں ملت کا ووٹ ڈال دیا نتیجہ آج سامنے ہے کہ سیاسی اعتبار سے مسلم ووٹ اس ملک میں تقریباً بے حیثیت ہوچکا ہے، خودسپردگی کے وکیلوں نے نہ کبھی کوئی پریشر گروپ بنایا، نہ شرائط رکھیں، نہ معاہدے کیے نہ اپنے اثر و رسوخ کا صحیح استعمال کیا، بلکہ اگر کبھی کسی نے اپنی حیثیت بنائی اور منوانے پر آمادہ ہوا تو موروثیت کے علمبرداروں نے اس کو ہر طرح سے ناکام کیا، تاریخ بڑی کربناک ہے، بڑے نشیب و فراز ہیں، بڑی تلخیاں اور سچائیاں ہیں، جن کے بیان کا یہ موقع نہیں، اس وقت اہم بات یہ ہے کہ اس ملک کے دستور کو کیسے بچایا جائے، پورے ملک کو فرقہ پرست طاقتوں کے قبضہ میں جانے سے کیسے بچایا جائے، کسی بھی ملک سے اپوزیشن کا خاتمہ ڈکٹیٹرشپ کی ابتدا ہوتی ہے، جبکہ اس ملک میں ڈکٹیٹرشپ کا آغاز ہوچکا ہے، دوچار لوگوں کی چیخ پکار کو بڑی کامیابی تصور کرنے والے کیا یہ بھول گئے کہ دور بدل چکا ہے، راجیہ سبھا میں بی جے پی ابھی اکثریت میں نہیں ہے، پھر بھی اس نے تمام قوانین کو بالائے طاق رکھ کر زرعی بل پاس کرالیا، جب صورت حال یہ ہے تو ایسے میں دوچار زبانوں کے چلنے سے کوئی حاصل نہیں۔
ہم بھی اپنی مسلَّم سیاسی حیثیت کے قائل ہیں، حصہ داری ہمارا بھی دیرینہ خواب ہے، برابری کا سودا ہمارے لیے بھی باعث فخر ہے، حکمتِ عملی سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن مرکزی نقطۂ نظر اور بنیادی احساس یکساں ہے، میرا ماننا ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کی سیاست کا حل مسلم پارٹی میں نہیںہے، بلکہ مسلمانوں کی قیادت والی سیکولر پارٹی اور دیگر پارٹیوں سے ان کا پروفیشنل اتحاد مسئلہ کا حل ہے، ایسی پارٹیاں بے مقصد و بے سود بلکہ مسلمانوں کے لیے نقصاندہ ہیں جن کی زمین نہ ہو، جن کا کیڈر نہ ہو، جن کا منصوبہ نہ ہو، جن کے یہاں ’’ون مین شو‘‘ ہو، ایسی پارٹیوں کا خود ہی کوئی مستقبل نہیں چہ جائیکہ قوم کا مستقبل ان سے وابستہ ہو، اگر تمام مسلم دھڑے ایک نقطہ پر متحد ہوں اور پھر وہ سب مل کر اپنے اپنے علاقہ کی پارٹیوں کی ناک میں نکیل ڈال سکیں اور ان کے ساتھ حصہ داری کرسکیں تب تو کچھ بات بن سکتی ہے، بہار میں ایم آئی ایم کی کامیابی پر سب مبارکباد دے رہے ہیں لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ آخر حاصل کیا ہوگا ان ۵؍ ایم ایل ایز کے آنے سے، آندھرا اور اب تلنگانہ میں اب تک کیا حاصل ہوا، ہاں یہ ضرور ہوا کہ ایم آئی ایم کی پالیسی، اس کے طرز گفتگو، انداز بیان نے دوسروں کو شعوری نہیں تو غیر شعوری طور پر فائدہ ضرور پہنچایا ہے، ۵۳؍ سے ۷۴ سیٹوں تک پہنچے کا راز معلوم کیجیے تو پتہ چلے گا کہ صرف پانچ سیٹوں پر مسلمانوں کے یک طرفہ ووٹ کرنے نے سبب یادو /کُرمی اور دیگر ذاتوں کو اکسایا کہ اپنی پارٹی نہیں بلکہ ہندتوا کے چہرے کو ووٹ کیا جائے، کبھی غور کیجئے کہ آخر جس صوبہ میں ایم آئی ایم پیدا ہوئی اس صوبہ میں اس کی کیا حیثیت ہے، اس پورے صوبہ میں وہ الیکشن کیوں نہیں لڑتی، کیا وہاں تمام مسلم مسائل حل ہوچکے، کبھی وہاں کے مسلمانوں سے مل کر ایک جرنل سروے کیجیے صرف چند اپنے جاننے والوں کی رائے کا اعتبار نہیں، یوٹیوب اور پارلیمنٹ میں کہی گئی زوردار تقریریں بے سود ہیں، صرف تقریروں سے مسائل حل نہیں ہوتے، یاد ہوگا کہ پارلیمنٹ میں ایم آئی ایم کے سربراہ نے سرِ عام بِل پھاڑ دیا تھا، اپنے اس عمل سے انھوں نے یوٹیوب کے متوالوں کے دل جیت لیے تھے اور جذبات کے تار چھیٹ دیے تھے، مگر ہم جیسے دیوانے کہہ رہے تھے کہ انھوں نے مسئلہ کو اپنی طرف سے مزید الجھا دیا، ان کا کام بل پھاڑنا نہیں تھا بلکہ ان کی کامیابی اس میں تھی کہ وہ ٹی آر ایس کے ممبران کو اس کی مخالفت کے لیے حیدرآباد سے تیار کرکے آتے، مگر انھوں نے کرنے کا کام نہ کرکے محض جذبات کو جیتنے والا عمل کیا، مسئلہ جذبات کا نہیں، مسئلہ عقل و مستقبل کا ہے، تصور کیجیے کہ ایم آئی ایم کے نام کے ساتھ ہم کتنی دور چل سکتے ہیں، اس کے طرز گفتگو کے ساتھ کتنے غیر مسلموں کو یکجا کرسکتے ہیں، ہم کسی بحث میں نہیں الجھنا چاہتے مگر آج شعوری طور پر یہ جملہ لکھ رہے ہیں کہ موجودہ پسِ منظر میں مختلف جگہوں پر ایم آئی ایم کی ہلکی پھلکی کامیابی میں مسلمانوں کی مزید سیاسی ابتری کا راز پوشیدہ ہے، اس جملہ کی معنویت آپ آئندہ چند برسوں میں دیکھیں گے، جو لوگ ایم آئی ایم میں ملت کے مسائل کا حل دیکھتے ہیں، ان سے ہماری درخواست ہے کہ وہ اس کے سربراہ سے براہ راست ملیں، ان کو آمادہ کریں کہ وہ تقریروں سے باہر نکل کر زمین پر مظلوموں کے مسیحا بن جائیں، اتحاد المسلمین کو مجلس اتحاد مظلومین میں تبدیل کردیں، وہ اس زبان کا استعمال چھوڑ دیں جو لاشعوری طور پر ڈبیٹ کا رخ موڑ دیتی ہے جو غیر شعوری طور پر ہندو پولرائیزیشن کا سبب بنتی، یہ پولرائیزیشن کا خوف نہیں ۲۰۱۴ء سے اب تک کی سب سے بڑی حقیقت ہے، غیر مسلموں کو متحد کر دیتی ہے، انھیں سیاسی موضوعات پر ہی بات کرنا چاہیے، ان کے مسلم آئی کون اور مفتی و مبلغ بننے میں ملت کا نقصان ہی نقصان ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا نے ان کے اندر صلاحیتیں رکھی ہیں اور وہ ملت کی قیادت کرسکتے ہیں، اگر وہ مطلوبہ تبدیلیوں کے ساتھ زمینی سیاست پر آمادہ ہوجائیں تو ملت کی اکثریت ان کے پیچھے چلنے کو تیار ہوگی، ہم بھی اس موقع پر جذباتی مضمون لکھ سکتے تھے اور جذباتی رائے دے کر حصہ داری کی اندھا دھند و کالت کرسکتے تھے، مگر نہ اس کی عادت ہے او رنہ کسی کے زیر اثر یا بعض بڑے قلم کاروں کی طرح کسی کے مطالبہ پر لکھنے کی عادت ہے، نہ ہی کسی کی واہ واہی کی خاطر یا کسی کی توجہ حاصل کرنے کے لیے لکھنا پسند ہے۔
فی الحال ہم سے پوچھیے تو ہم یہی کہیں گے کہ اگر آپ ملک میں جمہوریت کے خاتمہ کا ذمہ دار ای وی ایم کو مانتے ہیں تو پھر اپنی اپنی پارٹیوں کو اس کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کے لیے تیار کیجیے، ہمارا ماننا ہے کہ جب تک ای وی ایم ہے تب تک بی جے پی رہے گی، دہلی کی مثال مت دیجیے، دہلی یونین ٹیریٹری ہے، وہ بہرحال مرکزی حکومت کے ہاتھ میں رہتی ہے، اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ فرقہ پرستی کا جادو چل نکلا ہے تو فکر کیجیے کہ ملک مکمل طور پر آر ایس ایس کی گود میں نہ جائے، کئی دہائیوں کا احتساب اس وقت نہیں بعد میں کیجئے گا مناسب وقت پر، احتساب کا موقع اور وقت مناسب نہ ہو تو فائدے سے زیادہ نقصان کا امکان رہتا ہے، انھوں نے بھی آپ ہی کو تختۂ مشق بنایا، یہ بھی آپ کو ہی بناتے ہیں، مگر اِن کا قبضہ مکمل ہوا تو یہ وجود مٹائیں گے نہیں بلکہ تشخص کے ساتھ کھلواڑ کریں گے اور قہقہے لگائیں گے، ابھی ابھی وقت ہے مگر افسوس ہے وقت رہتے ہوئے نہ ہم یکجا ہوپاتے ہیں اور نہ کوئی لائحہ عمل تیار کر پاتے ہیں، ہمارا رد عمل بھی جذباتی ہوتا ہے اور ہماری پالیسیاں بھی جذباتیت کے ہی زیر اثر وجود میں آتی ہیں، کچھ دن ہم لکیریں پیٹتے ہیں، پھر حالات کے رحم و کرم پر جینے کے سہارے خاموش ہوجاتے ہیں، ملک بھر کے سنجیدہ لوگوں کے لیے غور و فکر اور منصوبہ سازی اور منصوبوں پر آزادانہ عمل در آمد کے لیے شاید دو تین سال کا وقفہ اور ہے، اس کے بعد کے حالات ممکن ہے سخت آزما کشی ہوں، ورنہ کم از کم آج کے جیسے تو نہیں ہوں گے۔ (ولا قدر اللہ)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*