خلیفۂ شیخ الاسلام مولاناحافظ محمد طیب کاانتقال

جمعیۃ علماےمہاراشٹر کا اظہار تعزیت
ممبئی (پریس ریلیز) مولانا حافظ محمد طیب فیض آبادی خلیفۂ مجازشیخ الاسلام مولاناحسین احمدمدنی کا طویل علالت کے بعد آج بروز بدھ دوپہر2:40بجے دوران علاج دیوبند میں انتقال ہوگیا۔
مرحوم کی نماز جنازہ آج بعد نماز عشا دار العلوم دیوبند کے احاطۂ مولسری میں ادا کی جائے گی،اور تدفین مزار قاسمی میں عمل میں آئے گی۔آپ کے پسماندگان میں ایک بیٹا محمد فیضی اور ایک بیٹی ہیں۔
آپ بہت ساری خوبیوں کے حامل تھے،آپ حافظ،عالم اورحکیم بھی تھے۔دار العلوم کے طلبہ آپ کے پاس عبارت کی تصحیح کے لئے آتے تھے۔آپ مکتبہ نعمانیہ،دیوبند کے مالک تھے جس کے ذریعے متعدد نادر و نایاب کتابوں کو شائع کیا،اسی مکتبہ کے ذریعہ سے آپ نے رد المختار علیٰ در المختار المعروف بہ فتاویٰ شامی کو نہایت اہتمام سے شائع فرمایا۔دار العلوم دیوبند کا زمانۂ طالب علمی حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ کے حجرہ مسجد چھتہ میں گذارا، دورہ حدیث میں بخاری شریف میں ممتاز نمبر حاصل کرنے پر حضرت شیخ الاسلام ؒ نے حضور پاک ﷺ کے جبہ مبارکہ سے مس شدہ رومال آپ کو واڑھایاتھا۔آپ رمضان المبارک میں واکولہ جامع مسجد،ممبئی میں قاری محمد یونس صاحب(جو آپ کے خلیفہ مجازہیں) کے یہاں اعتکاف فرماتے تھے،جہاں ممبئی کے لوگ آپ سے فیض یاب ہوتے تھے۔مولانا کے انتقال پر جمعیۃ علماے مہاراشٹر کے جنرل سکریٹری مولانا حلیم اللہ قاسمی،قاری محمد یونس چودھری نے اپنے رنج و الم کا اظہار کیا،اوردعا فرمائی کہ اللہ رب العزت حضرت کے درجات کو بلند فرمائے،پسماندگان،متوسلین،منتسبین اور متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ساتھ ہی جمعیۃعلماء کی مقامی یونٹوں،ذمہ داران مدارس عربیہ،ائمۂ مساجد سے مرحوم کے لئے ایصال ثواب کے اہتمام کی درخواست کی ہے۔