ظلم کی رات ہو، جبر کی بات ہو

ڈاکٹر ابوبکر عباد

(دنیا کے جابر اور بے عقل حکمرانوں کے نام)

ظلم کی رات ہو، جبر کی بات ہو
غم کی بدلی،مصائب کی برسات ہو
عارضی ہیں یہ سب
نمودِ شعا عِ اماں سے یہ پہلے ہی چَھٹ جاتے ہیں
ذات خودسرکی، جابرکی، ظالم کی ہو
ایسے حاکم؛
کہ فرعون وراون کے نُطفے سے ہو ں
مثلِ اسطوری ققنس پرندے ہیں یہ
اپنی ہی آگ میں جل کے مر جاتے ہیں
خاک ہوجاتے ہیں
یا جو شکتی کی خواہش کے بیمار ہوں
بھسما سُر کی طر ح
بدعقل ومکّار ہوں
ایسے حاکم سدا
اپنے ہی مکر سے ،اپنی بدعقل سے
بھسم ہوجاتے ہیں
ختم ہوجاتے ہیں

٭ ققنس صحرا میں رہنے والادیومالائی پرندہ،جس کی چونچ میں360سوراخ ہوتے ہیں۔جب خوش ہوکرگاناچاہتا ہے تو جل کرراکھ ہو جاتا ہے اوراسی راکھ سے اس کا پھر دوسرا جنم ہوتاہے۔یا وہ جلتے وقت ایک انڈادیتا ہے جس سے نیا بچہ جنم لیتا ہے۔

  • Abul fazal
    20 جون, 2020 at 5:42 شام

    Bahut achvha hai

  • Usmankha
    20 جون, 2020 at 11:27 شام

    فنکس کا املا گڑبڑا گیا ہے.

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*