زبان کے تحفظ کے لیے عوامی بیداری کی ضرورت:وینکیانائیڈو

 

نئی دہلی:اپنی زبان کی روایات کے ثمرات آنے والی نسلوں تک پہنچانے کے لیے نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو نے آج حکومت کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے زبان کی حفاظت کے لیے عوامی تحریک کی ضرورت پر زور دیا۔ایک سے زیادہ نسلوں اور جغرافیائی خطوں کے لوگوں کو متحد کرنے میں زبان کی طاقت کو اجاگر کرتے ہوئے وینکیا نائیڈو نے مطالبہ کیاہے کہ اپنی زبانوں، ثقافتوں اور روایات کو محفوظ رکھنے، افزودہ کرنے اور عام کرنے کے لیے ٹھوس کوششیں کی جائیں۔چھٹی سالانہ ’راشٹریتھرا تلگو سمکھیا‘ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وینکیا نائیڈو نے تجویز پیش کی کہ تیلگو لوگوں کو تیلگو زبان اور اپنی مقامی روایات کے احیاء کے لیے اکٹھا ہونا چاہیے۔یہ کہتے ہوئے کہ کسی زبان کو نظرانداز کرنا اس کے زوال کا باعث بنے گا۔ نائب صدر نے مشورہ دیا کہ ہر کسی کا فرض ہے کہ وہ دوسری زبانوں اور ثقافتوں کو پامال کیے بغیر مادری زبان کو محفوظ بنائے اور اسے فروغ دے۔مسٹر نائیڈو نیزور دے کر کہا کہ جیسا کہ قومی تعلیمی پالیسی مجریہ 2020 میں تصور پیش کیا گیا ہے کہ مادری زبان میں بنیادی تعلیم دی جائے۔ انہوں نے بتایاہے کہ اس وقت ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدوں پر فائز لوگوں نے جن میں صدر و نائب صدر، وزیر اعظم اور چیف جسٹس آف انڈیاسبھی شامل ہیں،اپنی مادری زبان میں بنیادی تعلیم حاصل کی ہے۔ لوگوں پر یہ غلط تاثر نہیں ہونا چاہئے کہ جو لوگ اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں تو وہ زندگی میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتے اور ترقی نہیں کرسکتے۔ ہمارے پاس اس تاثر کو مسترد کرنے کے لئے بہت ساری ماضی اور حال کی مثالیں ہیں۔نائب صدر نے تیلگو ادب کو دوسری ہندوستانی زبانوں میں ترجمہ کرنے کے لئے مزید اقدامات کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس سے کسی زبان کی روایت کو فروغ ملتا ہے۔ اس حقیقت کی تعریف کرتے ہوئے کہ بہت ساری ثقافتی تنظیموں نے عالمی وبا کے پیش نظراپنا کام آن لائن جاری رکھا مسٹر نائیڈو نے تجویز پیش کی کہ زبان اور ٹکنالوجی کو یکساں جذبے میں ضم کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ تلگو زبان کے تحفظ فراہم کرنے اور اسے عام کرنے کے لئے تلگو ریاستوں کے باہر ایک ہزارسے زیادہ تنظیمیں موجود ہیں نائب صدر نے ’راشٹریتھرا تلگو سماکھیہ‘ کے نام سے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر ساتھ آنے کے منتظمین کے اقدام کی تعریف کی اور ان کی مستقبل کی کوششوں کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ہماچل پردیش کے معزز گورنربنڈارو دتاتریہ، وزیر برائے خواتین اور بچوں کی ترقی اور سماجی بہبود ، حکومت مغربی بنگال ڈاکٹر ششی پنجا ، آندھرا پردیش کے سابق ڈپٹی اسپیکر منڈالی بدھا پرساد ، آل انڈیا تلگو فیڈریشن کے صدر ڈاکٹر سی ایم کے ریڈی، راشٹریتھرا تلگو سمھاکیہ کے صدر سندرا راؤ اور دیگر اہم شخصیات اس ورچوئل پروگرام میں شریک تھیں۔