زندگی تیرے لبوں کا دل انگیز رقص ہے – سہراب سپہری

ترجمہ:نایاب حسن

ہم دونوں عرصۂ دراز سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں
میری اور تیری آرزووں کا چشمہ رواں ہے
ہمارے دلوں کے بادل بھرے ہوئے ہیں
ہمارے افکار و خیالات کے پہاڑ ثابت و قائم ہیں
ہمارے دلوں کے جنگل سرسبز و ثمردار ہیں
ہمارے دن گرم اور راتیں طویل کہانیوں سے لبریز ہیں
میں اور تو جانتے ہیں
کہ زندگی ہر لمحہ تغیرپذیری کا نام ہے
زندگی باغ میں چہکنے والے چڑیے جیسی ہے
میں اور تو جانتے ہیں
زندگی روح سے باہر آنے والی آواز ہے
زندگی اس ساز کا نغمہ ہے،جو ہمارے ہاتھوں میں ہے
زندگی ہم دونوں کے لبوں کا تبسم ہے
زندگی وہ خواب ہے جو تو ابھی دیکھ رہی ہے
زندگی ایک کھیل ہے جس میں تو ہر لمحہ خنداں ہے
زندگی اچھی نیند اور بچے کے احساس جیسی ہے
زندگی وقتِ سحر تیری ناراضگی کا نام ہے
زندگی تیری پلکوں پر ٹھہرے ہوئے آنسو کے قطرے جیسی ہے
زندگی گلِ سرخ کی آنکھ میں پوشیدہ ایک راز ہے
زندگی حرفِ ناگفتہ کو سننے کا نام ہے

زندگی اپنی مرضی سے دیکھاگیا خواب ہے
زندگی تیرے دستِ راحت بخش کا لمس ہے
زندگی تیرے دل کا خوف ہے
زندگی وہ امید ہے جو تو میرے دل میں تلاش کررہی ہے
محبت کی زندگی تیرے خیالات میں پوشیدہ ہے

زندگی یہ سب ہے
میں اور تو جانتے ہیں
زندگی ایک سفر ہے
زندگی دنیاے خیال کی طرف جانے والی راہ ہے
زندگی وہ تصویر ہے جو میرے آئینۂ دل میں تجھے نظر آتی ہے
زندگی وہ خواب ہے جسے بغیر دیکھے تو دیکھتی ہے
زندگی ایک سانس ہے جسے ہم اپنی خواہش سے مار دیتے ہیں
زندگی موسمِ باراں کے خوب صورت مناظر کا نام ہے
زندگی رات کے وقت روح پر جمی برف ہے
زندگی کی گردش ککروندے کی طرح عام اور پایاب ہے
زندگی سرِ راہ پڑا ہوا نقشِ پا ہے
زندگی نسترن کی خوشبو ہے
بوے گلِ یاسمین ہے،جو میری اور تیری نگاہوں کی دیوار پر کھلا ہوا ہے
زندگی قدیم یادیں ہیں
زندگی گزشتہ کل ہے
زندگی آج ہے
زندگی وہ شعر ہے جسے میرے اور تمھارے لیے کسی عزیز نے لکھا ہے
زندگی گھر کی دیوار پر پڑی ہوئی ایک تصویر ہے
زندگی خوب صورت پھول کو دیکھنے کے بعد بادشاہ کی مسکراہٹ ہے
زندگی تیرے لبوں کے خطوط کا دل انگیز رقص ہے
زندگی ایک حرف ہے،ایک لفظ ہے
زندگی شیریں ہے
زندگی تلخ نہیں ہے
ہماری زندگی کی تلخی بھی شہد جیسی شیریں ہے
میں اور تو جانتے ہیں
زندگی ایک آغاز ہے جس کے انجام کی ایک ہی راہ ہے
زندگی آنے،جانے اور بہنے کا نام ہے
زندگی خاموشی و تنہائی ہے
میں اور تو جانتے ہیں
زندگی آنا ہے
زندگی ہونا اور بہنا ہے
زندگی جانا اور اپنے ہونے سے دور چلا جانا ہے
زندگی شیریں ہے
زندگی روشن ہے
زندگی سرشاری و مستی و سرور انگیزی ہے
زندگی ان سب کا نام ہے
میں اور تو جانتے ہیں
زندگی کبھی بد شکل بھی ہوتی ہے
کبھی تلخ و ناپسندیدہ بھی ہوتی ہے
اس کی یہی کہانی ہے اور ہم اسے جانتے ہیں
کہ نہ غم کے دن مستقل ہوتے ہیں اور نہ ہم ہمیشہ خوشحال ہوتے ہیں
زندگی چاہے خوشحال ہو یا غمناک
نغمہ و ترانہ و آواز کا نام ہے
جنگل میں ترنم ریز چڑیے کی طرح
زندگی خوب صورت ہے
میں اور تو جانتے ہیں
آنسو و خوشی سب زندگی ہے
نالہ و آہ و فغاں بھی زندگی ہے
آنا زندگی ہے
ہونا،رہنا و مشاہدہ کرنا سب زندگی ہے
جانا اور نہ ہونا بھی زندگی ہے
یہ سب زندگی ہے
میں اور تو جانتے ہیں
زندگی،زندگی ہے

(سہراب سپہری( 1980ء ۔ 1928 ء) کا شماربیسویں صدی کے عمده اور باکمال ایرانی،فارسی شاعروں میں ہوتا ہے۔ اس کی شاعری میں خوش رنگ خیالات کی فراوانی اور تخلیقیت کا وفور ہے،الفاظ و اسلوب کی سطح پر بھی سپہری کی شاعری میں امتیازی خصائص پائے جاتے ہیں۔اس کی شاعری میں نغمگی اعلیٰ درجے کی ہے اور فکر و خیال کو مہمیز کرنے والے عناصر قاری کو غیر معمولی طورپر متاثر کرتے ہیں۔ اس کی پہلی کتاب ’’آرامگاه عشق‘‘ہے، جو کلاسیکی اشعار پر مشتمل بے۔ بعد میں سپہری کا رجحان نئی شاعری کی طرف ہوا اور اس کی کتابوں میں زندگی خواب‌ها (خوابوں کی زندگی) مرگ رنگ (موت کا رنگ)، آوار آفتاب (سورج کا ملبا) صدای پای آب (پانی بہنے کی آواز)،شرق اندوہ،حجم سبز وغیرہ ہیں۔ سپہری شاعری کے علاوه پینٹینگ میں بهی مہارت رکهتا تها اور اس کی مصوری کا ایک کلکشن بهی شائع ہوا)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*