زندگی کی بے ثباتی ـ مسعود جاوید

ویسے تو موت کا کوئی دن کوئی لمحہ متعین نہیں ہے death has no calendar لیکن مختلف ممالک کی آب و ہوا، غذا، صحت عامہ کے تئیں بیداری، انداز زیست اور شرح اموات کا تجزیہ کرنے کے بعد ورلڈ بینک کے ادارہ اعداد و شمار نے مختلف ممالک میں مدت حیات کی جو فہرست جاری کی ہے اس کے مطابق ہندوستان میں متوسط مدت حیات 69 سال، امریکہ میں 79، کنیڈا میں 81, جاپان اور سویٹزرلینڈ میں 85 سال ہے۔
لیکن کورونا وائرس ان تمام تخمینوں کو غلط ثابت کرنے پر تلا ہے پچھلے ایک سال کے عرصہ میں کتنے ہی میرے جاننے والے جواں سال عالم، صحافی، ادیب، شاعر جن کی موت کی خبروں سے ہم واقف ہوۓ اور کتنے ہی غیر مشہور لوگوں جن سے ہم واقف نہیں ہیں، کو لقمہ اجل بنا چکا ہے۔۔۔۔ اور ہر روز زندگی کی بے ثباتی کی یقین دہانی کرا رہا ہے۔
جس طرح انسان سوشل انیمل ہے ملنا جلنا اس کی فطرت ہے اسی طرح بعض اوقات اختلاف رائے کے نتیجے میں رشتوں میں ترشی کا آنا بھی فطری ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن مجید میں کہا کہ انسان عجلت پسند واقع ہوا ہے اور اپنی منفعت کے معاملے میں بہت شدید ہے۔ لیکن کیا ان معاملات میں بھی، جو بظاہر ہمیں منفعت بخش نظر نہیں آتے، ہم عجلت پسند ہیں ؟ شاید نہیں۔ اسی لیے ہم اپنی غلطیوں کی معافی تلافی کے لئے آخر عمر کا انتظار کرتے ہیں۔ متوقع موت کی گھڑی سے قبل جب انسان بے بس اور لاچار ہوتا ہے زبانی جمع خرچ کرتا ہے ؛ کوئی بیوی سے مہر معاف کراتا ہے کوئی بہن سے اس کا دختری حصہ معاف کرانا چاہتا ہے کوئی کسی سے قرض معاف کراتا ہے اور بہت کم لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہوں نے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ زیادتیوں کو معاف کراتا ہے۔
جس تناسب سے غیر متوقع اموات ہو رہی ہیں اس میں آخری لمحہ کب ہوگا کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے اس لۓ ” نماز کل سے شروع کریں گے کیا پتہ کل دیکھنا نصیب ہو نہ ہو” ۔ اسی طرح اگر واقعی ہم سب کا اس پر ایمان ہے کہ حقوق العباد صاحب حق ہی معاف کر سکتا ہے اگر ہم نے اس دنیا میں ان حقوق کی ادائیگی نہیں کی معافی تلافی نہیں کی ہے تو اس سے پہلے کہ موت اچانک ہمیں آکر دبوچ لے ہمیں اپنے متعلقین سے معافی تلافی کر لینی چاہیے۔ ادائیگی۔ زبانی جمع خرچ نہیں۔
فیس بک پر بھی لوگوں سے رشتے استوار ہوتے ہیں کسی کے خلاف بے جا تبصرہ تضحیک و تذلیل کرتے ہیں ایسے تمام احباب سے فرداً فرداً بالمشافہ معافی ممکن نہیں ہے اس لیے فیس بک کے توسط سے میں معذرت خواہ ہوں کہ میری ذات سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو وہ مجھے معاف کردیں ۔