زندگی اِک حباب کی سی ہے-فہیم اختر ندوی

(ڈاکٹر ولی اختر ندویؒ کی رحلت پر)

کبھی انسان کسی بات پر یقین نہیں کر پاتا ہے۔ کسی سچائی پر وہ یقین رکھتے ہوئے بھی دل کو اس سے ہم آہنگ نہیں بنا پاتا ہے۔ شاید وہ ایسا کرنا چاہتا بھی نہیں۔ اس کی ہمت جواب دے جاتی ہے۔ اور پھر وہ اپنے جذبات کو اپنے الفاظ کی تسلی دینے لگ جاتا ہے۔
کہتے ہیں کہ غم برتنے والی چیز ہے۔ وہ بتائی نہیں جاسکتی۔اس کی حدت اور شدت کے سامنے الفاظ ہلکے پڑجاتے ہیں۔ ہاں یہ دل ہی ہے جو اس غم کو اپنے نہاں خانوں میں بٹھاتا سلاتا اور تسلی کی تھپکیاں دیتا ہےاور جب اس دل کی وسعتیں بھی غم کی ابلتی موجوں کو نہیں تھام پاتی ہیں۔ تب اس کے کچھ ریلے اشکوں کا سیل بن کر پھوٹ پڑتے ہیں۔
کل شام سے کچھ ایسی ہی کیفیت سے ہم دوچار ہیں اور وہ سب دوچار ہیں جو ان سے قریب تھےاور وہ جن سے قریب تھے۔ زندگی کے چند وہ دھچکے جو انسان کے وجود کو اس کی تہوں اور جڑوں تک ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ ویسی ہی ایک خبر کل شام وجود سے ٹکرائی اور احساسات جذبات خیالات اور تصورات کو تہہ وبالا کرگئی۔اب کہاں ہے سراپا۔ ذہن وفکر کدھر ہے۔ خیال اور احساس کس عالم میں ہیں؟ کس کو ہم اپنا وجود سمجھیں؟ وہ قدم جو ڈگمگا جارہے ہیں، وہ الفاظ جو زبان پر آکر ٹوٹ جارہے ہیں، وہ خیال جس کی کڑیاں اور لڑیاں بکھر جارہی ہیں، وہ نگاہ جو اپنی سمت کھو دے رہی ہے، وہ تصور جو قرار سے محروم ماضی کی گلیوں حال کے لمحوں اور مستقبل کے نقشوں میں بھٹکا پھر رہا ہے، ان میں سے کس کو اپنا وجود قرار دیں؟ اور کس کے بکھرے ریزوں اور ٹوٹے ٹکروں کو یکجا کرکے وجود کو واپس لائیں؟
شاید یہی وہ غم ہے جو فطری ہے۔ جس پر کسی کا بس نہیں ہے۔جو ناتواں وجود کا سب سے بڑا اور سب سے بھاری عنصر ہے۔اس پر تو کسی کا قابو نہیں ہے۔ خود اپنے آپ کا بھی نہیں۔ جب آقائے گرامی ﷺ کی مبارک اور مقدس آنکھیں اپنے جگر گوشہ کی ٹوٹتی سانس پر۔ اور اپنے محبوب رفیقوں کی جدائی کے لمحات پر اشکبار ہوگئیں۔ اور زبان اقدس نے اس اندرونی غم کو الفاظ کا اظہار بنایا۔تو اب اس عالم ناسوت میں کس وجود کو اس غم کو پی جانے کی قوت ہے؟اور ایسی قوت کی تمنا یا کوشش ہی کوئی کیوں کرے؟ محبوبِ انسانیت و محبوبِ رب کائنات کی فطری ادا ہی ہمارا سرمایہ ہمارا مایہ ہماری تسلی اور ہماری تمنائے دلی ہے۔
کل شام ہم نے سنا کہ ولی بھائی نہیں رہےاور پھر سچ یہ ہے کہ ہم’ ہم نہیں رہے۔ فیروز کو فون کیااور وہ ہنستا مسکراتا ہرغم کو ہمیشہ ہنسی میں اڑاتا ہمارا اور ولی بھائی کا چہیتا، گنگ ہوگیا تھا،دو دن قبل ہی تو فیروز عطا نے حسب عادت کہا تھا ۔ مذاقِ حسین کے انداز میں کہنے والا فیروز کہ ‘ولی بھائی بہانہ بنارہے ہیں، ابھی جاتا ہوں اور انھیں گھر لاتا ہوں’ اور پھر کل شام ۔ان کی بند زبان۔ جب دیر تک سکوت کے بعد کھلی تو اتنے ہی الفاظ کان میں آسکے کہ’ان کی ڈیتھ سرٹیفیکٹ بنوالیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ جلدی ڈیڈ باڈی مل جائے۔ کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو’ ہائے!فیروز ہی تو ان کا راز داں ان کا گھرانا ان کی راحت ان کا مشورہ ان کی ہنسی ان کی دل لگی اور ان کا خرچ اور ان کے ہر مسئلہ کا حل تھے۔
کچھ دیر بعد مجیب اختر نے واپس فون کیا تووہی مجیب جو ہم محفلِ احباب کا عنوانِ تفریح اور جوابِ تفریح۔ جو پرانی یاد داشتوں کا ذخیرہ اور سنجیدہ فیصلوں اور مشوروں کا نمونہ تھے۔ ولی بھائی کی ہر ادا ان کی جان تھی اور پھر وہ ولی بھائی ہی کے ساتھ رفیق کار تھے۔ وہ مجیب رو رہے تھے۔ ایسے کہ مجھے فون پر کہنا پڑا کہ مجھے مجیب بھائی سے بات کرائیے اور وہ مجیب ہی تو تھے۔
ولی بھائی کی ابھی عمر ہی کیا ہوگی۔ ابھی لاک ڈاؤن میں اور اس سے پہلے فیروز کے ساتھ مل کر انھوں نے مجبوروں اور ضرورت مندوں اور ملت کے مستقبل کی نقشہ بندیوں کےلئے کیا کیا جتن کئے تھے۔ کررہے تھے۔ کہہ کر بھی اور برت کر بھی۔جا کر بھی اور دوسروں کو لے جاکر بھی۔یہ سب تو انھوں نے خود ہی سنائے تھے اور فیروز نے بتائے تھے۔ جب دہلی گیا تھا تب کی محفل میں بھی اور بار بار فون پر بھی۔ابھی چند دنوں پہلے ایک اور ہم نشیں صفدر زبیر بھائی کی پیاری بیٹی کی گود میں پہلے بیٹے کی اسی افراتفری کے علاج نے معصوم جان لے لی۔ تو فیروز کے ساتھ ولی بھائی ہی حالات پر سخت نالاں اور بس بھر کوشاں رہے تھے۔ اس معصوم کا جنازہ بھی تو چار دنوں بعد مل سکا تھا۔
اور یہی تو ولی بھائی کی شناخت تھی۔تاتے تھے کہ وہ اپنے گاؤں میں تعلیم کےلئے۔ اتحاد کےلئے۔ ملت کی ترقی کےلئے۔ قبرستان کی چہار دیواری۔ بیت المال کے نظم اور تعلیم کی مہم پر کیا کیا کام کرتے جارہے ہیں۔ انھیں یہ سب کرنے میں دل لگتا تھا اور بتانے میں بھی من لگتا تھا۔گاؤں سے اور وہاں کے کاموں سے اتنا لگاؤ تھا کہ ہر تعطیل گاؤں میں گذرتی تھی۔
وہ اپنے والدین کے بڑے خدمت گذار تھے۔ گاؤں کا سفر ان کی خدمت کےلئے اتنا منظم اور اتنا مسلسل تھا کہ ان کے راز داں اور مشیر جاں فیروز کا یہ مذاق سچ ہوتا تھا کہ ایک ٹکٹ پر سفر سے پہلے دوسرے سفر کا ٹکٹ ولی بھائی کی جیب میں تیار رہتا ہے۔ ماں باپ کا یہ شریف النفس خدمت گذارپہلے ابا کو اور پھر اماں کو اپنے گاؤں ہی لے جاکر اللہ کی امانت سپرد خاک کرچکا تھا اور اب خود بھی بہت جلد ہی ان کی خدمت میں چلاگیا ۔
ولی اختر صاحب کی زندگی ہمیشہ نمونہ رہی ۔ وہ جب ندوہ آئے تھے۔ تو عام معمول سے ہٹ کر اپنے والد گرامی مولانا امان اللہ صاحب سے ریاض العلوم دہلی میں اتنا پڑھ چکے تھے ، جو ان کی عمر کے حجم اور قد کی مقدار سے زیادہ تھا۔ میں ندوہ میں شعبۂ حفظ سے داخل رہنے کی وجہ سے کچھ قدیم تھا۔ ان سے پہلی ملاقات مسجد میں دوران مطالعہ ہوئی۔ پوچھا کس درجہ میں داخلہ ملا ہے؟ بتایا عالیہ اولی یعنی پنجم عربی میں۔ میں نے ہنس کر بتایا کہ جانتے بھی ہو پنجم عربی کون درجہ ہے؟ معہد پنجم میں داخلہ ملا ہوگا، چھوٹے بچوں کے مدرسہ میں ، لیکن جب اس نے کتابوں کے نام بتائے تب میں چونک گیا تھا اور پھر ندوہ میں وہ ایک چھوٹا بچہ اونچے کلاس کی شہرت سے معروف ہوگیا تھا، پھر تو بڑے لطائف ہونے لگے، چھوٹے طلبہ کے ہفتہ واری جلسوں میں جب وہ کرسی صدارت پر بٹھائے جاتے تو سامنے کی ٹیبل میں ان کا چھوٹا قد چھپ جاتا اور ہم طلبہ عجیب لطف بھی لیتے اور سبق بھی۔

اور پھر اللہ نے ولی اختر صاحب کو علمی بلندیاں عطا فرمائیں، دہلی آئے، ادب اسلامی پر پی ایچ ڈی کی اور تب تک میں بھی دہلی آچکا تھا۔ ایک دن وزارت خارجہ کے رسالہ ثقافۃ الہند میں ان کا ترجمہ طبع ہوا ۔ اور اس کی ایک اچھی رقم ملی۔ کتنے خوش تھے وہ، وہ سب بات کھل کر بتایا بھی تو کرتے تھے، یہ بھی بتایا اور ہمیں پھر ان سے سبق ملا تھا۔ دہلی یونیورسٹی نے ان سے شان پائی اور ہم نے وہاں بھی ان کی زندگی سے سبق لیا۔ یہاں کی کہانیاں بھی تو دل کھول کر بیان کیا کرتے تھے اور انھوں نے والد صاحب کے علمی تجربہ کو دہراتے ہوئے خود اپنے بچوں کو عربی پڑھائی اور عربی انگریزی کی آسان تدریس کےلئے کئی کتابیں تیار کرگئے۔ ابھی پچھلے سفر دہلی کے موقع پر پھر سے یہ کتابیں دکھائیں۔ ان کی افادیت بتائی اور چند نسخے اپنے شناساؤں کےلئے بھیجے۔ یونیورسٹی میں بھی تو سب کے محبوب رہے۔ سب سے جڑے رہے۔ اچھے سیمینار کرائے اور اسلامی شعائر کی فطری محبت کا زبان و کردار سے اظہار کرتے رہے۔
ولی اختر صاحب کو علمی کاموں کے ساتھ سماجی خدمت اور اپنوں کی راحت بڑی عزیز تھی۔دہلی کے شاہین باغ میں وہ بسے۔ اُس وقت جب شاہین باغ ایک نام تھا اور کھیتوں کی پگڈنڈیوں اور ہاتھ بھر اٹھی باؤنڈری کی دیواروں پر سے گذر کر وہ شب کی مدھم روشنی کے ایک بنتے اٹھتے مکان کو آباد کررہے تھے۔اسی حالت کی شاہین باغ میں انھوں نے مجھے بھی آباد ہونے کی راہ سجھائی اور ایسے کتنوں کے وہ کام آئے۔ یہ سب بھی ان کے حسنات کے پلڑے کو الہی فضل سے گراں بار کریں گے۔
یادش بخیر! کہ ہم نے اپنی ایک بزم احباب ترتیب دی تھی ۔ بزم کے کام تو آگے نہ بڑھے،لیکن بزم برقرار رہی، فیروز عطا اس کی روح تھے۔ ولی بھائی اس کی شان ۔ مجیب اختر اس کا حصہ تھے۔ شروع میں طارق شفیق کی باغ و بہار اور قیمتی شخصیت نے بزم کے مقاصد بنائے تھے اور صفدر ندوی اس میں رنگ بھرنے میں مصروف۔پھر طارق بھی دہلی سے چلے گئے اور کچھ بعدمیں بھی حیدر آباد بس گیا، تو اب فیروز کا گھر ایک بزم نہیں ، ایسی کئی بزموں کی رونق بننے لگا اور ان سب میں ولی بھائی قدم بہ قدم شریک وشامل، میرا شاید ہی کوئی سفر دہلی ہو اور ایک نشست ولی بھائی اور مجیب کے ساتھ فیروز عطا کے گھر پر’ یا پھر فیروز کی گرفت آمیز مشورہ سے طے شدہ جگہ پر نہ ہوتی ہو۔ ایسی کئی نشستیں ولی بھائی کی علمی اور مالی فتوحات کی دوستانہ زکات نکلوانے کی نذر ہوتی تھیں ۔ فیروز کی یہ تحریک ولی بھائی کتنا مسکراتے ہوئے اپنی جیب سے نکال کر پوری کرتے تھے ۔ تو کیا ولی بھائی کی جدائی پر فیروز کی زبان گنگ اور مجیب کی آواز بند نہیں ہوگی ؟اور میں’ ایک حسرت کا مارا’ لفظ کے غم اور احساس کے الم کو اپنے ناتواں قلم سے چن چن کر رقم کر رہا ہوں کہ شاید ایک دور اور رنجور کے حصہ میں یہی ہے۔
ولی بھائی کے بڑے بھائی علی اختر صاحب ہیں۔ علم اور تدریس سے جڑے۔ اپنے بھائی پر سدا نازاں اور فرحاں۔ ان کی یہ شہادت برملا تو بارہا گوش آشنا ہوئی کہ ۔ یہ ولی سچ مچ ولی ہے۔ تو ولی بھائی ! آپ بہتوں کے لئے ولی تھے۔ سچے دوست تھے۔ جگری ساتھی تھے۔ خیر خواہ اور بہی خواہ تھے۔ ولی کے یہی تو معنی بھی ہوتے ہیں نا۔ تو آپ نام بھی تھے اور کام بھی تھے۔ اور ہمارے رحیم و کریم رب کا انعام بھی آپ ہوں گے۔آپ نے چھوٹے بھائی جمیل اختر اور اس سے چھوٹے بھائی سہیل اختر کی’ مشفقانہ بھی اور برادرانہ بھی’ خبر و نظر رکھی تھی۔ آپ نے سب سے بڑی اولاد ثمینہ بیٹی کو عربی سکھائی اور قابل بنایا۔ سب سے چھوٹی اولاد امینہ تو ابھی شفقتوں کے سایہ میں پرورش و تربیت کے زینوں پر چڑھ رہی تھی۔ آپ نے درمیان کے دونوں بیٹوں حماد اور خطاب کو اپنا عملی وارث بنانے کی راہ پر گامزن کردیا تھا۔آپ نے عزیزوں، گاؤں اور محلہ کے پڑوسیوں اور شاگردوں کی ایک دنیا آباد کررکھی تھی ۔ یہ سب بھی تو آج حیراں ہیں کہ اس جدائی کی خبر پر وہ کس دل سے یقین اور کس غم کے امین بنیں گے۔
ولی بھائی کے ساتھیوں اور ہم درسوں و ہم کاروں میں بڑے قابل اور بڑے فاضل لوگ تھے اور ہیں اور وہ سب بھی ابھی اس خبر کےلئے تیار نہ تھے اور اب بھی وہ اسی کیفِ غم و اندوہ سے دوچار ہوں گے۔
اب سوچتا ہوں کہ فیروز عطا کے ساتھ’ ہم تین اختر تھے۔ نہ جانے یہ اتفاق کیسا ہوا تھا۔ تینوں اختر تو ایک دوسرے کےلئے اجنبی تھے۔ پھر ساتھ ہوئے اور ساتھ ہی رہے، ولی اختر ندوی بڑے اور محترم ساتھی تھے، وہ اختر تاباں بن گئے، مجیب اختر ندوی ان کے رفیق محفل رفیق کار بنے اور اب ان کی یاد کے امین رہیں گے۔ فہیم اختر ندوی ان سب کی محبتوں کا مقروض’ قرض چکانے میں لگا ہے۔ فیروز عطا کا ایک اختر ڈوب گیا۔

لیکن ہم اپنی خرد کی دلیل اور اپنے قلب کی رنجوری کو الگ رکھتے ہیں ۔قضائے ربانی پر سر تسلیم جھکادیتے ہیں۔ اعتراف کرتے ہیں کہ ولی بھائی اب ہم میں نہیں رہے۔ اُس سفر پر روانہ ہوگئے جس کے راہی ہم سب ہیں ۔ وہ بہت جلد چلے گئے کہ یہی رب کا فیصلہ تھا اور کچھ اس انداز سے گئے کہ ہم حسرت کا ساماں ہی دل بے تاباں میں لئے رہ گئے اور اب یہی کہتے ہیں کہ ہم سب اسی کے ہیں اور ہم سب کو اسی کے پاس جانا ہے، رہے نام اللہ کا:
خدا رحمت کند ایں رفیق پاک طینت را

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*