ضمنی انتخابات سے پہلے بی جے پی کو بڑا جھٹکا دینے کی تیاری

بھوپال:ضمنی انتخابات کی تاریخوں کا اگرچہ ایم پی میں ابھی اعلان نہیں ہوا ہے، لیکن ریاست کی سیاست اسے لے کر اب گرم ہونے لگی ہے۔سابق وزیر اعلی کمل ناتھ نے اپنے دعووں سے سیاسی درجہ حرارت کو اور بڑھا دیا ہے۔ضمنی انتخابات سے پہلے انہوں نے دعوی کیا ہے کہ بی جے پی کے 6 سابق ممبر اسمبلی ہمارے رابطہ میں ہیں۔بی جے پی نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے وہ اپنا گھر بچائیں۔دراصل، پی میں 24 سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہونے ہیں۔بی جے پی اور کانگریس بھی اسے لے کر تیاری میں مصروف ہے کیونکہ انہی سیٹوں کے نتائج سے یہ طے ہوگا کہ پی میں راج کس کا رہے گا۔بحث ہے کہ بی جے پی 24 میں سے 22 سیٹوں پر سندھیا کے ساتھ آئے لوگوں کو ٹکٹ دے گی لیکن پارٹی کے سامنے مصیبت یہ ہے کہ ان سیٹوں سے پہلے بی جے پی کے رکن اسمبلی رہے لوگ باغی رخ اختیار کر سکتے ہیں۔اس کے اشارے سابق وزیر دیپک جوشی نے دئے بھی ہیں۔وہیں سابق وزیر اعلی کمل ناتھ نے بی جے پی کی صفوں میں بے چینی بڑھا دی ہے۔کمل ناتھ نے کہا ہے کہ میرے رابطے میں بی جے پی کے کئی سینئر لیڈران اور نئے رکن اسمبلی ہیں۔انہوں نے کہا کہ شیوراج سنگھ چوہان نے لالچ دے کر حکومت تو بنا لی ہے، لیکن ضمنی انتخابات میں ٹکٹ تقسیم کو لے کر انہیں بہت کچھ جھیلنا ہوگا۔بی جے پی کی اندرونی رسہ کشی ہی ان کو لے ڈوبے گی۔انہوں نے کہا ہے کہ ضمنی انتخابات والے علاقوں سے 6 سابق ممبر اسمبلی ہمارے رابطہ میں ہیں۔