ذکرِ رسول: نثری نعت کا حسین مرقع- محمد اکرام الحق ندوی

سیرت نبوی -صلی اللہ علیہ وسلم – ایک سدا بہار وتروتازہ موضوع ہے ، وہ خوشنما چمن ہے جس میں ہمیشہ رنگ برنگ پھول کھلتے ہیں ، وہ چشمۂ صافی ہے جس سے ہر زمانہ میں علم و حکمت کے سوتے پھوٹتے رہے ہیں ، چودہ سو بیالیس سال کا طویل عرصہ گذر چکا ہے ، لیکن اب بھی وہی تروتازگی ، وہی شادابی ، وہی رعنائی ،وہی زیبائی قائم ہے ، اس طویل عرصے میں ہزاروں عاشقان رسول نے بارگاہ رسالت میں عقیدت ومحبت کے پھول نچھاور کیے ، ذات نبوی کو خراج تحسین پیش کیا ، رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے کارناموں کو ذوق وشوق کے ساتھ بیان کیا اور سیرت نگاروں کے زمرے میں شامل ہونے کو باعث فخر سمجھا ۔

انہی سیرت نگاروں کی بزم میں ایک نام مولانا عبد الماجد دریابادی کا ہے ، انہوں نے اپنے جرائد "سچ” اور "صدق جدید” میں اپنے جادو نگار قلم اور سحر طراز اسلوب میں سیرت نبوی کے مختلف گوشوں کو اجاگر کیا ہے ، سیرت نبوی اور ماجدی قلم کی وجہ سے ان مضامین کی زبردست پذیرائی ہوئی ، ١٩٤٣ء میں ان مضامین کو کتابی شکل میں ڈاکٹر غلام دستگیر صاحب نے "مردوں کی مسیحائی ” کے نام سے شائع کیا ، کتاب ہاتھوں ہاتھ لی گئی ، پھر ١٩٨٤ء میں مولانا دریابادی کے نادیدہ عاشق حاجی منظور علی صاحب لکھنوی نے ادارہ انشاۓ ماجد کلکتہ سے ترمیمات واضافات کے ساتھ شائع کیا ۔

ہمارے پیش نظر "ذکر رسول ” کا چوتھا ایڈیشن شائع کردہ صدق فاؤنڈیشن لکھنؤ ہے ، اس میں کل اٹھارہ مضامین ہیں ، جو سیرت نبوی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں ۔

ذکر رسول گرچہ نثر میں ہے ، لیکن سوز و گداز ، سرور ووجد ، موسیقیت وغنائیت میں شاعری سے کم نہیں ، اس کا ایک ایک جملہ عشق سے معمور ، درد سے بھر پور ، اس کی ایک ایک عبارت وجد آفریں ، اس کا ایک ایک بیان عشق نبوی میں ڈوبا ہوا ، کتاب پڑھنا شروع کریں تو ختم کیے بغیر چین نہ آۓ ، کتاب ختم ہونے پر دل یہ آرزو کرے کہ کتاب اور ضخیم ہوتی اور عشق ومحبت کا یہ حسین سفر اور دراز ہوتا ۔

دیکھیے بعث نبوی کے ماقبل دنیا کا نقشہ کس خوبصورتی سے کھینچا ہے ” انسان زندہ بنایا گیا ہے ، لیکن یہی زندہ کبھی مردہ بھی ہو جاتا ہے ، دنیا روشن پیدا کی گئی ہے ، لیکن یہی روشنی کبھی تاریکی میں بھی تبدیل ہوجاتی ہے ، روۓ زمین کے مختلف حصوں میں بڑے بڑے ہادی ورہنما آۓ اور گزر چکے ، لیکن اب ایک مدت سے دنیا ان کی ہدایت سے محروم ہے ، بارش اپنے موسم میں زمین کو خوب سیراب کرچکی تھی ، لیکن اب جلتی اور تپتی ہوئی زمین کے ہونٹوں پر پیاس سے خشکی کی پپڑیاں جمی ہوئی ہیں ……. دن کی روشنی چھپ چکی ہے ، اور عالم انسانیت پر رات کی سیاہی چھائی ہوئی ہے ،کسی ایک ملک کی تخصیص نہیں ، آفتاب طلوع ہونے کی جگہ ، مشرق ، اور آفتاب کے غروب ہونے کی جگہ ، مغرب سب گمراہی وسرگشتگی کی اسی سیاہ چادر میں لپٹے ہوئے ہیں‘‘ ۔

پوری دنیا تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہے ، عرب پیر تا سر گمرہی وضلالت میں غرق ، شراب و کباب میں مدہوش ، اور رنجشوں ورقابتوں سے چور کہ اسی گھٹاٹوپ اندھیرے میں ایک "دریتیم ” آنکھ کھولتا ہے ، طفولت و جوانی اسی مشرکانہ میں کٹتی ہیں ، لیکن مجال کہ کبھی معصیت کی طرف نظر اٹھے ، یا قدم چلے یا ہاتھ لپکے ، اس پورے ماحول اور بعثت نبوی کو مولانا دریابادی نے کس دلنشیں انداز میں بیان کیا ہے :
” فضاۓ ملک ، بلکہ فضاۓ عالم کی اس تیرگی میں یہ نو عمر یتیم کھڑا ہوتا ہے، اور اپنی پاک وپاکیزہ کتاب زندگی کے ہر ورق کو کھول کر رکھ دیتا ہے ، اور اپنی زندگی کا ایک کامل و مکمل نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرکے یہ حوصلہ ہوتاہے کہ دوسروں کو اپنا جیسا بنایا جائے ……… عالم قدس کا یہ دریتیم چالیس برس کے سن میں اپنی پختگی کو پہنچتا ہے ، عمر کی ترقی کے ساتھ ساتھ راہ ہدایت پانے کا جوش و ولولہ بھی ترقی پر ہے ، اور یافت کی تڑپ روز بروز بڑھتی ہی جاتی ہے ، یہاں تک کہ نوبت یہ پہنچتی ہے کہ آبادی کے شور وغل سے الگ ، انسانوں کے مجمع سے دور ایک غار کے سکون وخلوت میں ہفتوں کے ہفتے ، اسی سوچ بچار میں ، اسی گرہ کی کشائش کے نذر ہونے لگتے ہیں ، اس وقت ایک غیبی سہارا دستگیری کرتاہے ، اور منصب ارشاد خلق وہدایت عالم پر سرفرازی کا پروانہ ملتا ہے ” ۔

یہ بے یارومددگار تین سال تک مکمل خاموشی سے دعوت دیتا ہے ، پھر صفا کی پہاڑی پر مکہ والوں کے سامنے اپنے دین کی علی الاعلان دعوت دیتاہے ، اب دیکھتے ہی دیکھتے سارا مکہ مخالف ہوجاتا ہے ، وہ جو رحمہ للعالمین بن کرآیا تھا ، انہیں ستایا جاتا ہے ، ظلم کے پجاری عدل وانصاف کی خدائی آواز کو دبانے لگتے ہیں ، اندھیروں کے دلدادہ اس ” سراج منیر ” کو گل کرنے پر تل جاتے ہیں ، لیکن خدا کو اپنے دین کا بول بالا کرنا تھا ، سو یہ روشنی بڑھی اور بڑھتی ہی چلی گئی ، عدل وانصاف کی آواز اٹھی اور اٹھتی ہی چلی گئی ، محمد عربی کا قافلہ بڑھا اور بڑھتا ہی چلا گیا ، ظلم کے پجاری اندھیروں کے متوالے بے نام ونشاں ہوکر رہ گیے ، حضرت مولانا عبد الماجد دریابادی کے سحر طراز قلم سے یہ مضمون پڑھیے اور عش عش کریے :
” مکہ کے بے بس وبے کس یتیم ، غار حرا میں مراقبہ کرنے والے گوشہ نشیں ، دیکھ لی تیرے مرتبہ کی بلندی دیکھ لی ، تیری شان محبوبیت کا نظارہ کرلیا ! خادموں اور غلاموں ہی نہیں ، منکروں اور حاسدوں بد باطنوں ، اور کور چشموں تک نے تیرے آفتاب اقبال کی چمک دمک دیکھ لی ، جو تجھ سے ٹکرایا ، مٹادیا گیا ، توڑدیا گیا ، پاس پاش کردیا گیا ! جو تیرے سامنے جھکا ، نوازا گیا ، سرفراز ہوا ، اپنی مراد کو پہونچا "۔

یہ تو "ذکر رسول "کی صرف چند جھلکیاں تھیں ، ویسے تو پوری کتاب ہی ادب و انشا کے جواہر پارے سے مملو اور نثری نعت کے شہ پاروں سے لبریز ہے ، دیر کس بات کی ہے ، کتاب اٹھائیے اور عشق رسول اور ذوق ادب کو پروان چڑھائیے ۔