ذکر صبا بھائی اور ان کی نئی کتاب فسانۂ شب و روز کا- مشرف عالم ذوقی

پیارے دوست ابرار مجیب نے کالم لکھنے کی ذمہ داری دی تو خیال آیا ، صبا بھائی سے ابتدا کی جائےـ صبا بھائی یعنی اکرام ـ فسانۂ شب و روز ان کی نئی کتاب ہے جو ابھی حال میں میڈیا گرافکس کراچی سے شائع ہوئی ہےـ فلیپ پر ڈاکٹر وزیر آغا ، شمس الرحمن فاروقی اور اختر پیامی نے صبا بھائی کی شاعری پر روشنی ڈالی ہےـ کتاب سو صفحات پر مشتمل ہےـ صبا بھائی ان دنوں بیمار ہیں ـ جب وہ بیٹے کے پاس امریکہ میں تھے ، انھیں اس بات کا خیال آیا کہ زندگی سے وابستہ بہت سے واقعات اور یادوں کو تازہ کرنے کا وقت ہےـ صبا بھائی کے مطابق یہ صرف میری آپ بیتی نہیں بلکہ میرے خاندان کی دستاویز بھی ہے، جس کی بنیاد ہزاری باغ میں ، میرے دادا نے رکھی تھی ـ مولانا رومی نے کہا :
ہر نفس نومی شود دنیا وما
بے خبر از نو شدن اندر بقا
ہر لمحہ دنیا تبدیل ہو رہی ہے مگر ہم تبدیلی سے بے خبر ہیں ـ مولانا رومی نے یہ بھی کہا :
عمر ہمچوں جوئے نو نو می رسد مستمرے می نماید در جسد
بہتی ندی کی طرح عمر نئی نئی آتی رہتی ہے جو جسم میں مسلسل دکھائی دیتی ہے
صبا اکرام دنیا کی تبدیلی سے بے خبر نہیں رہے ـ فسانۂ شب و روز میں تقسیم کا بھی ذکر ہے ، انہدام ڈھاکہ کا بھی ، کیمپوں کی زندگی کا بھی ـ نعیم اروی کا بھی جو پاکستان کے بڑے افسانہ نگار تھے ـ سہسرام کے رہنے والے تھےـ ہجرتوں کی مسافت ان کا افسانوی مجموعہ ہے ، جس پر فخر کیا جا سکتا ہےـ رومی کے شعر پر غور کریں تو انسان بوڑھا کہاں ہوتا ہےـ بہتی ہوئی ندی کی طرح عمر کی ہر موج نئی ہوتی ہےـ یہ بھی ایک موج ہے کہ برسوں سے خاموش صبا بھائی نے زندگی کا افسانہ لکھ ڈالاـ یہاں ہزاری باغ بھی ہے ، پٹنہ اور آرہ بھی ـ علیم اللہ حالی بھی ہیں ، ش .م ماہر اروی اور نسیم بن جان بھی ـ ٢٠٠١ میں صبا بھائی دلی آئے تھے، میری ان سے ملاقات ایک خوبصورت کہانی بن گئی ـ کتاب میں ٢٠٠٨ کا تذکرہ ہے مگر شاید مجھ سے ہونے والی ملاقات انھیں یاد نہیں رہی ـ میری کہانی کا عنوان تھا انار کلی ، عمر ٥٤ برس، فسانۂ شب و روز کے مطالعہ سے گزرنے کے بعد میری خواہش ہے کہ اس کہانی کے کچھ اقتباسات آپ کے سامنے رکھوں ـ
اگست 2001
رات آدھی سے زیادہ بیت چکی تھی۔ مجھے خبر ملی تھی کہ پاکستان سے صبااکرام آئے ہوئے ہیں۔ کہاں ٹھہرے ہیں، اس بارے میں مجھے کوئی معلومات نہیں تھیں۔ ہم لکھنے والوں کا مذہب بھی کیسا جذباتی ہوتا ہے.خود غرضی، بازار اور مشین کے اس عہد میں صرف یہ جان کر کہ کوئی ہماری برادری سے آیا ہے، یعنی لکھنے والوں کی برادری سے__ تو ایک نامعلوم خوشی راکٹ اور گرینیڈ کے خوف کو دلوں سے یوں نکال دیتی ہے _جیسے ہم کسی رام راجیہ میں ہوں۔
صبااکرام سے گوکبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی لیکن ملاقات کا ایک رشتہ ہجرت کے کرب سے بھی ہوکر گزرتا تھا۔ ہجرت ہم دونوں نے کی تھی۔ یہ الگ بات تھی کہ میں اپنے ہی وطن میں آرہ کی خوشبو چھوڑ کر دلّی آگیا تھا…. دلّی، جو سیاست کا اکھاڑہ تھا اور صبا مٹی کی خوشبو چھوڑ کر جوانی میں ہی پاکستان چلے گئے۔ میری ملاقات ان کی تحریروں کے ذریعہ ہی ہوئی تھی۔ مٹی کی خوشبو کا درد ایسا تھا کہ13اگست رات کے دو بجے بھی، میں صبا اکرام کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ لیکن میں کیا سوچ رہا تھا….!!
سرحد پر چلتی ہوئی گولیاں، کشمیر کا مسئلہ ایک ایسا ناسور بن گیا تھا کہ ہم لکھنے والے بھی اس کی زد میں آگئے تھے__ سنا تھا، پڑھا تھا، قلم آزاد ہوتا ہے۔ لکھنے والا بے باک اور سرپھرا ہوتا ہے__ لکھنے والوں کو توپ اور گولیوں کی فکر نہیں ہوتی۔ لیکن فکر کسے نہیں تھی۔ انتظار حسین سے علی امام نقوی تک__ اپنے اپنے کشمیر کی بساط بچھاتے ہوئے قلم انگارے برسانے لگتاتھا__ کیا نہیں؟
پچھلے دو برسوں میں صورت حال بھیانک ہوگئی تھی۔ ملک کے نقشے پر ہندوستان اور پاکستان دو خطرناک دشمنوں کی طرح آمنے سامنے کھڑے ہوگئے تھے۔ خوشی اس بات کی تھی کہ ۷۴ءکے پہلے کے غلام ہندوستان میں بھی روس کی طرح ’ڈوئل‘ کا رواج نہیں تھا۔ فکر ہم لکھنے والوں کو تھی__ لکھنے والے جو تہذیب،رنگ، قوم اور مذہب سے بلند ہوتے ہیں۔ ہم اس خوف کے تانے بانے میں الجھے ہوتے کہ پاکستان اپنی تحریریں کیسے بھجوائیں__ سرحد پر توپیں بارود اگل رہی ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف اب عالمی سطح پر بیان بازیاں اور نفرتوں کا بازار گرم ہوچکا ہے۔ لیکن صبااکرام آئے تھے۔ مٹی کی خوشبو پکار رہی تھی ـ
”صبا بھائی، بارش آپ کے یہاں بھی ہوتی ہے؟“
وہ چونکتے ہیں، چہرے کا رنگ ذرا سا بدلا ہے۔
”میرا مطلب، 14اگست، آپ کے یہاں بارش نہیں ہوسکتی۔“
”کیوں؟“
’کیوں کہ آپ لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کی….‘ اس وقت کی چالیس کروڑ آبادی کا غلط حل نکال کر چلے گئے۔“
نعمان نے آنکھوں پر پڑی ہوئی گرد صاف کی__ ”اس رات بھی بارش ہوئی تھی۔ آدھی رات۔ آدھی رات کا سناٹا جب دو قومی نظریے پر دو مختلف ملکوں کی مہر لگا رہا تھا….“
”آپ نے محبتیں ختم کردیں….“
صبا آہستہ آہستہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس بڑھتے ہیں۔
”آپ کو، ارتضی کو، ایک مدت سے سب کو پڑھتا رہا۔ سب سے ملنے کی خواہش ہوتی تھی۔ سب سے بڑھ کر ہندوستان سے…. اپنی خوشبو سے…. مٹی سے….“
وہ ہتھیلی کھڑکی سے باہر لے جاتے ہیں۔ بارش کی بوندیں ٹپ ٹپ ہتھیلیوں پر گر رہی ہیں۔ ایک لمحہ کو سناٹا چھاجاتا ہے۔ صبا بھائی پھر شروع ہوجاتے ہیں۔ ”ہندوستان تو ہر بار، ہر لمحہ نظروں کے آگے ہے۔ فلم کی بات چلتی ہے تو ’مغلِ اعظم‘….“
نعمان درمیان میں بات کاٹتے ہیں__اکبر ہم نے رکھ لیا، انارکلی آپ لے گئے۔ غالب ہم نے رکھ لیا…. اقبال کو تو آپ لے گئے…. کمبختوں نے ادب کو بھی نہیں بخشا۔
۔ سیاست نے ’مغلِ اعظم‘ کے بھی دو ٹکڑے کردیئے۔ اکبر کو آگرہ میں چھوڑ دیا اور زنجیروں میں جکڑی سلیم کی محبت انارکلی کو آپ لاہور لے گئے۔“ صبا تقسیم کے کرب سے باہر نکلنے کی کوشش کررہے ہیں__ اورنگ زیب کی جامع مسجد، اکبر کے قلعے__ نورجہاں کا مزار اور معصوم، محبت کی یادگار اور انارکلی کا مقبرہ۔ شہزادے سے محبت کرنے کے جرم میں، جسے دیوار میں چنوادیا گیا تھا، اور شالیمار باغ کے گنگناتے فوارے لیکن اب یہ فوارے چیخ رہے ہیں۔ ان میں کشمیر کا لہو اتر آیا ہے۔
کشمیر__ ایک بار پھر سناٹا ہے۔ یہ وہ موضوع ہے جس پر کوئی بھی بات کرنے کو تیار نہیں۔ ہم میں سے ہر آدمی اپنی اپنی حب الوطنی کے قصیدے پڑھنے کے لئے مجبور ہے۔نعمان ایک بار پھر مسکراہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ”کچھ دیر بعد ہم آزاد ہو جائیں گے۔“
”مطلب؟“ صبا چونکتے ہیں۔
”گھڑی دیکھئے۔ آزاد ہونے میں ایک گھنٹہ رہ گیا ہے۔“
”اوہ یعنی ہماری آزادی خم ہونے میں….“
ارتضیٰ پریشان ہیں۔ ”ملازم ابھی تک نہیں آیا۔“
”کیوں؟“
”وہ…. آج منگل ہے نا۔ منگل کے روز دلّی میں گوشت نہیں ملتا۔ ہوٹل بھیجا ہے گوشت لانے کے لیے۔ آپ سب کھانا کھا کے جائیں گے۔“
”گوشت۔“ صبا مسکراتے ہیں۔ ”گوشت کی تکلیف کیوں کی۔ گوشت تو وہاں ہم کھاتے ہی رہتے ہیں۔ اب تو انسانی گوشت بھی سستے ہوگئے ہیں….“ کہتے کہتے صبا ٹھہر گئے ہیں۔
نعمان قہقہہ لگاتے ہیں__ پاکستان اپنے ساتھ گوشت لے گیا۔ سبزیاں ہمارے حصے میں چھوڑ گیا۔“
— فسانۂ شب و روز سے گزرتے ہوئے یہ سارے منظر دوبارہ زندہ ہو گئے ہیں:
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض چکائے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے
یہ کتاب آشفتہ سروں کا نوحہ بھی ہے ، سرحد کے دونوں طرف واجب قرض کی ادائیگی ہو چکی ، سیاسی کھیل اب بھی باقی ہےـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*