ذہنی ساخت-رعایت اللہ فاروقی

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان جس ماحول میں مستقل رہتا ہے اس کے مزاج ہی نہیں اعمال پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں جس کا اظہار اس کی شخصیت سے ہونے لگتا ہے۔ مثلا مستقل خواتین کی سنگت میں رہنے والے کے تو لہجے تک پر زنانہ رنگ چڑھ جاتا ہے۔ اس سے گفتگو کرتے ہوئے آپ کو یہی تاثر مل رہا ہوتا ہے کہ آپ شاید کسی مرد نما خاتون سے ہم کلام ہونے کا شرف پا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تین چار برس قبل اسی وال پر ایک پوسٹ میں نوجوانوں کو یہ ترغیب دی تھی کہ روزانہ کی بنیاد پر معمر اور تجربہ کار بزرگوں کی نشست میں بیٹھا کیجئے اس سے آپ کی شعوری سطح بلند ہوگی۔

اس کا ایک مظہر خود میری فرینڈ لسٹ میں یوں سامنے آیا کہ دو ڈھائی سال قبل ایک صاحب کو اپنی فرینڈ لسٹ میں اس خیال سے شامل کیا کہ نوجوانی سے جوانی میں قدم رکھ چکے ہیں لہذا عمر کے لحاظ سے موزوں ہیں۔ مگر بہت جلد اندازہ ہوا کہ ذہنی طور پر پندرہ برس سے کم ہیں۔ حیرت بھی ہوئی کہ اس کا کیا سبب رہا ہوگا مگر بہت جلد خود انہوں نے ہی بچوں کے ایک مشہور جریدے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ اس کے ایڈیٹر رہے ہیں۔ چنانچہ پلک جھپکنے جتنی ساعت میں سمجھ گیا کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ پروفیشنل رائٹرز اس بات کی تصدیق کریں گے کہ کوئی بھی تحریر لکھنے کے لئے آپ کو اس تحریر کے لئے درکار موڈ خود پر طاری کرنا پڑتا ہے۔ مثلا مزاح لکھتے ہوئے اگر آپ طبعی طور پر مزاح کے موڈ میں ہی نہیں ہیں تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ آپ کی تحریر مزاح پیدا کرسکے۔ اسی طرح جس تحریر کو پڑھتے ہوئے ہم پر گریے کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے یہ گریہ درحقیقت رائٹر کے گریے کا ایکسٹینشن ہوتا ہے۔ ضرور بالضرور وہ رائٹر اس مقام کو لکھتے وقت آبدیدہ رہا ہوتا ہے۔ یوں میری فرینڈ لسٹ پر وارد ہونے والے مہمان کے ساتھ بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ پندرہ برس سے کم عمر والے بچوں کا جریدہ نکالنے کے لئے انہیں کئی سال تک روز عالم بیداری کے دس سے بارہ گھنٹے بچوں والی ذہنی کیفیت میں رہنا پڑا تھا جس سے ان کی ذہنی ساخت مستقل طور پر بندرہ عمر سے کم بچوں والی ہوگئی تھی۔ اور چونکہ یہ نوجوانی میں اس صورتحال سے دوچار ہوئے تھے تو تجربہ نہ ہونے کے سبب وہ اس ریاضت پر عمل نہ کر پائے جس کی مدد سے انسان واپس اپنی اصل ذہنی ساخت کی جانب روزانہ کی بنیاد پر لوٹتا ہے، اور اسے بحال رکھتا ہے۔ چنانچہ وہ برتھ سرٹیفکیٹ اور دنیا میں اپنی موجودگی کے عرصے کے لحاظ سے یقینا 35 برس کے آس پاس کے تھے لیکن ذہنی ساخت کے لحاظ سے وہ بندرہ برس سے کم عمر والی ذہنی ساخت کے اسیر ہوگئے تھے۔

یہ بنیادی طور ذہن کا طبعی عمر سے آگے چلے جانے یا پیچھے رہ جانے کا کیس ہے۔ اس معاملے کو آپ دو شخصیات کی مثال سے بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ طبعی اور ذہنی عمر میں کسی بڑے فرق کی صورت کیسے کیسے دلچسپ حقائق سے سامنا ہوتا ہے۔ ذہنی عمر طبعی عمر جیسی نہیں ہوتی کہ اس پر کسی مدت کا اطلاق ہوتا ہو۔ بلکہ یہ ذہن کا اپنی ساخت کے لحاظ سے کسی ایسی سٹیج پر موجود ہونا ہوتا ہے جو سٹیج اس طبعی عمر سے یا تو آگے کی ہوتی ہے یا پیچھے کی۔ چنانچہ ہم امام غزالی کی سوانح پڑھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ محض 21 برس کی عمر میں اس زمانے کی سب سے عظیم الشان درسگاہ جامعہ نظامیہ بغداد کے ڈین بن گئے تھے۔ اور وہ اگلے دو چار برس میں وہ کارنامہ انجام دیتے نظر آتے ہیں جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی آنے والی ایک ہزار سالہ تاریخ میں انہیں مسلسل "مجدد فی العلم” تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ غزالی محض 52 برس کی عمر میں انتقال فرماگئے تھے اور پھر ایک نظر ان کی تصانیف کی غیر معمولی تعداد ہی نہیں بلکہ لامتناہی گیرائی و گہرائی پر ڈالتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ اتنی سی عمر میں اتنا وسیع اور گہرا کام کیسے ممکن ہوگیا ؟ بعینہ مولانا آزاد کا معاملہ ہے۔ وہ صرف پندرہ برس کی عمر میں ایسی تحاریر لکھتے نظر آتے ہیں جو ہندوستان کے طول عرض کو متاثر کرتی ہیں۔ اور گلی ڈنڈے یا کنچے کھیلنے والی اس عمر میں وہ گلی ڈنڈا کھیلنے کے بجائے "لسان الصدق” نامی جریدے کا اجرا کرتے نظر آتے ہیں۔ اور صورتحال یہ رہتی ہے کہ ملاقات کے لئے آنے والے کسی معمر شخص کا تصور باندھ کر پہنچتے ہیں اور پتہ چلتا ہے کہ ابوالکلام تو فقط ایک لونڈا ہے۔ سو سمجھنے والی بات یہ ہے کہ غزالی اپنی پیدائش کے لحاظ سے نظامیہ کا ڈین بنتے وقت ضرور 21 برس کے تھے مگر ان لمحوں میں ان کا شعور پچاس سے ساٹھ برس والے شخص کا تھا۔ یعنی ان کا ذہن اور شعور ان کی طبعی عمر سے بہت آگے تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان کی کتب کی تعداد ہی نہیں بلکہ ان کی گیرائی و گہرائی کسی 80 سے 90 برس کی عمر والے مفکر کی ہے۔ کچھ اسی طرح کا معاملہ مولانا آزاد کا بھی ہے جن کی موت کا نوحہ کہتے ہوئے ان کے دماغ کو آغا شورش کاشمیری کچھ یوں خرج تحسین پیش کرتے نظر آتے ہیں:
کئی دماغوں کا ایک انساں ،میں سوچتا ہوں کہاں گیا ہے
قلم کی عظمت اجڑ گئی ہے ،زباں کا زور بیاں گیا ہے

سو یہ وہ لوگ تھے جن کا دماغ ان کی عمر سے بہت ہی آگے کی عمر کا تھا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*