ذات برادری اور مسلمانوں کا رویّہ ـ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

” آپ کی مسجد کے امام صاحب اپنے نام کے آگے کیا لگاتے ہیں؟” میرے ایک جاننے والے ، یونی ورسٹی کے استاد نے فون کرکے سوال کیا تو میں سمجھ نہ سکاـ
میں نے جواب دیا : ” میری سمجھ میں نہیں آیا ، آپ کیا دریافت کر رہے ہیں؟ ”
انھوں نے پھر وہی سوال دہراتے ہوئے مزید وضاحت کی کہ امام صاحب اپنے نام کے آگے خان ، صدیقی ، انصاری ، کیا لگاتے ہیں؟
تب میں سمجھا کہ وہ دراصل یہ جاننا چاہتے ہیں کہ امام صاحب مسلمانوں کی کس برادری سے تعلق رکھتے ہیں؟
میں نے ان سے سوال کردیا : ” کیا شادی کا مسئلہ ہے؟”
تب وہ کھلے کہ دراصل وہ اپنی بیٹی کا رشتہ تلاش کررہے ہیں ـ امام صاحب کا ایک لڑکا انجینیرنگ کررہا ہےـ اس سے رشتہ زیرِ غور ہےـ

میں نے امام صاحب سے تذکرہ کیا کہ ایک صاحب آپ کی ذات برادری کی کھود کرید کررہے ہیں ـ
وہ مسکرائے ـ انھوں نے اپنی برادری بتا تو دی ، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ انھوں نے نہ تو اپنے نام کے ساتھ کبھی اپنی برادری کا لاحقہ لگایا ، نہ کبھی اس کا اظہار کیا ، نہ اسے پسند کرتے ہیں ـ
مجھے ان کا جواب بہت اچھا لگا _
اُن صاحب کا پھر فون آیا :”کیا آپ نے معلوم کیا؟”
میں نے جواب دیا : "امام صاحب اپنے نام کے آگے کچھ نہیں لگاتے ، البتہ نام سے پہلے ‘محمد’ لگاتے ہیں ـ”

ذات برابری کی بنیاد پر اونچ نیچ کا تصوّر سراسر غیر اسلامی ہے، لیکن افسوس کہ یہ مسلمانوں میں سرایت کیے ہوئے ہےـ نکاح میں ‘کفو’ کو ملحوظ رکھنے کی تلقین ملتی ہےـ یہ بات درست ہےـ شرعی اور سماجی دونوں پہلوؤں سے یہ تسلیم شدہ ہے ـ کفو کا مطلب یہ ہے کہ زوجین کے درمیان مختلف پہلوؤں سے ہم آہنگی ہو ، تاکہ ان کا رشتہ دیرپا اور خوش گوار رہے ، لیکن افسوس کہ اسے ذات برادری سے جوڑ دیا گیا ہےـ دوسری قوموں کی پہچان اونچ نیچ ، چھوت چھات کے تصوّرات سے ہےـ ان کی جڑیں ان کے مذہب میں گہرائی تک پیوست ہیں ، لیکن تعجب ہے کہ اسے مسلمانوں کے درمیان بھی قبولِ عام حاصل ہوگیا ہے ، جن کے مذہب نے مساوات کا درس دیا تھا ، تمام انسانوں کو برابر قرار دیا تھا اور تفریق کی تمام بنیادیں منہدم کردی تھیں ـ

میری اہلیہ بہت بھولی ہیں ـ ایک دن موڈ میں تھیں ـ کہنے لگیں : ” اگر میری امّی زندہ رہتیں تو آپ سے میرا نکاح نہیں ہوسکتا تھاـ”
میں نے کہا : ” خیر تو ہےـ میں اتنا بُرا بھی نہیں ـ”
کہنے لگیں : ” میری امی ہڈّی سے ہڈّی ملاتی تھیں ـ وہ اپنی برادری سے کم تر برادری میں اپنی لڑکی کا نکاح کرنے پر تیار نہ ہوتیں ـ”

میرے ایک عزیز نے خواہش کی کہ ان کی لڑکی کے لیے کوئی مناسب رشتہ میری نظر میں آئے تو بتاؤں ، بلکہ مجھے اختیار دیا کہ میں رشتہ طے بھی کردوں ـ اتفاق سے ایک اچھا رشتہ آیا اور میں نے طے کر دیاـ میرے عزیز نے دریافت کیا : "وہ لوگ کس برادری کے ہیں؟”
میں نے جواب دیا : ” یہ تو میں نے پوچھا ہی نہیں ـ لڑکا دین دار اور باصلاحیت نظر آیا ، میں نے رشتہ طے کردیاـ”
انہیں اطمینان نہیں ہواـ وہ اس وقت تو خاموش ہوگئے ، لیکن انھوں نے تحقیق جاری رکھی ، یہاں تک کہ پتا لگا لیا کہ لڑکا کس برادری سے تعلق رکھتا ہے؟ شکر ہے کہ وہ ان کی نام نہاد اونچی برادریوں میں سے تھا ، ورنہ اندیشہ تھا کہ وہ کسی ترکیب سے یہ رشتہ ختم کروادیتےـ”

ذات برابری کی بنیاد پر اونچ نیچ کا تصور مسلم سماج کا ناسور ہےـ افسوس کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے ، یہاں تک کہ دین دار حضرات بھی اس دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ـ ملّت کے سنجیدہ ، باشعور اور فکر مند لوگوں کو اس کے خلاف مہم چلانی چاہیے اور اس سے نجات دلانے کی کوشش کرنی چاہیےـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*