زرعی قوانین :کسی دیوار نے سیل جنوں روکا نہیں اب تک

 

مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی

نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھار کھنڈ

لال بہادر شاستری نے کبھی ملک کی حفاظت اور کسانوں کی اہمیت کے پیش نظر جے جوان جے کسان کا نعرہ دیا تھا، سیاست داں حکمراں اور وزرا گاہے گاہے یہ نعرہ اب بھی مختلف اجلاس میں لگایا کرتے ہیں، لیکن وہ حلق کے اوپر سے ہی ہوتا ہے ، جوانوں کی عظمت تو اب بھی کسی درجہ میں باقی ہے، لیکن جے کسان کے نعرے زرعی قانون کے پاس ہونے کے بعد ہوا میں تحلیل ہو گیے ہیں، اب کسان سڑکوں پر ہیں ، ٹھنڈی راتوں میں ان پر پانی کی بوچھاڑ کی جا رہی ہے، آنسو گیس کے گولے چھوڑے جا رہے ہیں، لاٹھی ڈنڈوں سے انہیں پیٹا جا رہا ہے ، ان کے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، کئی جگہوں پر سڑکوں کو کاٹ کر خندق کھود دی گئی ہے ،تاکہ کسان دہلی کی طرف نہ بڑھ سکیں، ادھر کسان اپنی ساری تیاری کے ساتھ دہلی کی طرف کوچ کر چکے ہیں اور سرحد تک پہونچ چکے ہیں، سرکار نے بعض شرطوں کے ساتھ ان سے بات چیت کرنے کا عندیہ ظاہر کیا ہے ، لیکن وہ کسی شرط کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں، ان کا ایک ہی نعرہ ہے کہ زرعی قوانین واپس لو، واپس لو، اس تحریک میں شدت وزیر اعظم کے من کی بات کی وجہ سے پیدا ہوئی جس میں انہوں نے زرعی قوانین کی تعریف کی اور کہا کہ اس سے کسانوں کو فائدہ ہوگا، تحریک کاروں کا خیال ہے کہ ایسے میں بات چیت کا کچھ حاصل نہیں ہے، سرکار سمجھوتے کی میز پر زرعی قوانین کے فوائد سمجھانے کے لیے بلا رہی ہے ،مختلف تاریخوں میں سات دور کی بات چیت سے اب تک یہی بات سمجھ میں آئ ہے. جب کہ کسان کا کہنا ہے کہ ہم اس کے مضر اثرات سے خوب واقف ہیں، کسانوں کی اس تحریک کی قیادت سات رکنی کمیٹی کررہی ہے ،جس میں کسان لیڈر اور سوراج انڈیا کے سر براہ یوگیندر یادو بھی شامل ہیں۔

سرکار کی تجویز یہ ہے کہ یہ تحریک کار دہلی ہریانہ باڈر سے ہٹ کر نہنکاری میدان جائیں، پھر بات ہوگی ، کسانوں کو ڈر ہے کہ نہنکاری میدان ان کے لیے کھلا جیل نہ بنا دیا جائے، دہلی پولیس نے دہلی حکومت سے نواسٹیڈیم بھی مانگا ہے، تاکہ ان کو جیل بنایاجائے اور کسانوں کی سرکاری ضیافت کی جائے، کسانوں کے تیور سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہر حال میں رام لیلا گراؤنڈ پہونچیں گے ، تازہ اطلاع کے مطابق انہوں نے پولیس رکاوٹوں کو ہٹا کر اپنی راہ بنالی ہے ، ان کے ساتھ کھانا پکانے کے لیے عورتیں اور غذائی اجناس بھی ہیں تاکہ انہیں کسی طرح کی پریشانی لاحق نہ ہو۔

حکومت نے اس پر امن تحریک کو بدنام کرنے کے لیے خالصتان دہشت گرد اور فوڈ جہاد کا نام دیا ہے، چوں کہ زیادہ تر کسان ابھی پنجاب سے آئے ہیں، اس لیے اسے خالصتان سے جوڑا جا رہا ہے ، دوسری طرف بعض مسلم تنظیمیں اور مساجد کے ذمہ داران نے تحریک کاروں کو کھانا سپلائی کرنے کا کام شروع کر رکھا ہے اور پوری طرح کسانوں کی حمایت میں ہیں، اس لیے اسے لو جہاد کی طرح فوڈ جہاد کا نام دے کر اس کے اثرات کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اس سلسلے میں ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر حکومت اور بہار کی نتیش کمار حکومت کو بھی تنقید کا سامنا ہے، کیوں کہ ان دونوں حکومتوں نے اسے غیر ضروری قرار دیا ہے۔

مرکزی حکومت کا رویہ کار پوریٹ گھرانے کے تئیں ہمدردی کا رہا ہے ، اڈانی، امبانی جیسے لوگوں کو فائدہ پہونچانے کے لیے حکومت کسی حد تک جا سکتی ہے ،نئے زرعی قوانین کا حاصل بھی یہی ہے ، سرکار کے ہاتھ فصلوں کو فروخت کرنے پر بھی انہیں ان کی محنت کا معاوضہ نہیں ملتا تھا، اب جب کہ دھیرے دھیرے اقل ترین قیمت پر خریداری ختم کرکے فصلوں کی خریداری کا کام بڑے کار پوریٹ گھرانے کے سپرد کر دیا جائے گا تو کسانوں کو فصلوں کے اونے پونے دام ملیں گے اور انہیں نت نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا، کسان دوسروں کے پیٹ بھرنے کے لیے سخت محنت کرتا ہے ، مشقتیں بر داشت کرتا ہے ، سرکار کا نیا زرعی قانون ان کے پیٹ پر لات مارنے اور انہیں بھوکا رکھنے کا کام کرے گا، ظاہر ہے کوئی بھی انصاف پسند اس صورت حال کو بر داشت نہیں کر سکتا۔

ہندوستان کا جومعاشی ڈھانچہ ہے اس میں زراعت کی بڑی اہمیت ہے یہ کل گھریلو پیداوارGross Domestic Product ۶ء ۱۱ ؍ فی صد اور بر آمدات کا بارہ فی صد ہے، لیکن اس اہم معاشی شعبہ کو ترقی دینے والے پچاسی فی صد کسان غریب گھرانے سے آتے ہیں، یہ اپنی پیداوار کسی کے ہاتھ بیچ سکتے ہیں، اس کی انہیں آزادی ہے، اور اگر کوئی نہ خریدے تو ام ایس پی یعنی اقل قیمت جو سرکار کی مقرر کردہ ہوتی ہے، اس قیمت پر وہ سرکاری ایجنسیوں کے ہاتھ فروخت کر سکتے ہیں لیکن موجودہ قانون میں ایم ایس پی کا کوئی لفظ ہی نہیں ہے، ماہر زرعی امور ہرویر سنگھ کا کہنا ہے کہ ایم ایس پی قانون نہیں سرکاری اسکیم ہے اور اسکیم کو ختم کرنے کے لیے دو جملوں کی ایک تحریر کافی ہوگی، ایسے میں کسان کی حیثیت یومیہ مزدور کی ہوجائے گی، حالاں کہ اب بھی ان کی آمدنی کا صر ف۱۶؍ فی صد حصہ کھیتی سے آتا ہے اور چوراسی فی صد آمدنی کا تعلق ان کی مزدوری سے ہے ، یہ ایسے کسان ہیں جن کے پاس ۴ء ۰؍ ہیکٹر سے کم زمین ہے، جن کے پاس ۴ء ۰؍ یا اس سے زائد یا ایک ہیکٹر سے زائد زمین ہے وہ اپنی پیداوار سے صرف چالیس فی صد حاصل کر پاتے ہیں، ساٹھ فی صد آمدنی در اصل خود ان کے کھیتوں پر کام کرنے کی وجہ سے آتی ہے۔یہ بات ذہن میں رہنی چاہیےکہ انگریزوں کے دور میں چھوٹا ناگپور اور سنتھال پرگنہ کاشتکاری قانون کے ذریعہ کسانوں کے مفاد حفاظت کی گئ تھی، ازادی کے بعد سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات بھی کسانوں کے مفار میں تھیں لیکن حکومت نے اسے نافذ نہیں کیا اور کسانوں کی حالت اس قدر خستہ ہوئ کہ وہ خود کشی پر مجبور ہو نے لگے،

حالیہ قانون کے جو اثرات مرتب ہوں گے اس سے کم از کم زرعی پیداوار مارکیٹنگ کمیٹی (اے پی ام سی) کا خاتمہ ہو جائے گا، اور کسان کم ازکم امدادی قیمت (ام اس پی) سے بھی محروم رہ جائیں گے کیونکہ اس قانون میں اس کی کوئی ضمانت نہیں دی گئ ہے. ان حالات کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ کسان صنعت کاروں کے غلام بن کر رہ جائیں گے،

مرکزی حکومت کو پارلیمان میں اپنی اکثریت کا غرور ہے اور اس کے سہارے وہ اول جلول قوانین بعجلت تمام پاس کر رہی ہے ، حزب مخالف مردہ ہو چکی ہے، اس کے باوجود حکومت کو اس قسم کے قوانین منظور کرنے سے گریز کرنا چاہیے، جو عوام مخالف ہو، جمہوریت میں عوام کی طاقت ہی اصل ہوا کرتی ہے اور اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، البتہ آپ کو یہ سوال کرنے کا حق ہے کہ ملک میں کیا جمہوریت اب بھی باقی ہے۔

(بشکریہ نقیب)