زرعی قوانین کی جائزہ کمیٹی نے سپریم کورٹ کورپوٹ پیش کی

نئی دہلی:سپریم کورٹ کی جانب سے تین نئے متنازعہ زرعی قوانین کے مطالعہ کے لیے مقرر کردہ کمیٹی نے مہر بند لفافے میں اپنی رپورٹ عدالت عظمیٰ کوپیش کی ہے۔ کمیٹی کے ایک رکن نے بدھ کے روز یہ معلومات دی ہیں۔کسان ان قوانین کو منسوخ کرنے کامطالبہ کرتے ہوئے دہلی کی سرحدوں پر پچھلے پانچ مہینوں سے احتجاج کررہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے 11 جنوری کو ان تینوں قوانین کے نفاذ کو اگلے احکامات تک روک دیا تھا اور تعطل کو حل کرنے کے لیے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔کمیٹی کو قوانین کا مطالعہ کرنے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات کرنے کے لیے دوماہ کاوقت دیا گیا۔کمیٹی کے ایک ممبر پی کے مشرا نے بتایاہے کہ ہم نے 19 مارچ کو مہر بند لفافے میں رپورٹ پیش کی ہے۔ اب ، عدالت آئندہ کی کارروائی کا فیصلہ کرے گی۔کمیٹی کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق ، کمیٹی نے مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کل 12 راؤنڈز مشورے کیے جن میں کسان گروپس ، کسان پروڈکشن آرگنائزیشنز (ایف پی اوز) ، خریداری ایجنسیوں ، پیشہ ور افراد ، ماہرین تعلیم ، نجی اورریاستی زرعی مارکیٹنگ بورڈشامل ہیں۔کمیٹی نے رپورٹ کو حتمی شکل دینے سے قبل نو داخلی میٹنگیں بھی کیں۔