زرعی قوانین کے خلاف سی پی آئی رکن پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ کارخ کیا

نئی دہلی:کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے رکن پارلیمنٹ ونے وشوم نے پیر کو سپریم کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کرکے تینوں قابل اطلاق زرعی قوانین کے آئینی جواز کو چیلنج کیاہے۔ وشوم نے اپنی درخواست میں قوانین کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ان قوانین نے ہندوستان کے آئینی نظام کے وفاقی ڈھانچے کی خلاف ورزی کی ہے۔ بائیں بازوکے لیڈر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ بل راجیہ سبھا میں بحث کئے بغیر منظور کئے گئے جو آئین کے آرٹیکل 100 اور 107 کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ ان قوانین نے آئین کے آرٹیکل 14،19 اور 21 کی خلاف ورزی کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پارلیمنٹ کے حالیہ مان سون اجلاس میں دونوں ایوانوں نے کسانوں کی پیداوار تجارت (فروغ اور سہولت) بل، 2020، کسانوں کو(بااختیار اور تحفظ) پرائس انشورنس کنٹریکٹ اور زرعی خدمات بل 2020 اور( 3) ضروری اشیاء (ترمیمی) بل 2020 کو منظور کیا تھا۔ صدر رام ناتھ کووند کی منظوری کے بعد وہ قانون بن گئے تھے۔