زرعی بلوں پر بی جے پی جھکنے کو تیار نہیں،ملک بھر میں کرےگی 700 پریس کانفرنس

نئی دہلی:زرعی قانون کے معاملے پر کسانوں اور اپوزیشن کی مخالفت کا سامنا کررہی بھارتیہ جنتا پارٹی اب فرنٹ فٹ پر کھیلنے کی تیاری کر رہی ہے۔ بی جے پی نے جمعہ سے ملک کے مختلف شہروں میں 700 پریس کانفرنسوں کا اہتمام کیا ہے۔اس کے ذریعہ مودی سرکار کے ذریعہ لائے گئے زرعی قانون کے فوائد کو بتایا جائے گا اور اس کے بارے میں کاشتکاروں کو سمجھایا جائے گا۔ بی جے پی ملک میں سو سے زیادہ مقامات پر کسانوں کا اجلاس بھی منعقد کرے گی، جبکہ ہر ضلع میں ایک پریس کانفرنس ہوگی۔کسانوں نے مرکزی حکومت کے ذریعہ لائے گئے تینوں زرعی قوانین کی شدید مخالفت کی ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں سے کسان دہلی کی سرحدوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ مرکزی حکومت نے کسانوں سے بات کرنے کی کوشش کی، قوانین میں کچھ ترامیم کی تجویز پیش کی لیکن معاملہ حل نہیں ہوسکا۔ایسی صورتحال میں بی جے پی نے اب زرعی قوانین کے معاملے کو پارٹی سطح پر عوام کے سامنے پیش کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز زرعی قانون کے بارے میں ایک کتابچہ جاری کیا گیا تھا، جس میں تینوں زرعی قوانین کے فوائد کو بتایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر، وزیر تجارت پیوش گوئل نے بھی ایک پریس کانفرنس کی تھی اور زرعی قانون سے حاصل ہونے والے فوائد کی توثیق کی تھی اور کسانوں سے تحریک ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے مسلسل اپوزیشن پر الزام لگایا ہے کہ وہ زرعی قانون کے معاملے پر کسانوں کو اکسارہی ہے۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ اپوزیشن کسانوں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر چلا رہی ہے اور بچولیوںکا ساتھ دے رہی ہے۔ بی جے پی کا دعوی ہے کہ یہ تینوں قانون کسانوں کے مفاد میں ہیں، اگر کسانوں کو کچھ شک ہے تو بات چیت سے اس کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔راجستھان کے پنچایت انتخابات اور ملک کی دیگر ریاستوں میں ہونے والے کچھ انتخابات میں حالیہ کامیابی کے بعد بی جے پی نے اس کو زرعی قانون کی حمایت کے طور پر پیش کیا۔ حال ہی میں پرکاش جاوڈیکر نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں یہ دعوی کیا گیا کہ راجستھان میں دو کروڑ سے زیادہ کسانوں نے بی جے پی کے حق میں ووٹ دیا۔