زرعی قانون کے خلاف لندن میں بھی مظاہرے،ہزاروں لوگ سڑکوں پرنکل آئے

نئی دہلی:نئے زرعی قانون کو لے کر لندن میں بھی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔ زرعی قانون کے خلاف ہزاروں افراد لندن کی سڑکوں پر نکل آئے۔ کسانوں کی تحریک ہندوستان میں جاری ہے اور 8 نومبر کو بھارت بند بلایا گیا ہے۔ ہزاروں مظاہرین نے لندن میں ہندوستانی سفارت خانے کے باہر نعرے لگائے اور قانون واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ کسانوں کو خوف ہے کہ اس قانون سے مارکیٹ کا کنٹرول ختم ہوجائے گا اور حکومت گندم اور چاول گارنٹی قیمت پر خریدنا بند کردے گی۔ اس سے وہ نجی شعبے کے خریداروں پر مکمل منحصر ہوجائیں گے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے کسانوں کو اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے مزید مواقع میسر ہوںگے۔ اس ریلی میں تقریباً3500-4000 افراد نے حصہ لیا اور یہاں تقریباً700 گاڑیاں تھیں۔ تاہم ریلی میں صرف 40 گاڑیوں کو لے جانے کی اجازت تھی۔ اس ریلی میں خالستانی پرچم بھی دکھائے گئے۔ ہندوستانی ہائی کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ ہندوستان میں زرعی قانون کے خلاف مظاہرے جمہوری عمل کا ایک حصہ ہے۔ حکومت ہند احتجاج کرنے والے کسانوں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔ اس بات کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ ہندوستان کا داخلی مسئلہ ہے۔ میٹرو پولیٹن پولیس نے بتایا کہ کورونا قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر 13 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں سے 4 افراد کو جرمانہ عائد کرنے کے بعد رہا کیا گیا ۔ پولیس کمانڈر پال بروزن نے ایک بیان میں کہاکہ دارالحکومت ابھی بھی کورونا کی گرفت میں ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم کووڈ۔19 کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کریں۔