Home نقدوتبصرہ کچھ باتیں راجیو پرکاش گرگ ساحرؔکی افسانوی کائنات ’ زرد موسم ‘ کے حوالے سے – شکیل رشید

کچھ باتیں راجیو پرکاش گرگ ساحرؔکی افسانوی کائنات ’ زرد موسم ‘ کے حوالے سے – شکیل رشید

by قندیل

یہ کہانیاں زردموسم کی ہیں ۔ آسان نہیں ہے اِن کہانیوں تک پہنچنا ، ان کے پیچھے دوڑنا ، بھاگنا اور ان کا تعاقب کرنا پڑتا ہے ۔ اور راجیو پرکاش گرگ ساحرؔ نے یہی کیا ہے ۔ کون ہیں یہ راجیو پرکاش گرگ ساحرؔ ؟ اس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے ۔ میں نے کہانیوں کے اس زیر تعارف و تبصرہ مجموعے ’ تعاقب زرد موسم کا ‘ سے پہلے ، ان کا نہ کوئی افسانہ پڑھا تھا اور نہ ہی مجھے یہ پتہ تھا کہ وہ شاعری بھی کرتے ہیں ۔ جب قاضی زکریا کے ، لکھنئو واقع پبلشنگ ادارے ’ میٹر لِنک پبلشرز ‘ سے ، جو اِن دنوں معنوی اور صوری دونوں اعتبار سے بہترین کتابیں شائع کر رہا ہے ، مجھے یہ کتاب ملی ، اور میں نے اِسے پڑھنا شروع کیا ، تب پتہ چلا کہ اردو زبان میں راجیو پرکاش گرگ ساحرؔ نام کا ایک ایسا افسانہ نگار بھی ہے جو اپنی کہانیاں ایک ایسی دنیا کے حوالے سے بیان کر سکتا ہے ، جسے ہم Dystopian کہتے ہیں ، یعنی ایسی دنیا ، جہاں حالات اور زندگی محرومی ، جبر یا دہشت گردی سے انتہائی خراب ہیں ۔ اور جو سائنس کے مضر اثرات ، ماحولیاتی تباہی ، اور انسانوں کے استحصال سے بھری ہوئی ہے ۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جو ’ زرد موسم ‘ کی زد میں ہے ۔ زرد موسم یعنی تباہیاں ، بربادیاں ، بیماریاں ۔ یہ موضوع ، جیسا کہ میں اوپر کہہ چکا ہوں ، آسان نہیں ہے ، اِن کہانیوں تک پہنچنے کے لیے ان کے پیچھے بھاگنا ، دوڑنا اور ان کا تعاقب کرنا پڑتا ہے ۔ راجیو پرکاش گرگ ساحرؔ نے اس مجموعے کا کوئی پیش لفظ نہیں لکھا ہے ، لیکن ایک نظم ’ یا دل کی سنو ‘ کے عنوان سے لکھی ہے ، اسے ’ پیش لفظ ‘ سمجھا جا سکتا ہے ۔ اس نظم کا ایک شعر سن لیں ؎
کیا کریں ساحرؔ یہ زمانہ زرد موسم کا
بس فسانے ہیں سنانے ہمیں زرد موسم میں
افسانہ نگار اس شعر کے ذریعہ یہ بتا رہا ہے کہ وہ ’ زرد موسم ‘ کا باسی ہے اور ’ زرد موسم کے فسانے ‘ ہی سنا رہا ہے ۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ یہ کہانیاں گزرے ہوئے دنوں کی نہیں ہیں ، یہ آج کی کہانیاں ہیں ۔ ان کہانیوں میں کہیں کہیں ماضی نظر تو آتا ہے ، لیکن حال کے تناظر میں ۔ اس مجموعہ میں کُل ۴۳ افسانے شامل ہیں ۔ آئیں افسانہ نگار کی ’ افسانوی کائنات ‘ میں جھانکنے کی ایک کوشش کریں ۔ پہلا افسانہ ’ خلائی موسیقی ‘ ہے ۔ اس افسانہ کے بارے میں ، کتاب کے بیک کَور پر معروف نقاد پروفیسر شافع قدوائی کی رائے شائع ہوئی ہے ، وہ لکھتے ہیں کہ اس افسانے میں ’’ خلائے بسیط کا عقدہ حل کرنے کے لیے سرگرداں انسان کی کاوشوں کو دو کرداروں کے توسط سے پیش کیا گیا ہے ۔ Alien حقیقت ہے یا افسانہ ؟ افسانہ نگار یہ تو نہیں بتاتا مگر خلا کے یکسر غیر تسخیر علاقوں کی سیر پر مامور دو خلاباز سحر انگیز موسیقی سنتے ہیں ۔ اس سے یہ متبادر ہوتا ہے کہ ’ موسیقی ‘ دیدہ اور نادیدہ جہانوں کا اسمِ اعظم ہے ۔ ‘‘ لیکن یہ افسانہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ یہ ’ موسیقی ‘ جو ’ دیدہ اور نادیدہ جہانوں کا اسم اعظم ہے ‘ اس کی خبر زمین پر کھلبلی مچا دے گی اور ’’ دنیا کی ترقی یافتہ طاقتیں کہکشاں میں قوت آزمائی اور توازن طاقت کا کھیل کھیلنے کے لیے متحد ہو جائیں گی ۔ راکیٹ اور خلائی گاڑیوں پر مزائلوں سےسے لیس فوجی لشکر اور بیڑے Aliens اور چاند پر قبضہ کرنے کے لیے حملہ ور ہو جائیں گے ، کیونکہ یہی انسانی فطرت تھی ( ہے ) ۔ زمین پر تو خون سے نقشے روز بنائے مٹائے جاتے ہیں ۔‘‘ افسانہ نگار کو ، انسانی فطرت کا ، خوب ادراک اور احساس ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ انسان اپنے اردگرد کی خوبصورتی اور حسن کا دشمن ہے ، وہ خلائی موسیقی کو بھی اپنے تجربے کی بھینٹ چڑھا دے گا ۔ لیکن دو کرداروں میں سے ایک کردار یہ نہیں چاہتا ۔ گرگ کے افسانوں میں یہ موضوع الگ الگ انداز میں سامنے آتا ہے ، اور ’ حسن ‘ کو محض اپنی ’ طاقت ‘ کے اظہار اور ’ حرص و طمع ‘ کے لیے ’ تجربے ‘ کی بھینٹ چڑھانے کی دوڑ میں ، ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی انسانی تگ و دو کو ، الگ الگ انداز میں اجاگر کرتا ہے ۔ اس کی ایک مثال ’ بونے سیّارہ کی بدرنگ دنیا ‘ میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ سیّارہ جس پر اب صرف ایک نایاب عقاب ، ایک تیز ترین شکاری مکڑا اور ایک بھوکا درندہ آکٹوپس ، اور ان گنت جراثیم ، وائرس ، کیڑے ، مچھر ، مکھی اور چوہے اور سانپ ہی بچے ہوئے ہیں ۔ اور کچھ بونے ، جو ان کا شکار بنتے رہتے ہیں ۔ ایسا کیوں ہوا ؟ اس سوال کا ، ابتدا میں ،کوئی سیدھا جواب افسانہ نگار بھی نہیں دیتا ، وہ بس یہ کہتا ہے کہ ’’ کبھی اس سیّارے کی آبادی لاکھوں کروڑوں اربوں میں تھی ۔ جانے کتنے رنگوں ، نسلوں اور قسموں کی مخلوقات اس سیّارے پر آباد تھیں ، پھر جانے کیا ہوا کہ انسان کو اپنے اشرف المخلوق ہونے کا گمان ہونے لگا ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے پھر سب کچھ برباد ہو گیا ۔ شہر کے شہر قبرستان اور گاؤں کے گاؤں شمشان گھاٹ ہو گیے ۔ آسمان میں پرندے نہیں رہے ، زمین پر ہریالی نہیں رہی ۔ جھلستے ہوئے فلک سے انگارے برسنے لگے اور دھول بھری آندھیاں سیّارے کو روندنے لگیں ۔ ‘‘ لیکن افسانہ نگار پھر یہ سوال کرتے ہوئے کہ ’’ ایسا کیا ہو گیا تھا سیّارے پر کہ جینے اور زندہ رہنے کے عمل ندارد تھے ،‘‘ خود جواب دیتا ہے کہ ’’ اجل گرفتہ سیّارہ اپنی اس تباہ کن بساط پر صدیوں کا طویل سفر طے کرتے کرتے پہنچا تھا ، اور یہ صدیاں مسلسل خونی جنگوں کی رزم گاہیں تھیں ۔ زن ، زر ، زمین کے لیے جنگیں ، مذہبی جنگیں ، قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے جنگیں ، پیٹرول کے لیے جنگ ، ایٹمی جنگ اور پانی کے لیے ہونے والی جنگوں نے سیّارے کو بسترِ مرگ پر لا کر چھوڑا تھا ۔ ‘‘
افسانہ نگار سائنس کے غیر اخلاقی استعمال ، ماحولیات کی تباہی اور فضا میں گھلتے زہر اور پانی کی قلّت کو ، خوبی کے ساتھ ، مگر ایسے انداز میں ، اپنی کہانیوں ’ شیطان نیسٹی ‘ ، ’ پیاسی سبیلیں ‘ ، ’ حوادث غائبانہ ‘ اور ’ اندھا دھند ، دھند ہی دھند ‘ میں بیان کرتا ہے کہ ، قاری اپنے ماحول میں آتی تبدیلیوں کو ، ایک نئے احساس اور ادراک کے ساتھ دیکھنے سے خود کو روک نہیں پاتا ، اسے لگتا ہے کہ یہ اسی دنیا کی بات ہو رہی ہے جس میں وہ رہ رہا ہے ، اور اگر کچھ نہ کیا گیا تو جلد ہی یہ دنیا ، جو زہر سے بھری ہو ہے ، مزید زہریلی ہو جائے گی ۔ ایسی ہی ایک کہانی ’ تشنہ لبی ‘ ہے ، جو ایک ’ واٹر پیوروفائر ‘ کمپنی کے ایک سیلس ریپریزینٹو کے حوالے سے ’ آلودہ پانی اور آلودہ ذہنیت ‘ سے پردہ ہٹاتی ہے ، اور سیلس ریپریزینٹو کے ایک سوال کو اٹھاتی لیکن بغیر جواب کے چھوڑ دیتی ہے کہ ’’ گاؤں میں بھی تو ندی ، نالے ، کوئیں ، پوکھر یا تو سوکھ گیے ہیں یا گندلا گیے ہیں ۔ گاؤں میں بھی تو پینے کے صاف پانی کی دشواری ہے ۔ گاؤں میں پانی کون صاف کرے گا ؟ میں تو یہاں شہر میں ، پانی صاف کرنے کے دھندے میں الجھ کر رہ گیا ہوں ۔ ‘‘ راجیو پرکاش گرگ ساحرؔ کا یہ مجموعہ انسانی زندگی کے دوسرے چہرے بھی دکھاتا ہے ، جو اسی قدر بدنما ہیں جس قدر کہ ماحولیاتی آلودگی کے شکار لوگ ، اور یہ دنیا ۔ افسانہ ’ ایک بھیگے لمحے کی لمبی سڑک ‘ جھوپڑپٹّی میں رہنے والی پندرہ سالہ نیلو کی کہانی ہے ، جو مَن بھر کر نہانا چاہتی تھی ، جسے اپنی مالکن کے فلیٹ میں سب سے زیادہ پسند اس کا حمام تھا ۔ اور ایک دن اس حمام سے اس کی خواہش پوری تو ہو جاتی ہے ، لیکن پھر وہ نہ جانے کتنوں کی خواہش بن جاتی ہے ، اور ایک دن شہر کے باہر کے گندے سیور کے بدبودار پانی میں اس کی لاش ملتی ہے ۔ افسانہ ’ عکس نآآفریدہ ‘ سعادت حسن منٹو کے نام ہے ۔ یہ منٹو کے کردار ’ گھاٹن ‘ کو ایک نئے انداز میں زندہ کرنے کی ایک لاجواب کوشش ہے ۔ شافع قدوائی کا ماننا ہے کہ گرگ ساحرؔ کا یہ افسانہ ’’ منٹو کے نسوانی کردار ’ گھاٹن ‘ کو ایک نیا معنوی تناظر عطا کرتا ہے ۔‘‘ کیا ہے یہ نیا معنوی تناظر ؟ ایک بھکارن کی موت پر عیش و طرب کی شرط لگانا ! اور بھکارن کی موت کے بعد شرط لگانے والے کا ہر عورت کی آنکھوں میں ، بھکارن کی ’ دو سخت برفیلی سفید آنکھیں ‘ دیکھنا ۔ اس مجموعے میں جانوروں سے انسانوں کے ’ حیوانی رویّے‘ کی کہانیاں بھی ہیں ، اور کووڈ کے ایّام میں ملک بھر میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک جو کہانیاں گھٹتی رہی ہیں ، وہ بھی بیان کی گئی ہیں ۔ ایک بہت یادگار کہانی ’ عطر فروش ‘ ہے ۔ یہ کہانی جہاں لکھنٔو میں عطر فروشی کی ایک المناک داستان سامنے لاتی ہے ، وہیں ایک ایسی محبت کی داستان بھی پیش کرتی ہے ، جو طربیہ سے المیہ میں ڈھل جاتی ہے ۔ گرگ ساحرؔ کے افسانوں میں ملکی سیاست کو بھی تلاش کیا جا سکتا ہے ۔ افسانہ ’ کہ ہم غریب ہوئے ہیں انہی کی دولت سے ‘ کا ایک اقتباس دیکھیں ، ’’ پہلے بادشاہ کا فیصلہ جنگ سے ہوتا تھا اور اب بادشاہ چننے کا کھیل عمل میں آیاہے ۔ چہرے بدل گیے ، لباس بدل گیا ، طریقۂ کار بدل گیا ، لیکن مقصد وہی لوٹ مار ، قبضہ ۔ جابر حکمرانوں نے آئین کی ترجمانی کی آڑ میں تباہی تحریر کرنے والے منصف تعینات کیے ۔ غرض یہ کہ جو جتنا بڑا فسادی ہوتا وہ اتنا ہی بڑابادشاہ بنتا ہے ۔ فسادیوں کی فوج تیار ہو گئی ہے ، جگہ جگہ ان کے بت لگے ہیں ۔ بادشاہت کا فیصلہ فساد سے ہوتا ہے ۔ ‘‘ مجموعہ میں ’ ہندو دیومالا کے حوالے سے چند کہانیاں شامل ہیں جو ’ نفرت ‘ کی بجائے ’ محبت ‘ کا درس دیتی ، عورتوں کے استحصال کو اجاگر کرتی ،اور جیتے جی جنّت کی خواہش رکھنے والوںکا حشر سامنے لاتی ہیں ۔ گرگ ساحرؔ کا اندازِ تحریر سادہ اوربیانیہ سیدھا ہے ، لیکن چند کہانیوں میں علامتوں ، استعاروں اور تشبیہات کا استعمال بھی ہے ، جس کی وجہ سے ممکن ہے کہ کچھ قارئین کو انہیں سمجھنے میں دشواری ہو ، ویسے یہ علامتیں ایسی پیچیدہ بھی نہیں ہیں کہ کہانیاں معمہ بن جائیں ۔ زبان صاف ستھری ہے ۔ کتاب خوبصورت انداز میں ، اچھے کاغذ پر شائع کی گئی ہے ، پروف کی غلطیاں ہیں لیکن کم ۔ گرگ ساحرؔ کا یہ مجموعہ پڑھنے والوں کا ایک نیا ذائقہ دے گا ۔ اسے ’ میٹر لنک ، پبلشرز ، لکھنئو ‘ سے ، ویب سائٹ www.matterlinkbooks,com پر رابطہ کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

You may also like

Leave a Comment