ذرا محتاط ہونا چاہیے تھا-فہمی بدایونی

ذرا محتاط ہونا چاہیے تھا
بغیر اشکوں کے رونا چاہیے تھا
اب ان کو یاد کر کے رو رہے ہیں
بچھڑتے وقت رونا چاہیے تھا
مری وعدہ خلافی پر وہ چپ ہے
اسے ناراض ہونا چاہیے تھا
چلا آتا یقیناً خواب میں وہ
ہمیں کل رات سونا چاہیے تھا
سوئی دھاگہ محبت نے دیا تھا
تو کچھ سینا پرونا چاہیے تھا
ہمارا حال تم بھی پوچھتے ہو
تمہیں معلوم ہونا چاہیے تھا
وفا مجبور تم کو کر رہی تھی
تو پھر مجبور ہونا چاہیے تھا

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*