زراعت میں جدیدکاری وقت کی ضرورت:مودی

نئی دہلی:وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز کہاہے کہ زراعت میں جدید کاری وقت کی ضرورت ہے اور اس میں بہت زیادہ وقت ضائع ہوچکا ہے۔’من کی بات‘ پروگرام میں مودی نے ہندوستان میں کوویڈ 19 کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی ویکسینیشن مہم کی تعریف کی ۔انھوںنے کہاہے کہ زراعت کے شعبے میں جدید طریقے اپنانا ضروری ہے اور زندگی کے ہر پہلومیں جدیدیت لازمی ہے۔وزیر اعظم نے ’من کی بات‘ کے 75 ویں پروگرام میں کہاہے کہ ہندوستان کے زرعی شعبے میں جدیدیت وقت کی ضرورت ہے۔ اس میں تاخیر ہوئی تھی اور ہم پہلے ہی بہت وقت ضائع کر چکے ہیں۔انہوں نے کہاہے کہ زرعی شعبے میں روزگارکے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ، کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ کاشتکاری کے روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ نئے متبادلات اور جدت کو اپنایا جائے۔مودی نے کہاہے کہ ملک نے یہ انقلاب وائٹ انقلاب کے دوران دیکھا تھا اور شہد کی مکھیوں کی حفاظت بھی اسی طرح کے آپشن کے طور پر سامنے آرہی ہے۔وزیر اعظم نے زراعت میں ایک ایسے وقت میں جدید طریقوں کو اپنانے پر زور دیا جب سینکڑوں کسانوں نے گذشتہ سال نومبر سے تین نئے زرعی قوانین کے خاتمے کا مطالبہ کرنے کے لیے دہلی کی سرحدوں یعنی غازی پور ، سنگھو اور ٹکری بارڈر پر ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ ان قوانین سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور وہ اپنی فصلیں ملک میں کہیں بھی اچھی قیمت پر فروخت کرسکیں گے۔ریڈیو نشریاتی پروگرام کے دوران مودی نے یہ بھی یاد کیا کہ پچھلے سال مارچ میں ملک نے پہلی بار جنتا کرفیو کے بارے میں سنا تھا۔پچھلے سال 22 مارچ کو وزیر اعظم کی اپیل پر جنتا کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا ہے کہ ابتدا ہی سے ہی ہندوستان کے عوام نے کوویڈ۔19 کے خلاف لڑائی کی۔مودی نے کہا کہ پچھلے سال کے اس وقت ، سوال یہ تھاکہ کیا کوڈ 19 کے لیے کوئی ویکسین آئے گی اور کب آئے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ فخر کی بات ہے کہ بھارت میں دنیا کی سب سے بڑی ویکسی نیشن مہم چلائی جارہی ہے۔