زمین سے بچھڑے لوگ

تخلیق: تنویر تما پوری

ناشر:ایم ایم پبلی کیشنز،دہلی
تبصرہ: محمد علم اللہ

کچھ کتابیں چکھنے کے لیے ، کچھ سونگھنے کے لیے ، کچھ الماری میں سجانے اور کچھ پڑھنے کے لیے ہوتی ہیں ۔ تنویر احمد تما پوری کی کتاب "زمین سے بچھڑے لوگ” پڑھنے لائق ہے ۔ یہ افسانوی مجموعہ نہ صرف مطالعہ کے لئے ہےبلکہ گہرائی سے مطالعے کا متقاضی ہے۔ اس میں سنجیدہ موضوعات بھی ہیں۔طنز و مزاح بھی ، سفرنامےکا رنگ بھی ، شاعری،تشبیہات و استعارات کا گلدستہ بھی ہے۔
اس کتاب میں کل چودہ کہانیاں ہیں اور ہر کہانی اپنے آپ میں بہت دلچسپ ، رواں اور مختصر ہے۔ اس کتاب کی ہر کہانی اپنے اندر سے کئی کئی کہانیوں کو جنم دیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ہر کہانی عصر حاضر کے حالات ، ایجادات ، مسائل اور پریشانیوں سے جڑی ہوئی ہے جس میں ایک حساس انسان کا دھڑکتا ہوا دل بھی ہے ، ایک ادیب کی زبان ، صحافی کا تجسس اور انسانی نفس کو پڑھنے کا سلیقہ بھی ۔ تنویر تماپوری کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ وہ مضبوط بیانیہ کے سہارے علامتون اور استعاروں کے خوبصورت استعمال کی مدد سے افسانے کو اس بلندی پر پہنچادیتے ہیں کہ قاری فکر و فن کی تحیر خیز لہروں میں غوطہ زن ہوجاتا ہے۔ ان کہانیوں کی ایک بات یہ بھی ہے کہ ساری ساری کی ساری ہندو پاک کے مستند رسالوں میں شائع ہوچکی ہیں ہیں،جن میں نئی دلی کے آج کل، ایوان اردواور امکان جدید ـ ممبئی کے شاعر، نیا ورق اور تریاق
کلکتہ کا رسالہ انشا،سرونج،مدھیہ پردیش کا انتساب اور لاہور پاکستان کا ندائے گل اور ہم لوگ شامل ہیں ـ
اس کتاب کی سب سے پہلی کہانی "سوالیہ نشان”ہے جس میں استعاراتی انداز میں نئے زمانے کے اتار چڑھاؤ کو نازکی سے بیان کیا گیا ہے ۔ ایک معلمہ اور اس کی جوان بیٹی کی بے راہ روی کا تذکرہ بہت ہی خوبصورت انداز میں کیا گیا ہے۔
دوسری کہانی "لٹکتی تلوار "ہے، جس میں رمیش اور گیتا کی کہانی کو زبردست اور خوبصورت بیانیہ کے سہارے انجام تک پہنچایا گیا ہے ، کہانی کا اختتام وہ جس انداز سے کرتے ہیں وہ نہ صرف چونکانے والا ہوتا ہے بلکہ انسان کو سوچنے اور حالات پر غور کرنے کے لئے بھی مجبور کرتا ہے ۔
"کیمیاگر”اس کتاب کا تیسرا افسانہ ہے جو محض ایک کہانی ہی نہیں بلکہ پوری عرب دنیا کو نئے زاویے سے دکھانی کی سعی ہے۔اس میں "قطر”کو استعارہ بنا کر افسانہ نگار نے صرف کہانی ہی نہیں لکھی بلکہ ایک دستاویز کو قلم بند کیا ہے۔ روزگار کی تلاش میں دور دراز سے آنے والے مزدوروں اور مہاجروں کی روداد اور المیہ بیان کیا گیا ہے ۔اس کہانی کو ایک دلچسپ سفرنامہ بھی کہا جا سکتا ہے ۔
"زمین سے بچھڑے لوگ” اس کتاب کی چوتھی کہانی ہے ۔ اس کہانی میں عصر حاضر کے عفریت کو بڑے دلچسپ انداز میں واشگاف کیا گیا ہے ، جس میں انسان اپنے آپ میں انسان نہ بن کر روبوٹ اور حس سے عاری حیوان ہوتا جا رہا ہے ۔ اس کہانی میں اس بات کو افسانہ گو اچھی طرح بیان کرنے میں کامیاب ہے کہ انسان خواہ کتنا ہی ترقی کے منازل طے کرلے ،ایک دن مٹی ہی اس کا مقدر بنتی ہے ۔
"ریت کا پل” اس کتاب کی پانچویں کہانی ہے جس میں مذہب اور انسان کے کش مکش کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ انسان مذہب کی آڑ میں کیا کچھ کرتا اور کیا کیا گل کھلاتا ہے ۔ چراغ تلے اندھیرے والی کہاوت کو ایک کہانی کے ذریعے شاندار ڈھنگ سے بیان کیا گیا ہے اور اپنے پیغام کی ترسیل میں مصنف کامیاب ہے۔
"رشتوں کی صلیب” اس کتاب کی چھٹی کہانی ہے ۔ اس میں کہانی کار نے ایک ڈرائیور کی آنکھ سے خلیج کے رشتے اور اس کے عقب میں پنپنے والی مکاریوں اور منافقت کا پردہ فاش کیا ہے۔نہایت سلگتے ہوئے موضوع پر مرکوز یہ افسانہ عرب معاشرے کی سماجی اور ازدواجی حقیقتوں سے آشنا کرواتا ہے۔
ساتویں کہانی "ہوم ورک” کے عنوان سے ہے اس میں انھوں نے سیاست کے مکر و فریب کو وا شگاف کیا ہے کہ کس طرح سنتا اور بنتا اپنا کام نکالتے ہیں ، کیسے فساد جنم لیتا ہے ، ان کا ہوم ورک پورا ہوتا ہے اور وہ سیاست کی گدی پر براجمان ہو جاتے ہیں ۔ ہوم ورک میں الفاظ کے دروبست، شاندار زبان،نئے لہجے اور اسلوب کو دیکھ کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ مصنف نے بھی اس کہانی کے لئے خاصا ہوم ورک کیا ہوگا۔
” گاندھی کا چوتھا بندر”اس کتاب کی آٹھویں کہانی ہے جس میں مہا نگر ممبئی کے انڈر ورلڈ سے منسلک افراد اور کوٹھوں کی کہانی بیان کی گئی ہے ۔ یہ کہانی گاندھی جی کے فلسفہ عدم تشدد سے شروع ہوکر اس کے مرکزی کردار کے متشدد رویے سے ظہور پذیر ہونے والے واقعات اور جرائم کی دنیا تک کی شاندار عکاسی کرتی ہے۔تشدد اور عدم تشدد کا باہم اتصال کہیں کہیں بہت دلچسپ انداز اختیار کرتا ہے۔ کس طرح جرائم کی دنیا پھلتی پھولتی ہے اس کہانی میں اسے ہی درشانے کی کوشش کی گئی ہے ۔
نویں کہانی "نگہبان”کے عنوان سے ہے جس میں کہانی کار نے سات دن کی روداد بیان کرتے ہوئے ایک انوکھی کہانی بیان کی ہے جس میں انسان کی المناکیوں کو بہتر انداز میں آشکار کیا گیا ہے۔یہ کہانی انسان اور جانور کی سوچ کے بیچ خط فاصل قائم کرتی ہے۔
"وہ لمحے” اس کتاب کی دسویں کہانی ہے جس میں ماحولیات کو بڑے خوبصورت انداز میں برتا گیا ہےـ ایک ماں اور بیٹے کے بیچ کی محبت اور کشمکش کہیں کہیں آنکھیں پر نم کردیتی ہیں ۔ انسان کو اس کی حیثیت دکھانے کی کوشش بڑی معنی خیز اور اعلی پایے کی ہے۔مضبوط بیانیہ مشرق وسطی میں پھنسے ہوئے ہم وطنوں کی پریشانیاں۔ اپنے پرایوں کی طوطا چشمی۔ بہت سارے مسائل پر مکالمہ قائم کرنے والی یہ تحریر بہت شاندار ہے۔
"اینٹی وائرس "گیارہویں کہانی ہے ، جس میں انھوں نے عرب دنیا کی حقیقت اور خوش نما رنگ و روغن کے پیچھے کی مخفی داستان بیان کی ہے ۔
"رئیس”اس کتاب میں شامل بارہواں افسانہ ہے جس میں ممبئی کے مڈل کلاس انسان کی زندگی کو درشانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کا مرکزی خیال سماجی طبقات کے بیچ کے فرق کو واضح کرنے کےساتھ ساتھ ان کی ذہنی ارتقا اور اپج کی بات کو بھی بہت موثر ڈھنگ سے بیان کرتا ہے۔
"ادھیکاری ” تیرہویں کہانی ہے جسے آپ افسانچہ بھی کہہ سکتے ہیں ، اس مختصر سی کہانی میں ہندوستان کی صدیوں پرانی ذات پات کی سیاست اور طبقاتی فرق اور اس کے بیچ کی رسہ کشی کو موثر ڈھنگ سے بتانے کی کوشش کی گئی ہےـ نیچی اور اونچی ذاتوں کے فرق اور اس مائنڈ سیٹ کا غیر جانبدارانہ طریقے سے احاطہ کیا گیا ہے۔
"اور پھر یوں ہوا”ایک مہم جو کی کہانی ہے جس میں حاضر متکلم کے صیغے میں قلم کار نے انتہائی تجسس بھرے انداز میں جنگل کی ایک شاندار کہانی بیان کی ہے ۔ جس کا اختتام بے ساختہ ہونٹوں پر ہنسی بکھیر دیتا ہے۔
کل ملا کر دیکھا جائے تو تنویر تماپوری کے یہاں صرف کہانی ہی نظر نہیں آتی بلکہ انسانی المیوں سے وجود پانے والے مسائل اور ان کے حل کے لئے لائحہ عمل کے اشارے بھی ملتے ہیں۔کتاب بحیثیت مجموعی عمدہ ہے۔ کامیاب افسانے اور کہانی کی جو خصوصیات ہوتی ہیں وہ ان تمام کہانیوں میں بدرجہ اتم موجود ہے ، الفاط نئے، اسلوب پختہ اور حسبِ ضرورت ضرورت ملائم، جملوں کی ساخت بہترین، ایک سے زیادہ مفاہیم رکھنے والا اسلوب اور دلچسپ انداز۔ کہیں کہیں یہ پریم چند کی راہ پر گامزن دکھائی دیتے ہیں، کہیں منٹو کی بے باکی نظر آتی یے، کہیں انتظار حسین کا تجسس۔ البتہ کرشن چندر ان کے افسانوں میں ہر جگہ نظر آرہے تھے۔ کل صفحات 144 ہیں،کتاب کو ایم ایم پبلی کیشن دہلی نے شائع کیا ہے۔
اس کتاب میں تنویر احمد کا قلم ایک حساس فن کار کے طور پر ابھر کر سامنے آتا ہے جس میں استادوں کی چابک دستی بھی ہے ، زبان کا رمز بھی اور حساس دل کا کرب بھی ۔ ایک اور چیز جو قاری کو متاثر کرتی ہے وہ خوبصور ت انداز میں ان کا محاوروں کا استعمال ہے،اس کتاب میں آپ کو جگہ جگہ نئے اور پرانے محاورے موتیوں کی طرح ٹنکے ہوئے ملتے ہیں۔ جن کا چلن آج کی نسل میں نا پید ہوتا جارہا ہے ۔
کتاب میں ایک چیز جو مجھے کھٹکتی ہے وہ یہ کہ اس میں تقریبا 43 صفحات میں اساتذہ کے خیالات ہیں جو مصنف کے فن اور شخصیت پر گفتگو کی شکل میں ہے۔ قاری اور مصنف کے درمیان بلا وجہ کے واسطے کا میں قائل نہیں ہوں ، میرا ماننا ہے کہ کو قاری کو براہ راست مصنف کو سمجھنے کا حق دینا چاہیے، دوسرے کے خیالات کی روشنی میں نہیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*