Home نقدوتبصرہ عطیہ فیضی کا ’ زمانۂ تحصیل ‘ – شکیل رشید

عطیہ فیضی کا ’ زمانۂ تحصیل ‘ – شکیل رشید

by قندیل

اردو دنیا میں چند کردار ایسے ہیں ، جن کے گرد ، ایک طلسمی اور رومانی ہالہ ، ان کی زندگی میں بھی موجود رہا ہے اور ان کی موت کے بعد بھی ۔ عطیہ بیگم رحیمن ، یعنی عطیہ فیضی ، ان میں سے ایک ہیں ۔ یہ ہالہ صرف اس لیے نہیں ہے کہ ، عطیہ فیضی کے ساتھ اپنے دور کے دو بہت عظیم دانشور ادیبوں علامہ شبلی نعمانی اور علامہ اقبال کا نام وابستہ رہا ہے ، بلکہ یہ ہالہ اس لیے بھی ہے کہ عطیہ فیضی اپنے علم ، روشن خیالی اور اپنی ذہانت کے لیے اس دور کی مسلم خواتین میں ایک مثال تھیں ، اور رائج روایات و رسومات کو ٹھکرا کر اپنی ایک الگ راہ نکالنے والی باغی بھی ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک بت شکن تھیں ۔ حال ہی میں محقق اور ماہرِ لسانیات پروفیسر عبدالستار دلوی نے اس بت شکن کی ایک ڈائری ، جو اردو زبان میں لکھی گئی تھی ، مرتب کرکے شائع کی ہے ، جس کو پڑھتے ہوئے عطیہ فیضی کے گرد جو ہالہ پایا جاتا ہے ، اس کے مزید اسباب سامنے آتے ہیں ۔ کتاب کا نام ’ زمانۂ تحصیل ‘ ہے ، اس میں عطیہ فیضی کے ایک سال – ۱۹۰۶ ءسے ۱۹۰۷ ء – کے روزمرہ کے معمولات اور مشاہدات کو ، اُن کے خطوں کے ذریعے پیش کیا گیا ہے ۔ یہ خط لندن سے بھیجے گیے تھے ، جہاں گورنمنٹ کی اسکالر شپ پر عطیہ فیضی معلّمہ بننے کے لیے گئی تھیں ۔ کتاب کے مختصر سے ’ دیباچہ ‘ میں عطیہ فیضی نے مقصدِ سفر پر روشنی ڈالی ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ وہ جس مقصد کے لیے گئی تھیں اسے پورا نہیں کر سکیں ۔ وہ لکھتی ہیں ، ’’ مقصدِ سفر یہ تھا کہ میں معلّمہ بن کر وہاں سے واپس آوں اور اپنی ہم وطن بہنوں کی خدمت کروں ، لیکن وہاں پہنچ کر علیل ہو گئی اور تیرہ مہینے پردیس میں گزار کر بےنیل و مرام واپس آ گئی ۔ ‘‘ قیامِ لندن کے دوران عطیہ فیضی نے اپنے گھر جو خطوط بھیجے تھے ، انہیں ان کی بڑی بہن زہرا بیگم نے جمع کیا ، اور پہلے انہیں ’ تہذیب نسواں ‘ میں وقتاً فوقتاً شائع کرایا پھر بعد میں یہ خطوط کتابی شکل میں شائع ہوئے ۔ پروفیسر عبدالستار دلوی نے عطیہ فیضی کے خطوط کو ’ ڈائری ‘ کہا ہے ۔ کتاب کی عالمانہ ’ تقدیم ‘ میں ، جس کا عنوان ’ خاندانِ فیضی اور عطیہ بیگم ‘ ہے پروفیسر صاحب نے ’ خطوط ‘ کو ’ ڈائری ‘ لکھنے کی وجوہ بتاتے ہوئے لکھا ہے ، ’’ عطیہ بیگم نے ’ زمانۂ تحصیل ‘ کی تحریروں کو خط یا خطوط کہا ہے ۔ مجھے اس کے ماننے میں تامل اس لیے ہے کہ جِس طرح کی پیش کش اور نصف ملاقات میں جو آداب برتے جانے چاہئیں ، وہ عطیہ کی تحریروں میں موجود نہیں ہے ۔ یہ خطوط لسانی آداب کی پابندی نہیں کرتے ، لہٰذا انھیں خط کہنا شاید مناسب نہیں ہے ۔ مولانا شبلی نے اپنے خطوط میں ، جو انہوں نے عطیہ بیگم اور زہرہ بیگم کو لکھے ہیں ، خط نویسی کے لسانی آداب کو برتا ہے ۔ مثلاً وہ ان خطوں میں مذکورہ خواتین سے مخاطب بھی ہوتے ہیں ، آداب و القاب سے بھی نوازتے ہیں اور اخیر میں فقط یا کوئی اور لفظ نہ سہی اپنا نام ضرور لکھتے ہیں ۔ ’ زمانۂ تحصیل ‘ کی تحریر عام طور سے ان آداب کی پابند نہیں ہے ، لہٰذا میں ان خطوط کو ، خطوط کی بجائے ان کی ڈائری سمجھتا ہوں ۔‘‘ ہروفیسر دلوی نے ’ تقدیم ‘ میں تفصیل کے ساتھ مکتوب نگاری ، ڈائری ، روزنامچہ اور کشکول و یادداشتوں پر بات کی ہے ، ساتھ ہی عطیہ فیضی نے ’ ڈائری ‘ لکھنے کے لیے جو زبان استعمال کی ہے ، اس کا تجزیہ بھی کیا ہے ۔

 

وہ بتاتے ہیں کہ ’’ ان کی زبان پر بمبئی کی اردو کے کافی اثرات ہیں ۔ اور ان کی زبان میں جو مختلف رنگ ہیں ، ان میں معیاری اردو کے ساتھ بمبئی کی بولی کے اثرات بھی پائے جاتے ہیں ۔ خاص طور سے جب وہ بے تکلفی سے اپنی بہنوں سے مخاطب ہوتی ہیں یا بے خیالی میں لکھتی ہیں تو یہ اثرات ان کی تحریر میں فطری طور پر آ جاتے ہیں اور انہیں اس کا اندازہ نہیں ہو پاتا کہ وہ معیاری زبان سے دور ہو گئی ہیں ۔ ‘‘ وہ مثالیں دے کر سمجھاتے ہیں کہ بمبئی کی اردو کسے کہتے ہیں ، جیسے کہ ’ مغز ‘ کا ’ استعمال ’ دماغ ‘ کے لیے ، ’ موافق ‘ کا استعمال ’ ’ مطابق ‘ کے لیے ، اور ’ پہچان والے ‘ کا استعمال ’ واقف کار ‘ کے لیے وغیرہ وغیرہ ۔ ’ تقدیم ‘ میں عطیہ فیضی کے خاندان کی تاریخ بھی دی گئی ہے ۔ یہ ایک اعلیٰ ، تعلیم یافتہ و روشن خیال سلیمانی بوہرہ خاندان تھا ، جسٹس بدرالدین طیب جی اسی خاندان کے تھے ۔ پروفیسر دلوی کو یہ کتاب ، عطیہ فیضی کے بھتیجے ، ماہر قانون آصف علی اصغر فیضی نےدی تھی ۔ کام ایک عرصے تک ٹلتا رہا ، لیکن اسے اب مکمل کرکے دلوی صاحب نے شائع کر دیا ہے ، حالانکہ وہ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ’’ اس میں اب بھی تشنگی باقی ہے ۔‘‘عطیہ بیگم فیضی نے اپنے خطوں میں انگلستان کی زندگی کا بڑا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے ، پیرس کا ذکر کیا ہے ، دورانِ تعلیم کے تجربات بیان کیے ہیں ، برطانوی طرزِ تعلیم کی خصوصیات اور خوبیوں کا ذکر کیا ہے ، اپنے ساتھیوں کی بات کی ہے ، جن اہم اشخاص سے ملاقاتیں کیں ان کی باتیں کی ہیں ، جیسے کہ سیّد علی بلگرامی ، سیّد امیر علی ، انگریزی زبان میں قرآن کے پہلے مترجم عبداللہ یوسف علی ، دادا بھائی نوروجی ، تھیوڈر بیگ اور میجر علی وغیرہ ۔ عطیہ فیضی عبداللہ یوسف علی سے بہت متاثر تھیں ، وہ لکھتی ہیں ، ’’ ایک دو منٹ بعد مسٹر یوسف علی نے شیریں زبانی اور فصاحت بیانی شروع کی ۔ چالیس منٹ تک بولنے کی اجازت تھی اور ان کا کمال دیکھیے کہ ساڑھے انتالیس منٹ میں اپنی تقریر کو ختم کیا اور صدر صاحب نے بہت تعریف سے کہا کہ آدھے منٹ کے فرق سے آپ نے اپنا لکچر ختم کیا ۔ ایسے موقعوں پر وقت کا امتیاز رکھنا مشکل ہے ۔ ‘‘ کتاب واقعات سے پُر ہے ، ایسے واقعات جو عطیہ فیضی کی شخصیت کے بہت سے رنگ واضح کرتے ہیں ۔ آخر میں دلوی صاحب نے ’ زمانۂ تحصیل میں مذکور چند منتخب شخصیات کا تعارف ‘ کے عنوان سے ۱۳ اشخاص کا تعارف پیش کیا ہے ، جن میں عطیہ فیضی کے شوہر فیضی رحیمن بھی شامل ہیں ، جو شادی سے پہلے غیر مسلم تھے ۔ کتاب میں ۱۳ تصاویر شامل ہیں ، ایک تصویر عطیہ فیضی کی شادی کی ہے ، تصویر میں نواب جنجیرہ ، مہاراج گائیکواڑ ، راجکمار گائیکواڑ ، شہزادی سیتا بائی ہولکر اور دیگر وی وی آئی پی شخصیات نظر آ رہی ہیں ۔ حواشی کے لیے جن کتابوں سے دلوی صاحب نے استفادہ کیا ہے ان کی فہرست بھی کتاب میں شامل ہے ۔ دلوی صاحب کی مرتب کردہ یہ کتاب اہم ہے کیونکہ یہ عطیہ فیضی کے حوالے سے ملک کی اہم شخصیات اوران کے کارناموں کو اجاگر کرتی ہے اور خود عطیہ فیضی کی شخصیت کی کئی پرتیں کھولتی ہے ۔ کتاب 160 صفحات پر مشتمل ہے ، قیمت 250/ روپیہ ہے ۔ ’ علمی مجلس ( نیسٹ ) ممبئی ‘ نے اسے شائع کیا ہے ۔ کتاب موبائل نمبر 8454845552 پر رابطہ کر کے حاصل کی جا سکتی ہے ۔

You may also like

Leave a Comment