ظالم صرف شوہر ہی نہیں،ملی و سماجی تنظیمیں بھی ہیں ـ ڈاکٹر عمیر انس

عائشہ کا ویڈیو اور آڈیو سننے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ اس بچی کے درد کو سننے والا نہ کوئی تھا اور نہ کہیں سے اس کو حل کرنے کی کوئی کوشش ہوئی اور اگر ہوئی بھی تو وہ عائشہ کے لیے ناقابل اطمینان تھی، اس کی ضرورت محض مقدمے بازی سے تو پوری نہیں ہو سکتی تھی، ایک بہتر حل ہی اس کو مطمئن کر سکتا تھاـ صرف اکیلے ہی اس رشتے کے عذاب کو برداشت کر رہی تھی اور آخر کار اسے زندگی اور موت کی تکلیفوں میں موت کی تکلیف برداشت کرنا زیادہ آسان محسوس ہوا، اس کی گفتگو سے یہ محسوس کرنا بہت مشکل ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے ذہنی اور نفسیاتی مرض میں مبتلا رہی ہوگی، لیکن مایوسی سے بڑا مرض اور کیا ہوگا!

میری معلومات میں چند اور واقعات ہیں جن میں لڑکیوں نے ایسے ہی خودکشی کی ہے اس لیے اس معاملے کو استثنائی معاملہ سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے تو بہتر ہوگا، سیکڑوں خواتین ہیں جو اس طرح کی ذہنی کیفیت سے برسوں سے گزر رہی ہیں اور ہمارا معاشرہ انکے ساتھ صرف نظر کرتا آرہا ہےـ اس طرح کے معاملوں کے لیے پہلے درجے میں حکومت ذمہ دار ہوتی ہیں لیکن ظاہر ہے کہ ہندوستان کا حکومتی نظام مسلمان عورتوں کی کیا فکر کرےگا جب خود ہندو عورتیں ہی ان کی بےحسی کی شکار ہیں ـ

البتہ چونکہ مسلمانوں کے نکاح طلاق کے مسائل کو شرعی طریقے سے انجام دینے کی دستوری آزادی دی گئی ہے اس لیے ان کی خواتین کے سلسلے میں ہندو خواتین کے مقابلے میں معاشرہ زیادہ ذمہ دار ہے، یہاں ان مسائل کے لیے بنیادی ذمہ داری ان کی ہے جو نکاح اورطلاق کے مسائل میں شرعی احکام کے نفاذ کے لیے ذمہ دار ہیں یعنی مسلم پرسنل لا بورڈ اور اس کے ریاستی نمائندگان، مدارس اسلامیہ، دینی جماعتیں اور علما اور فضلا، اور وہ لوگ جو نکاح کرانے میں ذمہ دارانہ رول ادا کرتے ہیں، لہٰذا ان کے تناظر میں ہی کچھ گفتگو کرنا مناسب ہوگا ـ

دنیا کے سبھی ممالک میں جہاں مسلم پرسنل لا ہیں ان میں سب سے بے حس اور سب سے غیر منظم مسلم پرسنل لا ہندوستان کا مسلم پرسنل لا بورڈ ہے، یہ بات آپ کسی بھی معمولی ریسرچ سے کر سکتے ہیں، یوروپ میں مسلمان تنظیموں سے بات کرکے پوچھ لیں چاہے افریقہ میں یا پھر امریکہ کے مسلمانوں سے بات کرلیں، ہندوستان کا مسلم پرسنل لا بورڈ منافقت اور بے حسی کا نمائندہ ادارہ ہے، بے حس اس لیے ہے کہ یہ ادارہ نکاح اور طلاق کے نظام کو عصر حاضر کی ضرورتوں کے مطابق چست اور درست بنانے کی ضرورت کو محسوس ہی نہیں کرتا، کوئی بھی مولوی کہیں سے بھی بلا لیا، نکاح پڑھا دیا گیا، کسی بھی نیم ملا خطرۂ ایمان سے طلاق کا حکم متعین کرا لیا اور طلاق ہو گئی، کوئی نظام نہیں ہے اس بورڈ کے پاس، لبنان کے مہاجر جرمنی میں شادیاں کرتے ہیں تو وہاں بھی ان کا رجسٹریشن باقاعدگی سے کرنے والا ایک سینٹرل رجسٹریشن سسٹم ہے لیکن ہندوستان کا پرسنل لا بورڈ کیا کرتا ہے؟ بعض ریاستوں میں اپنا ایک نظام ہے لیکن شمالی ریاستوں میں ایسا نہیں ہے، کسی ریاست میں اگر ایک کروڑ مسلمان ہیں تو نکاح اور طلاق تو ہونگی ہی تو یہ کوئی حادثاتی عمل تو نہیں کہ جب ہوگا تو دیکھا جائےگا، اس کے لیے تو مستقل ادارے کا قیام ضروری ہے، ہر ضلع کی سطح پر نکاح کونسل کی ضرورت ہے جہاں سبھی فرقوں کے مصدقہ قاضیوں اور مولویوں کو نکاح اور طلاق کے مسائل میں شرکت کی رسمی اجازت دی جاتی ہو، لیکن نہیں یہاں آپ کسی بھی مولوی کو کہیں سے بھی بلا لیں اور نکاح پڑھا دیں، تو جتنا سنجیدگی آپ ان معاملات میں دکھاتے ہیں اتنی ہی سنجیدگی سے معاشرہ اس کو لیتا ہے، اور مسلم پرسنل لا بورڈ ایک منافقانہ ادارہ ہے کیونکہ شریعت کے نام پر شریعت کی حق تلفی کرنے میں زمانے سے مبتلا ہے، تین طلاق کے معاملے میں مسلم پرسنل لا کے دو مولویوں کا عدالت میں پیش کیا گیا بیان آپ کو یاد ہوگا، حضرت عمر زندہ ہوتے تو ان دونوں مولویوں پر تادیبی کاروائی ہوتی، منافقت کا الزام میں بیحد احتیاط سے لگا رہا ہوں اور اس بنیاد پر کہ اس ادارے اور اس کے سبھی ممبر تنظیموں کے لیے مسلم عورت کوئی وجود ہی نہیں رکھتی، چالیس سالوں سے مسلم پرسنل لا میں خواتین کے امور کی قیادت مردوں کے ہاتھ میں ہے، خواتین کو کیا تکلیف ہے ان کے مسائل کیا ہیں یا نہیں ہیں، یہ سارا کام مرد حضرات نے اکیلے اپنے ذمے کر رکھا ہے، مجال ہے کہ کسی خاتون ذمے دار کو وہ یہ اختیار دے دیں کہ خواتین کے مسائل کے سلسلے میں وہ غور اور فکر کریں اور فیصلے لیں اور فیصلے نافذ کریں، اسلام نے خواتین کو کیا حقوق دیے ہیں اور ان کی تشریح کیا ہے اس موضوع پر آپ حضرات نے کبھی کسی خاتون مقرر کو پرسنل لا کے پلیٹ فارم سے شاید ہی سنا ہوگا، بلکہ زیادہ درست بات یہ ہے کہ زیادہ تر دینی جماعتوں اور پرسنل لا بورڈ میں خواتین صرف دکھاوے کے لئے شامل کی جاتی ہیں تاکہ وہ یہاں خواتین سے اپنے حق میں باتیں کروا سکیں، مردوں کی غلطیوں کو یہ خواتین درست ثابت کرنے میں مصروف رہیں، انہیں فیصلہ سازی اور مسائل کے فہم میں شامل نہیں کرایا جاتاـ

اس لیے کافی پہلے سے میری رائے ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے اس بے جان جسم کو ڈھونے سے کوئی فائدہ نہیں ہے اس کو مکمل طور پر ختم کرکے اس کی تشکیل جدید کی ضرورت ہے، اور نئی تشکیل میں امت کی ضرورتوں کی ترجمانی کرنے والے ہر گروہ کی نمائندگی اور ان کے مشوروں کو سننے کے بعد نقشہ عمل بنانے کی روایت کا احترام ہو، موجودہ مسلم پرسنل لا بورڈ چند علما اور لیڈران کی قائدانہ اور مرشدانہ آرزوؤں کی تکمیل کا ذریعہ محض رہ گیا ہے، یہ ادارہ غیر شورائی اور غیر منصوبہ بند لائحہ عمل کے ساتھ چلنے والے پرانے زمانے کے خانقاہی نظام کے مطابق چل رہا ہے اور اکیسویں صدی میں اس طرح کے نظم کے لئے کوئی جگہ نہیں رہ گئی ہےـاب اگر ایک مثالی پرسنل لا اور مثالی نکاح اور طلاق کے مسائل کو منتظم کرنے والا نظم ہوتا تو کیسا ہوتا ؟

١. سب سے پہلے یہ مسلم پرسنل لا اس بات کو تسلیم کرے کہ نکاح اور طلاق ایک مستقل کام ہیں اور ایک مستقل میکانزم کے بغیر درست نہیں رکھے جا سکتے، مسلم پرسنل لا بورڈ جس طرح کے گھٹیا اور ایڈہاک قسم کے نظم پر منحصر ہے اس طرح کا نظم تو آج کل کوئی معمولی این جی او بھی نہیں رکھتا، ایک سال میں کم از کم دس بارہ لاکھ نکاح تو ہوتے ہی ہونگے، ظاہر ہے کہ طلاق بھی ہونگے، نااتفاقی اور اختلافات کے معاملے ضرورآئیں گے، اس طرح سے نکاح اور طلاق کے اعداد و شمار کو پہلے سے جاننا کوئی علم الغیب نہیں رہ گیا ہے، صرف ایک اچھے سوفٹ ویر سے ایک ڈیٹا بیس بنانا ممکن ہے، اس پیشگی معلومات سے آپ کو آسانی سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کس شہر میں کتنے نکاح ہونے والے ہیں اور کتنی طلاقیں ممکنہ طور پر ہو سکتی ہیں، کیا مسلم پرسنل لا کا نکاح اور طلاق کا نظام مستقل اور باقاعدہ اسٹرکچر والا ہے؟ نہیں ! کیا ان کو نہیں معلوم ہے کہ جدید وسائل نے مسائل کو پیشگی جاننا اور انہیں روک لینا اور انہیں حل کر لینا زیادہ آسان بنا دیا ہے؟

اب آئیے جب آپ کو معلوم ہے کہ ہر سال اتنے نکاح ہونے والے ہیں تو پھر ان کے لئے لوگ رشتے بھی تلاش کریں گے، کوئی رشتے تلاش کرنے والا ہوگا اور کوئی مشورہ دینے والا ہوگا کوئی مدد کرنے والا ہوگا اور کوئی معاملات طے کرنے والا ہوگا، مسلم پرسنل لا بورڈ نے اور ہماری دینی تنظیموں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ شرعی طریقے سے نکاح کا مطلب صرف ایک مولوی کا نکاح کی مجلس میں جاکر نکاح پڑھا دینا بھر ہے، باقی کسی بھی کام میں ان کو کسی بھی طرح کی کوئی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیایہ ممکن نہیں ہے کہ ہر شہر میں پرسنل لا کا یا کسی بھی متبادل پرسنل لا، مدرسے یا تنظیم کا نکاح اور طلاق کا ایک مستقل شعبہ ہو، جس میں نکاح کرنے سے پہلے اورنکاح کے ہو جانے کے بعد کے سارے مراحل میں ناصحانہ کردار ادا کرنے والی خواتین اور مرد کونسلر کو تیار کیا جائے اور ان کو مستقل فیملی ویلفیئر کے اصول اور ضوابط کے مطابق خاندانوں کو ٹوٹنے سے پہلے اور مقدمات کے عدالتوں میں جانے سے پہلے ہی ان کے پاس آجائیں اور بخوبی حل ہو جائیں، میرا دعوی ہے کہ ہندوستان کی بڑی بڑی مساجد کے پاس بھی نکاح اور طلاق کے مسائل کو بخوبی حل کرنے کے لیے کوئی مستقل میکانزم اور مستقل افراد نہیں ہیں، آپ کو کس نے روکا ہے کہ ایسے افراد کو مقرر نہ کیا جائے، انہیں باقاعدہ اچھے مشاہرے دیے جائیں اور فریقین سے ایک مخصوص رقم بھی لی جا سکتی ہے، نکاح والے دن صرف نکاح پڑھانے والا ہی کیوں ایک اور خاتون نمائندہ بھی اس عمل میں شامل کیوں نہ کی جائے جو اس لڑکی کے نقطۂ نظر سے پورے معاملے کو دیکھ سکے اور اگر ناجائز طریقے سے کوئی مطالبہ یا دباؤ کا استعمال ہوا ہے تو وہ خاتون کونسلر بورڈ یا اس کے لوکل نظم کو اس بات سے آگاہ کرے، اس کے بعد ازدواجی زندگی شروع ہوتی ہے، یہاں کھٹ پٹ ہونا معمول کی بات ہے، یہاں سے قاضیوں کا رول تو نہیں ہے لیکن خواتین کونسلرس کا رول رہتا ہے جو اپنے علاقے میں ہوئے نکاحوں کو کامیاب رکھنے کے لیے حسب ضرورت مدد کرتی رہیں اور اس مرحلے میں ہی یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ کس گھر میں کس عائشہ کو جہیز کے نام پر تنگ کیا جارہا ہے اور لڑکی یا لڑکے کو کس قسم کی ذہنی پریشانی ہے، ہمارے معاشرے کا معاملہ یہ ہے کہ کسی بھی شادی میں اگر کوئی پریشانی کا دور چل رہا ہے تو پورے محلے کو معلوم رہے گا بس ہمارے دینی کونسلرس کو نہیں پتا ہوتا، اور مسلم پرسنل لا بورڈ یا اس کی ممبرشپ کو اپنے نام کے ساتھ فخریہ استعمال کرنے والے نمائندے ضروری ہی نہیں سمجھتے کہ اس طرح کا کوئی کام بھی ضروری ہے، انسانی رشتوں میں کسی خاموشی کو سننے والے دردمند کانوں کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہےـ

ہمارے کئی مصلحین نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ نکاح اور طلاق کے معاملے صرف تقریروں سے اور اصلاح معاشرہ کے جلسوں سے درست رہیں گے، میں دوبارہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مسلمان خواتین کے تحفظ اور ان کی بہبود کے لیے مسلم پرسنل لا بورڈ کی موجودہ شکل سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اس بورڈ کو مکمل طور پر ختم کیے بغیر یا اس کے سیٹ اپ میں بنیادی تبدیلی کے بغیر مسلمان خواتین کا بھلا نہیں ہو سکتا، چند تبدلیاں جو ممکن ہیں !

١. مسلم پرسنل لا بورڈ کی تیس فیصد ممبران خواتین ہوں ـ

٢. خواتین کے مسائل پر اول اور آخر بات خواتین حضرات کی ہی ہو اور مرد ممبران کی گفتگو محض مؤید، مشیر اور مصلح کی ہو ـ

٣. نکاح اور طلاق کا مستقل تنظیمی ڈھانچہ متعارف کیا جائے جس کی شاخیں سبھی شہروں میں ہوں ـ

۴. اس تنظیم میں صرف قاضی اور نکاح پڑھانے والے ہی نہیں بلکہ لڑکیوں اور لڑکوں کی کونسلنگ کرنے والے پروفیشنل افراد کی تقرری ہو، مسائل کو سننے والوں کا ایک باقاعدہ پینل ہو، غیر رسمی طور پر بھارت سے لوگ یہ خدمت انجام دے رہے ہیں لیکن رسمی طور پر ایک نظم ہونے کا جو فائدہ ہے وہ چند نیک افراد کی تنہا کوششوں سے ممکن نہیں ہےـ

۵. کس گھر میں ناچاقی چل رہی ہے اور کس گھر میں تشدد ہو رہا ہے یہ معلوم ہونا کوئی مشکل کام نہیں ہے، آپ کا نظم کسی معمول کی نوک جھونک کو خودکشی تک پہنچنے سے پہلے ہی روک سکتا ہےـ

۶. یہ ضروری نہیں ہے کہ سارے مسائل صرف آپ کے ہی پاس آئیں لیکن دینی رہنمائی پر یقین رکھنے والے جوڑے پہلے آپ کی طرف آنا چاہیں گےـ

۷. اکیلے مولوی یہ کام نہیں کر سکتے کیوں کہ مولوی حضرات کی علم نفسیات کی کوئی تربیت نہیں ہوتی، اور نہ انہیں معاملات والی گفتگو کا کوئی خاص ہنر سکھایا جاتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ علما اور ائمہ حضرات کو اس قسم کی خصوصی تربیت بھی دی جائے اور ساتھ ہی ذاتی مسائل میں رازداری کے آداب کی سختی سے پابندی کرنے کا ماحول ہو تاکہ کوئی بھی جوڑا آپ کے پاس اپنے مسائل کو لیکر آنے کے بعد شرمندگی محسوس نہ کرےـ

۸. ان سبھی کاموں میں پچاس فیصد خواتین کی شرکت لازمی ہو، کیونکہ کسی بھی نکاح اور طلاق میں جہاں خواتین کونسلر نہیں ہیں وہاں اس بات کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی کہ لڑکی کے موقف کو پوری ایمانداری سے سن لیا گیا ہے، بیشتر معاملوں میں لڑکی کا موقف آدھا ادھورا ہی سنا جاتا ہے اور وہ بھی بالواسطہ نہ کہ براہ راست ـ

۹. کیا غلط ہے اگر اسلامی تنظیمیں اور خاص طور پر پرسنل لا بورڈ خود ہر شہر میں اپنے اسلامی نکاح مراکز قائم کرے جہاں سادہ اور بغیر نمود اور نمائش کے شادی کرنے والے جوڑے کم سے کم پیسوں میں اپنی تقریب کر سکیں، ایسے مراکز مالی اعتبار سے گھاٹے میں کبھی نہیں ہو سکتے اور مساجد میں ہی سارے نکاح ہوں یہ بات اس لیے عملا مشکل ہے کہ نکاح کے بعد بہر حال لوگ کچھ اور وقت گزارنا چاہتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرنا چاہتے ہیں، اگر اسلامی نکاح مرکز کے ساتھ مسجد بھی ہو یا سبھی بڑی مساجد میں ایک نکاح مرکز بھی قائم ہو تومعاشرے کو سادہ نکاح کرنے کی عملی ترغیب ہوگی ـ

۱۰. دہلی میں پرسنل لا بورڈ کے دفتر کی بیہودگیوں کا تجربہ آپ حضرات کو بھی ہوگا، کہیں سے لگتا ہے کہ یہ دفتر کسی مہذب قوم کی مہذب خواتین کی بھلائی کے لئے قائم ہے؟ خدا کے لئے اپنا دفتر بند کر دیجئے یا پھر کج فہم مولویوں کے ہاتھوں اسلام کی غلط نمائندگی نہ کروائیے!

۱۱ ویں اور آخری بات، ہماری مذہبی تقریروں میں جیسے خواتین اور ان کے مسائل کو پیش کیا جاتا ہے آپ اپنی شادی شدہ بیٹی سے اپنی تقریر کی تصدیق کروا لیں، آپ کی تقریروں کا حقیقت کی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں ہے، بیشتر مذہبی تقریریں خواتین کے سلسلے میں حق تلفی اور غلط بیانی سے کام لیتی ہیں، وہ کبھی صحیح بات کو غلط طریقے سے اور کبھی غلط بات کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں، مسلم پرسنل لا کی ذمہ داری ہے کہ مسلم خواتین کے احترام کو کم تر کرنے والی مذہبی تقریروں کو وقتا فوقتا رد کرتا رہےـ

اللہ عائشہ کو معاف فرمایے اور مسلم پرسنل بورڈ، جماعت اسلامی، جمیعت علما، جمعیت اہل حدیث، دعوت اسلامی، اور سبھی دینی تنظیموں اور ان کے قائدین کو خواتین کی حقوق تلفی اور بے حسی کو ختم کرنے کی سبیل پیدا فرما !

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*