ظالموں کے ہاتھوں ظالموں کا قتل۔ ایم ودود ساجد

 

میانمار یعنی برما میں فوج اور عوام کئی دنوں سے برسر پیکار ہیں ۔ فوج نے پچھلے دنوں بغاوت کے ذریعہ آنگ سانگ سوکی کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کو ختم کرکے سوکی کو گرفتار کرلیا تھا۔ اب سوکی کے حامی فوج کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں اور فوج ان کے خلاف طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔

 

تازه اطلاعات کے مطابق فوج اور عوام کے تصادم میں اب تک 50 مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں ۔ 2 ہزار کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ یہ سب وہ بدھشٹ ہیں جو روہنگیائی مسلمانوں کا قتل عام کرتے رہے ہیں۔

 

25 اگست 2017 کو حکومت نے روہنگیائی مسلمانوں کے خلاف "آپریشن کلیرنس” شروع کیا تھا۔ 11 دسمبر 2019 کے نیویارک ٹائمز میں شائع صحافی مارلائز سائمن اور حنّا بیچ کی رپورٹ کے مطابق اس آپریشن میں اگست 2018 تک 24 ہزار مسلمان شہید کردئے گئے تھے۔ اس آپریشن میں فوج کے ساتھ مقامی بدھشٹوں نے بھی حصہ لیا تھا۔

 

2019 میں جب یہ معاملہ ہیگ میں واقع اقوام متحدہ کی عالمی عدالت میں پیش ہوا تو آنگ سانگ سوکی نے پوری طاقت کے ساتھ اس نسل کشی کا دفاع کیا تھا۔انہوں نے اسے نسل کشی تسلیم کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ "دہشت گردوں” کے خلاف یہ کارروائی ضروری تھی۔

 

الله کا نظام بھی بڑا پُر اسرار ہے۔ میانمار کی یہی فوج تھی جس نے جمہوری تحریک چلانے کی پاداش میں آنگ سانگ سوکی کو 1989 میں نظر بند کردیا تھا۔ سوکی کم وبیش 20 سال تک نظر بند رہیں۔ یہاں تک کہ وہ 2010 میں جزوی جمہوریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں ۔ انہیں 1991 میں نوبیل امن ایوارڈ بھی ملا۔ان کی نظر بندی کے دوران برما کے مسلمانوں نے ان کا ساتھ دیا۔ انہیں اپنا ہمدرد جانا۔

 

حیرت کی بات یہ ہے کہ جس فوج نے ان کی جوانی کے 20 قیمتی سال قید وبند کی مشقتوں میں برباد کئے اقتدار میں آنے کے بعد وہ اسی فوج کے مسلم کش گناہوں کا دفاع کرنے لگیں ۔ یہی نہیں انہوں نے بدھشٹوں کو مسلمانوں کے خلاف مزید برگشتہ کیا۔مسجدوں میں آگ لگوائی اور مسلمانوں کے گھروں میں لوٹ پاٹ کرائی۔

 

آج یہی فوج ان کے حامی بدھشٹوں پر طاقت کا استعمال کر رہی ہے اور دھوکے باز آنگ سانگ سوکی سلاخوں کے پیچھے سے مسلمانوں کے قاتل بدھشٹوں کو سڑکوں پر فوج کے ہاتھوں مرتا ہوا دیکھ رہی ہیں۔ قرآن کا وعدہ سچا ہے: لنھلکن الظالمین۔ہم ظالموں کو ہلاک کردیں گے۔یہاں ظالم کے ہاتھوں ظالم مارے جارہے ہیں۔ بارِ الہا ہم بھی منتظر ہیں ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*