زکوٰۃ اور امداد کے مستحق رشتے دار کیوں نہیں ؟ ـ مسعود جاوید

 

ایک فقہی مسئلہ اور مسلمانوں کے عام رجحان میں مجھے بارہا تصادم نظر آیا وہ یہ کہ آخر کیا وجہ ہے کہ دین حنیف کی تعلیمات اور اصرار کے باوجود عموماً مسلمان اپنے قریبی رشتہ داروں کی مالی امداد کرنے یا زکوٰۃ دینے سے گریز کرتے ہیں؟

قومی و ملی ہمدردی کے تحت امداد کے وقت اپنوں کو نظر انداز کرنا قطعاً مناسب نہیں ہے۔ کچھ لوگ مستحق اور غیر مستحق کہہ کر اپنوں کو محروم رکھتے ہیں شاید اس لئے کہ انہوں نے اس پر غور نہیں کیا کہ اللہ غیر مستحق کو بھی نوازتا ہے اور مستحق کو بھی۔ مستحقین کی کیٹیگری اور مال کی تحدید صرف زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے ہے صدقہ ہدیہ عطیہ کے لئے نہیں۔ یہ سب احسان ہیں اور احسان اللہ کو بہت پسند ہے۔
أن الله يحب المحسنين … ان الله لا يضیع اجر المحسنين…
گرچہ زکوٰۃ کی رقم ‌مستحقین کو دینے کے لئے نصاب (یعنی ٨٧.٤٥ گرام سونا یا ٦١٢.١٥ گرام چاندی یا اس کے مساوی سرپلس مال و دولت ہونا اور حولان حول یعنی اس پر سال گزرنا شرط ہے) لیکن عموماً لوگ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں زکوٰۃ نکالتے ہیں اس لئے کہ رمضان المبارک میں ہر نیکی کا اجر کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن آفات و مصائب کی گھڑی میں کسی مصیبت زدہ کو وقت پر راحت رسانی کا اجر انشاءاللہ رمضان المبارک میں نکالنے سے کمتر نہیں ہوگا۔ بنیا سوچ دس گنا زیادہ ثواب کے تحت بعض لوگ سال پورا ہونے کے باوجود زکوٰۃ کی ادائیگی کو رمضان تک موخر کرتے ہیں یہ مناسب نہیں ہے۔ جس وقت سال پورا ہو گیا زکوٰۃ کی ادائیگی فرض ہو گئ اس میں تاخیر درست نہیں ہے۔
زکوٰۃ کی رقم کے مستحق وہ لوگ نہیں ہیں جو زکوۃ دینے والے کے شجرہ نسب میں سر کے اوپر "اصول” یعنی ماں باپ دادا دادی نانا نانی اور پاؤں کے نیچے "فروع” یعنی بیٹا بیٹی پوتا پوتی اور ان کی اولاد۔ ان کے علاوہ کسی بھی مستحق کو دیا جا سکتا ہے جس میں ضرورت مند بھائی بہن بھی ہیں اسی لئے ترجیح ان رشتہ داروں کو دینی چاہئے جو صاحب نصاب نہیں ہیں اور ضرورت مند ہیں گرچہ بادی النظر میں مستحق نظر نہیں آتے۔ اس میں دو اجر ہیں ایک زکوة ادا کرنے کا اور دوسرا صلہ رحمی کرنے کا۔ زکوٰۃ کے ذریعہ کفالت کا مقصد اپنے مستحق بھائیوں کو زکوٰۃ لینے والا نہیں زکوٰۃ دینے والا بنانا ہے۔

چھوٹے کسان یا بڑے جاگیردار ؟
ایک اور پیچیدہ مسئلہ یہ ہے یا لوگوں نے اپنے لئےمشکل بنا رکھا ہے وہ یہ کہ زمین کے مالک ہیں لیکن تنگی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مالکان زمین کی ذہنیت کچھ ایسی ہی ہوتی ہے۔ اب اگر اس زمین کی قیمت دیکھی جاۓ تو لاکھوں روپے ہے اور صاحب زمین اس قیمت کے اعتبار سے صاحب نصاب ہے۔ مگر بعض اوقات مستحقین زکوٰۃ فقراء و مساکین سے بھی بدتر زندگی گزارتے ہیں۔ کاؤنسلنگ کرکے ان کی ذہنیت بدلنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح وہ زمین بیچ کر اس رقم کا بہتر انویسٹمنٹ کر سکتے ہیں اور اچھی زندگی گزار سکتے ہیں۔ سونے چاندی کے زیورات جو بیوی کے گھر والوں نے دیۓ ہیں یا شوہر نے بطور مہر یا گفٹ دیا ہو تو یہ بیوی کی ملکیت ہیں اور اس پر زکوٰۃ کی ادائیگی بیوی کے ذمے ہے۔ شوہر کی بچت اتنی نہیں ہوتی کہ وہ زیورات کی زکوٰۃ ادا کرے، ایسی صورت میں بیوی کے پاس اگر زکوٰۃ ادا کرنے کے پیسے ہوں تو ٹھیک ورنہ زیورات میں سے زکوۃ کی رقم کے برابر زیور بیچ کر ادا کرے۔
مقروض :
زکوٰۃ کے مستحقین میں ایک وہ لوگ بھی ہیں جن کی گردن قرض میں پھنسی ہوئی ہے۔ ایسے لوگوں کی معاونت اور ان کی گردن چھڑانے کی طرف زکوة دینے والوں کی نظر عموماً نہیں جاتی۔ جبکہ قرآن کریم میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ ان کا ذکر کیا ہے : إنما الصدقات للفقراء والمساكين والعاملين عليها والمؤلفة قلوبهم و في الرقاب والغارمین و في سبيل الله وابن السبيل فريضة من الله.

بظاھر اچھے کھاتے پیتے نظر آنے والے رشتہ دار ، پڑوسی، امام مسجد، مؤذن اور مدرس گھروں میں جاکر قرآن پڑھانے والے اور بالخصوص بڑے شہروں میں ٹیوشن پڑھانے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جن کی روزی روٹی کا ذریعہ ٹیوشن تھا لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ ذریعہ آمدنی بند ہوگیا یہ تمام لوگ امداد کے مستحق ہیں یا نہیں اس کا پتہ کرنا ایک مشکل ترین کام ہے مگر خبر گیری ضروری ہے اور اس کا طریقہ کار ایسا ہو کہ ان کی عزت نفس کو ٹھیس نہ پہونچے۔
اس طرح کے سفید پوشوں کی اعانت کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ لاگت سے بہت کم یعنی معمولی قیمت لے کر ان سے کھانے پینے اور دیگر ضرورت کی اشیا فروخت کی جائیں تاکہ انہیں ” مفت خوری” کے طعنےکا احساس نہ ہو۔

الا بعض الظن اثم ۔بعض( بد) گمانی گناہ ہے کے تحت بہت سے مشاہدات لکھنے سے قاصر ہوں لیکن اس معاملے میں بھی بعض لوگوں کا رویہ ان کے اپنے رشتے داروں کے ساتھ ایسا دیکھا جیسے وہ اپنے سامنے اپنے رشتے داروں کا قد بڑھتا ہوا دیکھنا نہیں چاہتے ہیں۔ اس لئے ان کا نام مستحقین کی فہرست میں نہیں لکھتے ہیں اگر زکوٰۃ نہیں تو ایسے ” زمیندار” رشتے داروں کو ” قرض حسنہ ” سے مدد کر سکتے ہیں اگر واقعی دل میں صلہ رحمی کا جذبہ ہو تو راستے نکل جاتے ہیں۔
صلہ رحمی پر قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اور احادیث میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد مقامات پر زور دیا ہے۔
جیسا کہ میں نے لکھا کہ سر پلس مال دولت کا اقل مقدار، سال کا گزرنا اور مستحقین کی کیٹیگری زکوٰۃ کے لئے شرائط ہیں نہ کہ صدقہ، عطیہ اور قرض حسنہ کے لئے۔
کفالت سے مقصود کسی فرد کی اتنی کفالت کی جاۓ کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*