ظفرالاسلام کی آواز کو دبانے کی سازش-سید منصورآغا

ہندستان اوراسلامی دنیا کی جانی پہچانی شخصیت اوردہلی اقلیتی کمیشن کے چیرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں کے خلاف دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے 30اپریل کوتعزیرات ہند(ضابطہ فوجداری) کی دفعات 124الف (باغیانہ سرگرمی) اور153 الف (فرقہ ورانہ منافرت پھیلانا وغیرہ) کے تحت ایک کیس درج کیا ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اورسینکڑوں معروف شخصیات نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔پولیس نے یہ اقدام ڈاکٹرصاحب کے ایک ٹویٹ پر ٹرول کے بعد کیا ہے،جس کا آغاز بھاجپا کے ترجمان سمبت پاترا سے ہوا۔ محسوس ہوتا ہے پولیس کی اس کاروائی کا مقصد فسطائی سوچ کی منھ بھرائی ہے اورسچائی کی آواز کو دبانا ہے۔اس کیس کے سلسلہ میں کل پولیس ان کے گھرآئی تھی اورچاہتی تھی کہ ڈاکٹرصاحب کو ساتھ لیجائے، لیکن ان کی وکیل محترمہ ورنداگروور نے پولیس کو بتایا کہ ڈاکٹرصاحب کی عمر72 سال ہے۔ صحت خراب ہے اورکرونا کا اندیشہ ہے۔ اس لئے پولیس ان سے گھرپر ہی پوچھ تاچھ کرلے۔ ان کو لیجانہیں سکتی۔ چنانچہ پولیس افسران دیرتک ان سے بات کرکے چلے گئے۔

شخصیت:ڈاکٹرصاحب موصوف مدرسۃ الاصلاح سرائے میر، ندوۃ العلمالکھنؤ اورجامعہ ازہر، قاہرہ سے فیض یافتہ ہیں۔ انہوں نے مانچسٹریونیورسٹی، برطانیہ سے اسلامیات میں پی ایچ ڈی کیا۔ عربی اور انگریزی میں کئی وقیع کتابوں کے مصنف معروف جریدہ ’ملی گزٹ‘ سمیت کئی جرائد کے مدیر رہے ہیں۔ سید شہاب الدین کے دورصدارت میں مسلم مجلس مشاورت کے کارگزار صدر اور بعدمیں دومدت صدررہے۔ بے شمار بین اقوامی کانفرنسوں اورسیمیناروں میں شرکت کی۔ ملک اوربیرون ملک کے اعتدال پسند دانشوروں،جمہوری اقدارکی امین، فرقہ ورانہ خیرسگالی کی نقیب شخصیتوں اور سماجی کارکنوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔

ان کی ایک بات جو بعض وقت ناگواری کا باعث ہوتی ہے،یہ ہے کہ ’مصلحت اندیشی‘ کو بالائے طاق رکھ کر جو ان کو ٹھیک لگتا ہے کہہ گزرتے ہیں۔ایسا شخص سراٹھاکر جی تولیتاہے، لیکن یہ ممکن نہیں کہ اس کے راستے میں کانٹے نہ بچھائے جائیں۔ ظفرصاحب کا تعلق کیونکہ ضلع اعظم گڑھ سے ہے، اسلئے یہ انداز ان کو اپنے ماحول سے ملا ہے۔ان کی شخصیت کا یہ پہلوگزشتہ تین سال میں، جب سے وہ دہلی اقلیتی کمیشن کے چیرمین ہیں، خوب ابھرکرآیااورارباب اقتدارکی آنکھوں میں خاربن گیا ۔ میرے گاؤں کا ایک ناخواندہ بھائی محمد اشرف مرحوم کا کہنا تھا،’بھیاجی، سچی بات کہنا تو ایسا ہے جیسے آنکھ میں انگلی دیدی‘۔اورظفرالاسلام خاں نے توبارہا ایسی باتیں کہی ہیں جو حکمرانوں کی آنکھوں میں انگلی کی طرح چبھی ہیں۔ چنانچہ ان کے خلاف کیس درج ہونے کی اطلاع ملی تو حیرانی نہیں ہوئی۔ حکمراں کی بے تدبیری، راج دھرم کی پامالی اور ناانصافی کو ٹوکنا بیشک بہترین جہاد ہے۔حاکم کی نظر میں ’بغاوت‘، ’حکم عدولی‘، ’نافرمانی‘ اور’قوم دشمنی‘ ہے توکوئی کیا کرے؟

قانون کی دودفعات: ظفرصاحب کے خلاف کیس دودفعات کے تحت درج ہوا ہے۔ پہلی ضابطہ فوجداری کی وہ دفعہ ہے جس کوانگریز حکمرانوں نے تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے 1880میں ضابطہء فوجداری میں داخل کیا تھا۔ خود ضابطہ فوجداری 1857میں ہندستان کی آزادی کی تحریک کو بے رحمی سے کچلنے کے بعد 1862 میں نافذ کیا تھا۔ اس میں یہ دفعہ (124الف) خاص طورسے برٹش سامراج کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے اورسامراج کی حفاظت کے لئے داخل کی گئی، جس کے تحت گاندھی جی اور لوک مانیہ تلک جیسی اہم شخصیات بھی مجرم قراردے کرجیل بھیجے گئے۔ اس دفعہ کے مطابق، ’اگرکوئی شخص حکومت کے خلاف کچھ لکھتا یا بولتا ہے یا اس کی توثیق کرتا ہے، یا کسی قومی علامت کی بے توقیری کرتا ہے تواس پر بغاوت /غداری (sedition) کاکیس چلایا جائیگا۔ مجرم قراردئے جانے پر تین سال سے تا عمرکی قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔ اس کا پاسپورٹ ضبط کرلیا جائے گا، وہ کسی آئینی یاسرکاری منصب پر کام نہیں کرسکے گا۔‘

یہ قانون اگرچہ ابھی تک ضابطہ فوجداری کاحصہ ہے، لیکن آئین کی روح اوراس کے الفاظ سے ٹکراتاہے۔ہماراآئین اظہارخیال کی آزادی اور حکومت سے سوال کا حق دیتا ہے۔ یہ قانون سرکار پر تنقید کو ’باغیانہ‘ کہتا ہے۔ ہم نے آزادی کے بعد برٹش سامراج کی جگہ ’کانگریسی سامراج‘ اور 2014 میں ’بھاجپا ئی سامراج‘ قائم نہیں کیا تھا۔ بلکہ 26 جنوری 1950 ایک جمہوری نظام حکومت قائم کیا ہے۔ سامراجی اورجمہوری نظام میں فرق یہ ہے کہ سامراجی حکومت جابر، ظالم اوراپنی بقا کے لئے انسانوں کی قاتل ہوسکتی ہے، جب کہ جمہوری حکومت عوام کو جوابدہ ہوتی ہے۔ جوابدہی کا مطلب یہ ہے کہ ہرشخص حکومت پر تنقید کرنے اور اس سے سوال کرنے کیلئے آزاد ہے۔ اس آزادی کا گلا گھونٹا جائے توہرباشعورشہری کا فرض ہے کہ بگلہ بھگت نہ بن جائے بلکہ اس کے خلاف آواز اٹھائے۔ڈاکٹرظفرالسلام خان یہی کررہے ہیں، مگراس آواز کو دبانے کی سازش کی جارہی ہے۔ یہ دب گئی تو ہزاروں کا حوصلہ پست ہوجائے گا اوران پر وہی خوف طاری ہوجائےگا جو استعماری ڈکٹیٹرشپ میں ہوتا ہے، جو جون 1975میں نافذ ایمرجنسی کے دوران ہم نے دیکھا۔

ستم ظریفی دیکھئے، ایک طرف وہ دریدہ دہن آزاد ہیں جو ایک مذہبی اقلیت، ایک سیاسی جماعت، ایک ماں جیسی معمرخاتون اورایک 75 سال کے قوم پرست دانشورکے خلاف ہفوات بکتے ہیں۔ ایک ایسے ہی شخص کولاکھوں غریب مزدوروں پرالزام لگانے، معمر خاتون کی بے عزتی کرنے کو برداشت کیا جا سکتا ہے، ایک پورے فرقے کے خلاف لوگوں کے ذہنوں میں زہربھراجاسکتاہے، لیکن کسی نے حکومت اوراس کے لے پالکوں پرانگلی اُٹھائی تواس پر ’غداری‘ کا الزام لگادیا؟ کیا ایسا ہی ہوتا ہے رام راج؟ ہرگز نہیں۔

یہ ایف آئی آر:

معصوم مرادآبادی نے صحیح سوال کیا ہے، آخرڈاکٹرظفرالاسلام خاں کا قصور کیا ہے؟ لیکن آگے بڑھنے سے پہلے دفعہ 153الف کواوردیکھ لیں۔ یہ دفعہ کہتی ہے،’مذہب، نسل، جائے پیدائش، مقام بودوباش، بولی وغیرہ کی بنیاد پردوفرقوں کے درمیان جو شخص عداوت اورنفرت پھیلا ئے گا، تو پانچ سال تک کی سزاکا مستحق ہوگا۔‘ڈاکٹرظفرالاسلام خان کے خلاف ایف آئی آر وسنت کنج کے ایک باشندے کی شکایت پردرج کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹرخان کا ٹوئیٹ ’اشتعال انگیز‘، ’دانستہ‘اور’باغیانہ‘ ہے۔ نیت جان بوجھ کر سماج میں من مٹاؤ پیداکرنا اورپھوٹ ڈالنا ہے۔‘

توصاحب، ہماری حکومت کی انصاف پسندی اوردہلی پولیس کی فرض شناسی دیکھئے۔وسنت کنج کے ایک عام شہری نے شکایت کی تو آنافانا ڈاکٹرخان کے خلاف کیس درج ہوگیا، لیکن دہلی ہائی کورٹ نے 23مارچ کوکہا کہ ان بھاجپا لیڈروں کے خلاف کیس درج کیا جائے جنہوں نے دوفرقوں کے درمیان نفرت اورتفرقہ ڈالنے والے بیانات دئے ہیں، اس پر آج تک عمل نہیں ہوا، اورسپریم کورٹ میں یہ دلیل دی گئی کہ ’ابھی مناسب وقت نہیں۔‘ یہ بتانے کی ضرورت نہیں خان کے خلاف رپورٹ درج کیوں ہوگئی اور کیمرے پر ’گولی مارو سالوں کو‘ ’مسجدیں گرادیں گے‘’خواتین کی آبرولوٹ لی جائیگی‘ جیسے بیان دینے والوں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں ہوئی حالانکہ ان نفرت انگیز بیانوں کا نتیجہ ٹرمپ کی موجودگی میں دہلی فساد میں دیکھ لیا گیا۔جن صاحب نے یہ شکایت درج کی وہ ہڈیوں کے ایک معروف سرجن ڈاکٹر کوشل کمار مشرا ہیں، جو بھاجپا کے لئے وہ کام کرتے ہیں جو پارٹی خود اپنے پلیٹ فارم سے نہیں کرسکتی۔ مثلا ایس سی ایس ٹی اوراوبی سی ریزرویشن کے خلاف ماحول سازی اور عدالتی کاروائی۔شطرنج کے کھیل میں جو مہرے ہوتے ہیں وہ خود نہیں چلتے بلکہ ان کو چلانے والا کوئی الگ ہاتھ ہوتا ہے۔اس ایف آئی آر کے ساتھ بھاجپا کارکنوں نے دہلی کے ایل جی سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹرخان کو برطرف کیا جائے اور ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن بھی داخل کردی ۔

نوجوانوں کی گرفتاریاں: اسی دوران شمال مشرقی دہلی میں فساد کی سازش کیلئے ان قوم پرست نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کو جیلوں میں ڈالا جارہا ہے جنہوں نے آئین کی روح کے منافی شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پرامن جمہوری انداز میں آواز اٹھائی اورجس کی تائید ہرمذہب، فرقہ اور درجہ کے سنجیدہ افراد نے کی تھی۔

دراصل ڈاکٹرخان کے خلاف یہ کاروائی مسلم اقلیت کے خلاف نفرت انگیز اسی مہم کا حصہ جسکا بین اقوامی میڈیامیں چرچا ہے اوراہم اداروں نے جس پر گرفت کی ہے۔ ممتاز سماجی کارکن روی نائر نے ٹھیک ہی نشاندہی کی ہے کہ ڈاکٹرخان نے گزشتہ تین سال میں اقلیت کے خلاف کئی سازشوں کو بے نقاب کیا ہے۔ یہ کیس ایک سازش ہے تاکہ جولائی میں ان کی مدت کار پوری ہونے پردوسری مدت کیلئے توسیع نہ مل سکے۔ یہ بات توجگ ظاہر ہے کہ دہلی پولیس یہ سب کچھ خود نہیں کرتی۔ بلکہ اس کیلئے ذمہ دارمرکزی حکومت ہے۔ پولیس اسی کے تحت ہے۔

کمیشن کے کچھ کام:دہلی اسمبلی انتخاب سے کچھ پہلے بھاجپا ایم پی پرویش ورما نے ایل جی کولکھا کہ دہلی میں 68 مساجد، قبرستان، مدرسے اورامام باڑے سرکاری آراضی پر ناجائز قبضے کرکے قائم ہیں۔ اس پر دہلی اقلیتی کمیشن نے فوراً ایک جانچ کمیٹی بٹھائی جس نے بڑی مستعدی سے تفصیلی رپورٹ مع دستاویزات تیارکردی اورکمیشن نے ایل جی کو بتادیا کہ ورما کا الزام جھوٹا ہے۔

دہلی میں حالیہ مسلم کش تشدد کے بعد ڈاکٹرظفرالاسلام خان نے متاثرہ علاقوں کا دورکیا اور حقائق کی بنیاد پر کہا کہ یہ فتنہ، جس میں 40مسلم اور 13 دیگر لوگ مارے گئے، ایک منظم سازش کے تحت ہوا۔ اس میں بڑارول ان تربیت یافتہ غنڈوں کا تھاجو باہر سے لائے گئے تھے اوراقلیت کو بے رحمی سے نشانہ بنایا۔

اقلیتی کمیشن نے چیرمین ڈاکٹرخان اوررکن کرتارسنگھ کوچرکے دستخطوں سے 16 اپریل کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کوایک خط لکھا جس کی کاپی تمام ریاستی سرکارو ں کوبھیجی جس میں تبلیغی جماعت کے حوالے سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کیلئے مسلم اقلیت کو نکو بنانے کی مہم پرگرفت کرتے ہوئے اس مہم کو بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔اس کے علاودیگراقداما ت اوربھی ہیں۔ ظاہر ہے کمیشن کے چیرمین کی یہ ایسی کاروائیاں ہیں جو حکمرانوں کو اچھی نہیں لگ سکتیں۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کے خلاف یہ ایف آئی آر دراصل ہندتوانوازوں کی سینہ زوری،اسلاموفوبیا کی تائید اوران کے خلاف اٹھنے والی آواز کودبانے کے لیے کی گئی ہے۔

امریکی رپورٹ کی تائید:حکومت کی ان کاروائیوں سے ان الزامات کی تائید ہوتی ہے جو مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن کی رپورٹ میں عائد کئے گئے ہیں۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ سرکاراس رپورٹ کا تجزیہ کرکے ان داغ دھبوں کو دھوتی جو اس کی ناقص سوچ سے سیکولر، لبرل ہندستان کی شبیہ پر لگ گئے ہیں۔مگرکرالٹا رہی ہے اورے ملک کی بدنامی کی کوئی فکرہی نہ ہو۔

رہا یہ اعتراض ڈاکٹرخان نے ہندستان میں مسلم اقلیت کے خلاف مظالم پر اٹھنے والی ایک بیرونی آواز کا شکریہ اداکیا، توسوال یہ ہے کہ شہریت ترمیمی قانون میں ہم نے جن تین ممالک کی اقلیت سے ہمدردی دکھائی ہے، اگروہ آپ کی حکومت کا شکریہ اداکریں توان کو آپ کیا کہیں گے؟ اگر موجودہ حکومت انگریز حکمرانوں کی طرح ہندستانی باشندوں کے صبروتحمل اوران کی ہندستان پروری کو شکست دینا چاہتی ہے تواس کو جلیانوالہ کے شہیدوں، بھگت سنگھ، سکھ دیو اوراشفاق اللہ کی قربانیوں، ٹیپوسلطان، لکشمی بائی کی حوصلہ مندی کی تاریخ پڑھ لینی چاہئے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)