مسلم پرسنل لاء بورڈکے سکریٹری ظفریاب جیلانی اسپتال سے فارغ، اعظم خان آئی سی یو سے وارڈ میں منتقل ،دونوں کی کوویڈرپورٹ نگیٹیو

لکھنؤ:سینئر ایڈوکیٹ اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) کے سکریٹری ظفریاب جیلانی کو لکھنؤ کے میدانتا اسپتال سے فارغ کردیاگیاہے۔ممبر پارلیمنٹ اعظم خان کی طبیعت میں بہتری آئی ہے ، جو آج کل میدانتا میں زیر علاج ہیں اور ان کی کوویڈ رپورٹ بھی منفی آئی ہے۔ اب اسے آئی سی یو سے وارڈ منتقل کردیا گیا ہے۔اسپتال کی طرف سے جاری میڈیکل رپورٹ کے مطابق 20 مئی کو سی ٹی اسکین کے ذریعے 21 مئی کو اسپتال میں داخل ہونے کے بعدپتہ چلا کہ ان کے دماغ کے اگلے حصے میں خون جم گیا اور وہ بھی کوروناسے متاثر ہوئے۔ میدانتا لکھنؤکی سرجن ٹیم نے کامیاب سرجری کے بعد دماغ سے منجمد خون کو ہٹا دیا۔ اس کے بعد انہیں وینٹیلیٹرپر آئی سی یو میں رکھا گیا تھا۔ جیلانی آج منگل کو صحت مند ہیں۔ اپنی صحت میں بہتری دیکھ کر انہیں اسپتال سے فارغ کردیا گیا ہے۔سابق ایڈووکیٹ جنرل ظفریاب جیلانی کے بیٹے نجف نے واقعے کے بارے میں بتایا کہ وہ اپنے دفتر اسلامیہ کالج کی پہلی منزل پر بیٹھ کر اپنا کام کر رہے تھے اور بارش کی وجہ سے پھسل گئے اور وہ سیڑھی پر گر گئے جس کی وجہ سے سرمیںچوٹ لگی۔دوسری طرف سماج وادی پارٹی کے رہنما اور رکن پارلیمنٹ اعظم خان کی صحت میں اچھی بہتری ہے اور ان کی کوویڈ رپورٹ بھی منفی آئی ہے۔اسپتال کی جانب سے جاری میڈیکل بلیٹن میں کہا گیا تھا کہ اعظم خان کی صحت میں بہتری دیکھی ہے۔ ان کی کوویڈ کی رپورٹ بھی منفی آئی ہے ، انہیں آئی سی یوسے وارڈ منتقل کردیا گیا ہے۔ وارڈ میں بھی انہیں نگہداشت اور نیفروولوجی ٹیم کی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ ان کی صحت اب بھی مستحکم اورکنٹرول میں ہے۔