ظفر اسلام کا الزام ـ ایم ودود ساجد

پچھلے دنوں آل انڈیا اردو نیوز پیپرس فیڈریشن نے بی جے پی کے ترجمان سید ظفر اسلام کے راجیہ سبھا کا رکن منتخب ہونے کی خوشی میں انہیں ایک استقبالیہ دیا تھا۔ اس استقبالیہ میں ان کی تقریر کے علاوہ مزید دو تقریریں قابل ذکر تھیں۔ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے صدر سراج الدین قریشی نے جہاں ظفر اسلام کی بھر پور ستائش کی وہیں انہوں نے انڈسٹری اور خاص طور پر گوشت کے کاروبار پر پڑنے والی سرکاری ضرب اور مسلمانوں کے دوسرے مسائل پر سخت غصہ کا اظہار کیا۔ ان کی تقریر خاصی لمبی تھی۔لیکن یہاں ان کی تقریر کا جائزہ لینا مقصود نہیں۔

اِسی طرح دوسری تقریر روزنامہ ہندوستان (ممبئی) کے ایڈیٹر سرفراز آرزو کی تھی۔ ظفر اسلام سے ان کے تعلق کا انداز ہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اس پروگرام کےلیے  ممبئی سے آئے تھے۔انہوں نے بھی حسب توقع ظفر اسلام کی ستائش کی۔ لیکن اس کے علاوہ انہوں نے ظفر اسلام سے جو کچھ کہا اس کا مفہوم یہ تھا کہ آپ کو بی جے پی نے (یا وزیر اعظم نے) مسلمانوں کی وجہ سے یہ عہدہ دیا ہے لہذا آپ مسلمانوں کو فراموش مت کردینا۔اور اگر آپ نے انہیں فراموش کردیا تو وہ بھی آپ کو بھول جائیں گے۔

میرا خیال ہے کہ سرفراز آرزو کی یہ دونوں باتیں خلاف واقعہ اور اضافی تھیں۔۔ ظفر اسلام کو نہ مسلمانوں کی وجہ سے راجیہ سبھا بھیجا گیا اور نہ ہی مسلمانوں نے ان سے توقعات باندھ رکھی ہیں۔ مسلمانوں نے انہیں کچھ دیا ہی نہیں تو ان سے کچھ نہ ملنے کی صورت میں شکوہ کا کیا سوال۔ظفر اسلام نے اپنی تقریر میں سرفراز آرزو کی ان دونوں باتوں کا جواب بہر حال سنجیدہ انداز میں دیا اور وہ تبصرہ نہیں کیا جو میں نے کیا ہے۔ سراج الدین قریشی کی تقریر چونکہ آخر میں ہوئی تھی اس لیے ان کی تقریر میں اٹھائے گئے نکات پر ظفر اسلام کو جواب دینے کا موقع ہی نہیں ملا۔ موقع ملتا بھی تو شاید وہ کوئی معقول جواب نہ دے سکتے۔

آج ہمارا اصل موضوع دوسرا ہے۔ گزشتہ روز میں نے اپنے احباب سے مشورہ مانگا تھا کہ بی جے پی کے ایک مسلم لیڈر نے بلا امتیاز ”علماء و قائدین“ پر ایک سنگین الزام عاید کیا ہے‘ تو کیا اس الزام پر مجھے کچھ لکھنا چاہیے تا کہ قائدین کو بھی وضاحت کرنے کا موقع مل سکے۔ اس پروگرام میں صحافی برادری کے "سامعین” بھی خاصی تعداد میں تھے۔لیکن اردو اخبارات میں اس پروگرام کی سادہ خبر کے علاوہ مجھے مذکورہ نکات کا کوئی ذکر سرے سے نہیں ملا۔

ظفر اسلام نے کوئی چوری چھپے یا آہستگی کے ساتھ وہ الزام نہیں لگایا‘ اس لیے اس پر بات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے پریس کے سامنے یہ الزام دوہرایا ہی اس لئے تھا کہ کوئی اس کا ذکر اپنی خبر میں کرے۔ ان کا موقف بھی اس امر کا متقاضی ہے کہ اس الزام کی تشہیر کی جائے۔ انہوں نے پریس کے کردار کو اہم بتاتے ہوئے درخواست بھی کی کہ صحافی برادری مفاد پرست قائدین کو ایکسپوز کرے ۔

ظفر اسلام نے بہت اچھی‘ لچھے دار اور مسلمانوں کے درد وغم میں ڈوبی ہوئی تقریر کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر وقت‘ یہاں تک کہ سونے کے وقت بھی مسلمانوں کے مسائل کے تعلق سے فکر مند رہتے ہیں۔ وہ دن رات یہی سوچتے رہتے ہیں کہ اپنی قوم کو کیسے اوپر لائیں۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے بی جے پی میں شمولیت کے وقت ہی اپنی قیادت کو بتادیا تھا کہ وہ ایک باعمل مسلمان (Practicing Muslim) ہیں۔ یعنی وہ نہ تو اپنے عقیدے کے خلاف کوئی کام کریں گے اور نہ ہی گیروا کپڑے پہنیں گے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ نماز کے وقت کیسی بھی اہم میٹنگ ہو اٹھ کر چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیر اعظم انہیں وقتاً فوقتاً بلاکر پوچھتے رہتے ہیں کہ (جیسا کہ تم پکے مسلمان ہو) کوئی تمہیں کچھ کہتا تو نہیں؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بی جے پی میں اس لیے شامل ہوئے ہیں تا کہ اپنی قوم کے مسائل حل کراسکیں اور اگر انہیں محسوس ہوگا کہ وہ کچھ نہیں کرا پا رہے ہیں اور انہیں عزت نہیں مل رہی ہے تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑکر جا بھی سکتے ہیں۔

اب اتنی تمہید کے بعد ان الزامات کا ذکر جو انہوں نے بلا امتیاز تمام علماء وقائدین پر لگائے ہیں۔ انہوں نے موٹے طور پر دو باتیں بہت زور دے کر کہیں:

1۔ انہوں نے بتایا کہ مسلمانوں کے قائدین (اس میں علماء بھی شامل ہیں) ان سے جب ملتے ہیں تو ملت کے مسائل کی نہیں بلکہ اپنے ذاتی مسائل اور مفادات کی بات کرتے ہیں۔لہذا انہوں نے سختی کے ساتھ کہہ دیا ہے کہ میرے پاس ذاتی مفادات لے کر مت آنا۔

2۔ انہوں نے ایک خاص واقعہ کا ذکر کیا۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایک روز اپنی قیادت کو بتاکر اپنے گھر رات کے کھانے پر تمام (مسالک کے علماء) ٹاپ لیڈروں کو مدعو کیا تھا۔ (اب نہیں معلوم کہ وہ کون سے علماء وقائدین تھے۔) منشا یہ تھی کہ مسلمانوں کو بی جے پی کے قریب لانا ہے۔ اعتماد کی جو کمی ہے اسے دور کرنا ہے اور جو گہری خلیج ہے اسے بھرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے ان تمام قائدین کے سامنے ایک تجویز رکھی کہ وہ دو طرح سے کمیونٹی کو اوپر لاسکتے ہیں ۔ ایک تو تعلیم پر توجہ دے کر اور دوسرے انہیں سیاسی طور پر باوقعت بناکر۔ میں نے کہا کہ مسلمان پانچ چھ بڑے افراد کی ایک کمیٹی بنائیں جو تمام سیاسی پارٹیوں کے مینی فیسٹو کا مطالعہ کریں’ جس پارٹی کا منشور اچھا ہو اس سے مول بھاؤ کریں اور ہر پارٹی سے کہیں کہ جو مسلمان بھی شامل ہو آپ اسے براہ راست کوئی عہدہ نہ دیں’ بلکہ جس کے لیے (علماء اور مسلم قائدین کی) کمیٹی سفارش کرے اسی کو عہدہ دیا جائے۔ ظفر اسلام نے دکھ بھرے لہجہ میں بتایا کہ انہیں یہ جواب ملا کہ آپ اپنی سب سے بڑی حصولیابی اسے سمجھیں کہ ہم (تمام مسالک کے علماء) اتنے اختلافات کے باوجود آپ کے ساتھ ایک میز پر بیٹھ گئے۔ "میں کہتا ہوں کہ اگر یہ میری حصولیابی ہے کہ سارے مسالک کے علماء ایک میز پر بیٹھ گئے تو ایسی حصولیابی پر لعنت ہے۔” انہوں نے کہا کہ اس تجویز کے مطابق تو میں خود قربانی دینے کو تیار تھا۔ میں اپنے قائدین کے ساتھ کھڑا ہونے کو تیار تھا۔

انہوں نے کہا کہ آپ میری بات کا یقین نہ کریں تو دوسری تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں سے پوچھ لیں کہ ہماری کمیونٹی کے لیڈر آپ کے پاس کیا بات کرنے آتے ہیں۔ (یعنی یہ کہ وہ ملی مسائل لے کر آتے ہیں یا ذاتی مفادات لے کر ان کے پاس آتے ہیں۔) اگر وہ یہ کہہ دیں کہ وہ اپنے فائدہ کے علاوہ بھی کوئی بات کرتے ہیں تو میرا نام بھی ظفر اسلام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے قائدین کی خود جانچ پرکھ کریں ۔ میں کہہ رہا ہوں کہ ہمارا کوئی لیڈر نہیں ہے۔ سب اپنے مفادات کے لئے لیڈری کر رہے ہیں ۔

میرا خیال ہے کہ یہ دو الزام علما وقائدین پر کوئی نئے یا انوکھے نہیں ہیں۔ نئی اور انوکھی بات یہ ہے کہ یہ الزام دن کے اجالے میں‘ صحافیوں کے سامنے‘ کھلے طورپر کسی لیڈر نے پہلی بار خود لگائے ہیں۔

بابری مسجد کے تعلق سے لوگ کیا کیا نہیں کہتے۔یہاں تک کہ گزشتہ 9 نومبر 2019 کو سپریم کورٹ سے جو فیصلہ آیا لوگ اس کے بارے میں بھی یہی کہتے ہیں کہ اس کے لیے آر ایس ایس نے پہلے سے ہی زمین ہموار کرلی تھی اور بہت سے علماء و قائدین کو بھی رام کرلیا تھا۔ لیکن میرے پاس اس الزام کا کوئی براہ راست ثبوت نہیں۔ اس لیے میں اس الزام پر کوئی زور نہیں دے سکتا۔ لیکن مذکورہ دو الزام تو خود ظفر اسلام نے بھری محفل میں لگائے ہیں’ صحافیوں کے سامنے لگائے ہیں۔ اس لیے میں نے سوچا کہ اگر یہ محض الزام ہے اور بے بنیاد الزام ہے تو پھر علماء وقائدین کو ظفر اسلام سے سوال کرنا چاہیے کہ آپ ایسا فرضی اور بے بنیاد الزام عاید کرکے کیوں عام مسلمانوں کو ان کے علماء وقائدین سے بیزار اور متنفر کرنا چاہتے ہیں؟

انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا۔۔اس لیے یہ مطلق الزام اور بھی زیادہ خطرناک ہوگیا۔کیونکہ اب ہر ایک مشکوک ہوگیا۔شکوک کے یہ بادل چھٹنے بہت ضروری ہیں۔ایسے وقت میں تو اور بھی ضروری ہیں جب بی جے پی اور حکومت دونوں نے مل کر مسلمانوں کو سیاسی طورپر بے وقعت بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔

ظفر اسلام کے تعلق سے میں نے جو نکتہ نمبر 2 لکھا ہے اس پر بھی بحث ہونی چاہیے۔ اگر فی الواقع ظفر اسلام نے علماء و قائدین کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی تو انہوں نے آخر کس بنیاد پر اس تجویز کو ٹھکرادیا اور کیوں وہ اس عمومی بحث سے گھبراگئے۔بظاہر تو یہ تجویز اچھی تھی۔

سوال یہ ہے کہ اگر وہ ان کی دعوت پر ان کے گھر جاکر کھانا کھا سکتے ہیں اور ان سے مختلف ذاتی امور پر بات کرسکتے ہیں تو ملت کے عمومی مفاد کی بات کرتے ہوئے انہیں کیوں تکلف ہوتا ہے۔؟ وہ اگر اپنے ذاتی کاموں کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیڈروں سے مل سکتے ہیں تو وہ ملت کو مجموعی طور پر یہی کام کرنے سے کیوں روکتے ہیں؟ اگر ان کا ذاتی طورپر بی جے پی لیڈروں کی دعوتیں قبول کرنا اور ان سے ملنا جائز ہے تو عمومی مسلمانوں کا اپنے مسائل لے کر بی جے پی کے پاس جانا کیوں ناجائز ہے؟

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*