کرشنن موت کے منہ سے واپس آگیا، یوسف علی نے ایک کروڑ دے کر نئی’زندگی‘ خریدلی ـ ایم ودود ساجد

یہ خبر ماب لنچنگ کے شوقین شرپسندوں اور ان کے آقاؤں کیلئے ہے۔لیکن جنہیں یہ خبر شور مچا مچا کر شرپسندوں اور ان کے آقاؤں تک پہنچانی چاہئے تھی انہوں نے نہیں پہنچائی۔۔ حد تو یہ ہے کہ یہ خبر بڑے پیمانے پر ماب لنچنگ کی شکار قوم تک بھی نہیں پہنچی۔

کیرالہ کا باشندہ ‘پیکس کرشنن’ ابوظہبی میں ڈرائیور تھا۔2012 میں اس کی کار سے کچل کر ایک 6 سالہ سوڈانی لڑکے کی موت ہوگئی تھی۔ وہ گرفتار ہوا اور تحقیقات کرنے والی پولیس‘ سی سی ٹی وی کیمروں اورعینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کرکے اس نتیجہ پر پہنچی کہ کرشنن بڑی لاپروائی سے کار چلا رہا تھا۔ 2013 میں متحدہ عرب امارات کی سپریم کورٹ نے اسے موت کی سزا سنادی۔کرشنن کے اہل خانہ اور اس کے وکیلوں نے بہت کوشش کی لیکن اس کی سزائے موت کو کالعدم نہیں کراسکے۔ کرشنن نے دعوی کیا تھا کہ وہ ’اوور ٹائم‘ کر رہاتھا‘ وہ بہت تھکا ہوا تھا اور اسے نیند کا جھونکا آگیا تھا۔

کرشنن کے اہل خانہ جب ہر طرف سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے متحدہ عرب امارات میں مقیم کیرالہ کے 65 سالہ بزنس مین اور ’لوء لوء‘ گروپ کے چیرمین یوسف علی سے رابطہ کیا۔ یوسف علی نے جب اس سلسلہ میں کوشش شروع کی تو اس وقت تک سوڈانی بچے کے اہل خانہ متحدہ عرب امارات چھوڑ کر واپس سوڈان چلے گئے تھے۔اب یہ کام بہت مشکل ہوگیا تھا۔ کرشنن کی سزائے موت اسی صورت میں ختم ہوسکتی تھی جب ہلاک شدہ بچے کے اہل خانہ قصاص لے کر یا فی سبیل الله اسے معاف کردیں اور سپریم کورٹ میں آکر اپنے بیانات بھی قلم بند کرائیں۔

اولاً تو سوڈانی فریق کو ہی تیار کرنا بہت مشکل تھا۔اوپر سے انہیں صرف عدالت میں بیان دینے کیلئے واپس متحدہ عرب امارات لانا اس سے بھی زیادہ مشکل تھا۔یوسف علی کی ٹیم نے پہلے تو متاثرہ بچے کے اہل خانہ کو تلاش کیا۔پھر ان سے گفتگو شروع کی۔ایک دو نہیں گفتگو کے درجنوں دور ہوئے۔جب کئی برسوں کی گفتگو کے بعد مرنے والے کے اہل خانہ تیار ہوئے تو اس کی ماں بپھر گئی اور اس نے ’قاتل‘ ڈرائیور کو معاف کرنے سے انکار کردیا۔یہ مرحلہ بڑا مشکل تھا۔اس کی ماں کا کہنا تھا کہ میں اپنے بچے کے "قاتل” کو تختہ دار پر دیکھنا چاہتی ہوں۔

یوسف علی کی ٹیم نے اس کام کیلئے سوڈان کی موقرشخصیات اور معاشرہ پر اثر رکھنے والے افراد کو اعتماد میں لیا۔انہوں نے ماں کو مذہبی اور انسانی پہلوؤں کا حوالہ دے کر سمجھایا۔ آخر کار "مقتول” لڑکے کی ماں بھی مان گئی۔ 2013سے 2019 تک کا عرصہ اسی کوشش میں گزرگیا۔اب جبکہ مقتول کے اہل خانہ مان گئے تو یہ مشکل سامنے آگئی کہ وہ متحدہ عرب امارات آنے کو تیار نہیں تھے۔یوسف علی کی ٹیم نے تمام سفری اخراجات کے علاوہ انہیں ایک رقم کے عوض متحدہ عرب امارات آنے کو تیار کرلیا۔اب کورونا کی وبا سامنے آگئی۔سوڈانی فریق سفر کرنے کو تیار ہوا تو اب سفر پر پابندی لگ گئی۔آخر کار جنوری 2021 میں انہیں ابو ظہبی لانے میں کامیابی مل گئی۔ایک بیان میں یوسف علی نے کہا کہ مقتول کے اہل خانہ کو قاتل کو معاف کرنے کیلئے تیار کرنا سب سے مشکل مرحلہ تھا۔

گزشتہ 13جنوری کو مقتول کے اہل خانہ نے عدالت میں آکر بیان دیدیا کہ انہوں نے قاتل کو معاف کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یوسف علی کے گروپ کو پانچ لاکھ درہم یا ایک کروڑ ہندوستانی روپے عدالت میں جمع کرانے پڑے۔ عدالت نے ’قصاص‘ کا یہ صلح نامہ منظور کرلیا اور گزشتہ 9 جون کو کرشنن کیرالہ واپس پہنچ گیا۔

ابو ظہبی میں جب اسے جیل میں یہ خبر سنائی گئی اوراس سے پوچھا گیا کہ جیل سے نکل کر پہلا کام کیا کروگے؟ تو اس نے کہا کہ میں سب سے پہلے ’خود کو نئی زندگی‘ دینے والے کے پاؤں چھونے کیلئے اس کے گھر جاؤں گا۔کرشنن کی یہ خواہش پوری کی گئی۔یوسف علی نے کرشنن سے وعدہ کیا کہ وہ ابوظہبی سے باہر اسے کہیں نوکری بھی دیں گے۔9 جون کو جب 45 سالہ کرشنن‘ تھیرواننتا پورم ایر پورٹ پر پہنچا تو اسے میڈیا والوں نے گھیر لیا۔لیکن حیرت یہ ہے کہ 10جون کو کسی چینل پر یہ خبر نہیں تھی۔میڈیا کو دلچسپی’ موت کے منہ سے واپس آنے والے ’قاتل‘کرشنن میں تھی۔ انسانیت کے محسن اس شخص میں نہیں تھی جس نے اسے موت کے منہ سے نکالنے کیلئے کروڑوں خرچ کردئے تھے۔