یوسف خان اور دلیپ کمار کے درمیان کافرق ـ جاوید جمال الدین

دلیپ کمار کو ہوش سنبھالنے کے ساتھ ہی جاننے اور پہچاننے لگے تھے،کیونکہ اردواخبارات،اردو فلمی رسالہ شمع(یوسف ،الیاس اور ادریس دہلوی) اور روبی(رحمن نیر) ان کے ذکر سے بھرے رہتے تھے۔دوردرشن پر ہر اتوار کو پرانی فلموں میں میلا،جگنو،دیدار،آن،نیادور اور داستان سال میں کئی کئی بار دکھائی جاتی تھیں اور شوق سے دیکھتے تھے۔جواہرلال نہرو،لال بہادر شاستری،اندراگاندھی سے ان کے تعلقات اور سرحدوں پر فوجی کے لیے اداکاروں کے ساتھ جانا،عام سی بات تھی۔
دلیپ کمار ،دھرمیندراور سنیل دت بہار ،یوپی اور آندھراپردیش کے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے جلوس نکال کر چندہ ،کپڑااور گھریلو سامان جمع کرتے تھے۔جوکہ دادر سے فلورافاوئنٹن تک نکالاجاتا اور ہر کوئی اس میں شریک ہوتا تھا۔جوبھنڈی بازار ہوتا ہوا،پائیدھونی سے میٹرو،آزادمیدان یاجنوبی ممبئی کے فلورافاونٹین پرختم ہوتاتھا۔
دلیپ صاحب سے پہلی ملاقات 1990 میں اس وقت ہوئی جب وہ بلائنڈ ایسوسی ایشن کے چیئرمین تھے اور ایک اسپیشل چئیرٹی ٹرین ممبئی سے پونے روانہ ہوئی اور مجھے بھی انقلاب کے نمائندے کی حیثیت سے سفر کا مدیر ریاض احمد خان نےموقع دیا تھا،میرے ساتھ بلٹز کے ایڈیٹر ہارون رشید بھی تھے۔جوکہ بعد میں انقلاب کے ایڈیٹر بھی رہے تھے۔ٹرین کی روانگی کے بعد دلیپ صاحب سب سے ملنے تشریف لائے اور مصافحہ کیا۔انہیں اتنے قریب سے دیکھ کر میں دم بخود رہ گیا۔میں نے تعارف کرایاتوکہاکہ برسوں سے پڑھ رہے ہیں اور بانی انقلاب عبدالحمید انصاری کے ساتھ تعلقات کاذکر بھی کیا۔
اس کے بعد کبھی کبھار پروگرام میں دکھ جاتے تھے، جہاں ہم لوگ رپورٹنگ کرنے جاتے تھے،لیکن 93-1992میں فساد متاثرین کی امداد کے لیے بمبئی ریلیف کمیٹی کی اسلام جمخانہ میں ہونے والی میٹنگ میں ان سے اور سنیل دت سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ اس درمیان انقلاب نے بھی "انقلاب ریلیف کمیٹی” تشکیل کی تھی،جس سے حیدرآباد کے روزنامہ سیاست نے بھی تعاون کیا۔سیاست کے مدیر زاہد علی خان نے کچھ عرصے بعد مدیر انقلاب مرحوم فضیل جعفری سے فون پر مطالبہ کیا کہ دلیپ کمارصاحب سیاست کے لیے شکریہ کاایک خط لکھیں ،جسے صفحہ اول پر شائع کیاجائے گا۔یہ 1993کے مارچ اور ماہ رمضان کے آخری ہفتے کی بات ہے۔فضیل جعفری نے مجھے بلاکر ایک نمبر پر دلیپ صاحب سے وقت لینے کی ہدایت کی اور جب میں نے فون کیاتو بذات خود انہوں نے کال ریسیوکیا اور دوپہر میں آنے کی ہدایت دی۔میں خوشی خوشی پالی ہل کے شاندار بنگلہ کے صدر دروازے پر پہنچا،دربان نے پی اے جان سے رابطہ کیا اور اجازت کے بعد وسیع لان پھلانگتے ہوئے میری ملاقات پی اے سے ہوئی اور لابی میں بیٹھادیاگیا۔ماہ رمضان تھا،اس لیے چائے پانی کا سوال ہی نہیں تھااور میں بھی روزے سے تھا۔20-15منٹ بعد صاحب عالم خوبصورت زینہ سے نیچے آئے اور میں نے آگے بڑھ کر اپنا تعارف پیش کیا،گرم جوشی سے ہاتھ ملایا اور کار پر بیٹھتے ہوئے مجھے بھی آگے کی سیٹ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔اور پی اے سے لیٹر منگالیا۔ممبئی میں فسادات اور12مارچ 1993 کے سلسلہ وار بم دھماکوں کے بعد کی صورتحال دریافت کرنے لگے۔ڈرائیور کو باہر جانے کے لیے کہا اور مجھے دائیں طرف سے اپنے بغل میں آنے کااشارہ کیا،میں نے دلیپ کمار کے اتنے قریب بیٹھنے کے بعد دل ہی دل میں اللہ رب العزت کاشکریہ ادا کیاکہ اس نے ایسی شخصیت کے بغل میں بیٹھنے کا موقع عنایت فرمایا۔ان کی باتوں سے ایسا محسوس ہواکہ وہ قوم وملت کاکتنادرد رکھتے ہیں۔مجھ سے فسادات کے متاثرین اور بم دھماکوں کے بعد پیش آنے واقعات کی تفصیلات جاننے لگے۔
پھرانہوں نے ایک بڑے سائز کے لیٹر ہیڈ پر خوش خط انداز میں سیاست کے قارئین کاشکریہ ادا کیا اور مجھے کہاکہ آپ شام تک یہیں ٹھہرجائیں اور افطار کرنے کے بعد چلے جائیں۔میں نے دفتر کی مصروفیات کے بارے میں ذکر کیااور انہوں نے کار سے مجھے سڑک تک چھوڑ دیا اور کارنر پر واقع دوسرے بنگلے میں بھائیوں سے ملنے چلے گئے۔میں خوشی خوشی دفتر چلاآیا۔لیکن سوچتا ہوں موبائل ہوتا تو ایک یادگار تصویر ضرور قید ہوجاتی ،سیلفی بھی ہوتی۔مگر ایسا نہیں ہوسکانہ ہی اس خط کی میں نے فوٹو کاپی بنائی ۔ دوسر ی ملاقات کموجعفر گرلزہائی اسکول کے پروگرام میں برلاماتوشری ہال میں ہوئی ،میری سب سےبڑی بیٹی بشریٰ زیر تعلیم تھی ،ہاں وہ تصویر میرے پاس آج بھی ہے۔جبکہ آخری ملاقات گرینڈ حیات ہوٹل میں ہوئی جہاں ان کی کتاب کا اجرا ہوا تھا۔
مذکورہ مضمون کامقصد یہ ہے کہ دلیپ کمار ایک اداکار و فن کار تھا،لیکن یوسف خان فلاحی کاموں،تعلیمی سرگرمیوں میں اور خیراتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے،جس کامیں بھی گواہ رہاہوں ۔میں نے انھیں تکبر اور غرور سے کوسوں دور پایا،جب مرحوم۔بابوقریشی،والد خالد اور عمران قریشی کے والد کے انتخابی جلسہ میں انہیں سری کرشنا کمیشن رپورٹ کااپنا ترجمہ پیش کیاتھا،انہوں نے بڑی خندہ پیشانی سے وصول کیااور کہاکہ "یہ ترجمہ میری لائبریری میں موجود ہے،ایک اور سہی-"