یوم جمہوریہ کی تقریب غیرملکی مہمانِ خصوصی کے بغیر منائے جائے گی

نئی دہلی:کروناکے مفروضہ بحران کی ’’تباہ کاریوں‘‘کے درمیان ہندوستان نے یومِ جمہوریہ کی تقریباً تمام تیاریاں کرلی ہیں، تاہم اس بار 72 واں یوم جمہوریہ بغیر کسی غیر ملکی کے بطور مہمان خصوصی منایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے کورونا کی وجہ سے آخری موقع پر تقریب میں شرکت سے معذرت کے بعد اب ہندوستان نے بھی کسی غیر ملکی مہمانوں کو مدعو نہ کئے جانے کا فیصلہ کیا ہے ۔خیال رہے کہ گذشتہ پانچ دہائیوں میں یہ ایسا یوم جمہوریہ ہوگا جس میں غیر ملکی مہمان بطور خصوصی مہمان کے شریک نہیں ہوں گے۔ اس سے قبل کوئی غیر ملکی مہمان 1966 میں یوم جمہوریہ کے پریڈ میں شریک نہیں ہوسکے تھے ، جب 11 جنوری کو لال بہادر شاستری کے اچانک انتقال کے بعد اندرا گاندھی نے 24 جنوری کو وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف لیا تھا۔ اس کے علاوہ 1952 اور 1953 میں ہندوستان کے یوم جمہوریہ کی تقریبات میں غیر ملکی نمائندوں نے شرکت نہیں کی۔ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہ فیصلہ کئی وجوہات کی بناء پر لیا گیا ہے۔ عہدیدار کے مطابق ہم کسی بھی غیر ملکی مہمانوں کو غیر آرام دہ صورتحال میں رکھنا پسند نہیں کرسکتے ۔برطانوی وزیراعظم کی معذرت کے بعد اب اگر کوئی رہنما ہندوستان کی دعوت قبول کرتا ہے تو پھر اسے اپنے ہی ملک میں ایک پیغام جائے گا کہ بورس جانسن کی جگہ پر کرنے کے لئے اُسے ہندوستان بلایا گیا ہے۔ خیال رہے کہ 1950 کے بعد دو ایسے مواقع آئے ہیں ،جب غیر ملکی مہمانوں کی ہندوستان کی دعوت مسترد کرنے کے بعد دوسرے مہمانوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ واضح ہو کہ کرونا کی وجہ سے معاشرتی دوری کے قواعد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بار یوم جمہوریہ پریڈ بھی مختصر ہوگا۔ اس سال یوم جمہوریہ پر 25 ہزار سے زیادہ افراد شرکت نہیں کرسکیں گے۔ یہاں تک کہ 15 سال سے کم عمر بچوں کو بھی پریڈ دیکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ مسلح افواج اور پیرا ملٹری کی جانب سے مارچ کرنے والی فوجیں بھی مختصر ہوں گی۔ ان فوجیوں میں صرف 96 افراد ہوں گے ، جہاں پہلے اس میں 144 افراد ہوتے تھے۔ اس بار پریڈ کا راستہ بھی مختصر کردیا گیا ہے ، جس کی وجہ سے یہ وجے چوک سے شروع ہو کر نیشنل اسٹیڈیم میں اختتام پزیر ہوگا ، جبکہ اس سے قبل یہ پریڈ لال قلعہ کے پاس اختتام پذیر ہوتی تھی ،نیز ثقافتی تقریبات کی تعداد بھی بہت کم کردی گئی ہے ۔