Home اسلامیات یوم الفرقان 17 رمضان المبارک-ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

یوم الفرقان 17 رمضان المبارک-ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

by قندیل

رمضان المبارک کا مہینہ اپنے فیوض و برکات کے ساتھ زایہ فگن ہے ۔ اس ماہ میں جہاں ایک رات ایسی ہے جو ہزار راتوں سے افضل ہے ۔ وہیں ایک دن ایسا ہے جسے قرآن نے یوم الفرقان کہا ہے ۔ وہ ہے 17 رمضان المبارک کا دن ۔ اسے مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کی آزمائش، اطاعت رسول اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ معرکہ بدر کے لیے جانا جاتا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ 313 مسلمان جن کے پاس جنگی شاز و سامان بھی پورا نہ تھا مکہ کے ایک ہزار مسلحہ بہادروں پر غالب آگئے ۔ قرآن اسے کچھ اس طرح بیان کرتا ہے؛
"بار ہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے ازن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے” (البقرۃ 249)
دراصل مکہ کے لوگ پہلے دن سے ہی دین اسلام اور پیغمبر کے مخالف ہو گئے تھے ۔ کیونکہ محمد صلی اللہ الیہ و سلم نے دعوت دی کہ اللہ کے سوائے کوئی نہیں ہے جس کی عبادت کی جائے ۔ بتوں کی پوجا نہیں کی جائے گی ۔ انسانوں پر انسانوں کا حکم نہیں چلے گا ۔ صرف اللہ کا حکم چلنا چاہیے ۔ انسانوں کو غلام نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ سب انسان برابر ہیں، لڑکیوں کو زندہ دفن نہیں کیا جائے گا ۔ ناحق کسی کا خون نہیں بہے گا ۔ مزدور کو اسکی مزدوری پسینہ سوکھنے سے پہلے دی جائے ۔ اس دعوت سے مکہ کے لوگ بوکھلا گئے ۔ سرداران مکہ کو اپنی سرداری خطرے میں نظر آنے لگی ۔ انہیں سمجھ آگیا کہ اب وہ اپنے آبائی مذہب کی بنیاد پر نہ کسی کا استحصال کر سکیں گے اور نہ ظلم ۔ دھیرے دھیرے مکہ کے لوگ مسلمان ہونے لگے ۔ اسلام کی بڑھتی افرادی قوت ظالمانہ نظام کے لیے پیغام ازل تھی ۔ اسے سرداران قریش نے اپنے لئے چیلنج مانا اور مسلمانوں پر ظلم کرنا شروع کر دیا ۔ مسلمانوں نے تمام سختیاں برداشت کیں ۔ آخر میں پہلے حبشہ اور پھر مدینہ ہجرت کا حکم ہوا ۔ مکہ کے لوگوں نے آپ صلی اللہ الیہ وسلم کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا ۔ اسی رات اللہ کے حکم سے آپ نے مدینہ ہجرت فرمائی ۔ اس طرح آپ کا بچ کر نکل جانا قریش کو پسند نہیں تھا ۔ مدینہ میں مسلمانوں کی بڑھتی طاقت سے اہل مکہ کو یہ خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں مسلمان شام کے تجارتی راستہ پر پابندی نہ لگا دیں ۔ ان کا سوچنا ٹھیک بھی تھا کیونکہ شام کا راستہ مدینہ ہو کر ہی گزرتا تھا ۔ پھر حضور نے اس شاہراہ پر گشت بھی شروع کرادیا تھا ۔ کئی مرتبہ آپ خود بھی تشریف لے گئے تھے ۔
مدینہ پہنچنے پر سب سے پہلے آپ نے مسجد نبوی تعمیر کرائی تاکہ مسلمانوں کا اجتماعی نظم قائم ہو جائے ۔ اسی کے ساتھ مدینہ کے آس پاس کے قبیلوں سے امن کے معاہدے کیے ۔ جن میں بنو نضیر، بنو قریضہ اور بنو قنیقاع تین بڑے یہودی قبیلے تھے ۔ پھر بنی حمزہ (ددّان) بواط، بنو مدلج کو اس معاہدے میں شامل کیا ۔ ان قبیلوں سے معاہدہ ہوا کہ ہم آپس میں نہیں لڑیں گے ۔ لیکن اگر مدینہ پر حملہ ہوا تو مل کر حملہ آوروں کا مقابلہ کریں گے ۔ ادھر مکہ کے سرداروں نے عبداللہ بن اُبی کو خط لکھا "تم لوگوں نے ہمارے آدمی کو اپنے یہاں پناہ دی ہے ۔ ہم خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ یا تو تم اس سے خود لڑو یا اسے نکال دو ورنہ ہم سب تم پر حملہ آور ہوں گے اور تمہارے مردوں کو قتل اور عورتوں کو لونڈیاں بنا لیں گے”۔ واضح رہے کہ حضور کے مدینہ پہنچنے سے پہلے مدینہ کے لوگ عبداللہ بن اوبی کو اپنا بادشاہ بنانے والے تھے ۔ آپ کے مدینہ پہچنے کے بعد اس کی امیدوں پر پانی پھر چکا تھا ۔ سرداران مکہ کا خط ملنے کے بعد وہ شرارت کا منصوبہ بنا ہی رہا تھا کہ آں حضرت کو بروقت اس کی اطلاع مل گئی اور آپ نے اپنی حکمت عملی سے اس کی سازش کو ناکام کر دیا ۔

جنگ بدر کے اسباب: حضرت سعد بن معاذ ریس مدینہ عمرے کے لیے مکہ گئے ۔ وہاں عین حرم کے دروازے پر ابوجہل نے روک کر کہا ” تم تو ہمارے دین کے مرتدوں کو پناہ دو، ان کی امداد و اعانت کرو اور ہم تمہیں اطمنان سے مکہ میں طواف کرنے دیں؟ اگر تم امید بن خلف کے مہمان نہ ہوتے تو زندہ یہاں سے نہیں جا سکتے تھے”۔ حضرت سعد نے جواب میں کہا "بخدا اگر تم نے مجھے اس چیز سے روکا تو میں تمہیں اس چیز سر روک دونگا جو تمہارے لیے اس سے شدید تر ہے” یعنی مدینہ سے گزرنے والی شاہراہ سے ۔ مکہ کے لوگوں نے اس طرح کی چھیڑ چھاڑ شروع کر دی ۔ ربیع الاول دو ہجری کو کرز بن جابر الفہری نے مدینہ کے مویشیوں پر ڈاکہ ڈالا ۔ حضور نے اطلاع ملتے ہی 70 سپاہیوں کا دستہ لے کر اس کا تعاقب کیا لیکن وہ بچ نکلا ۔ یہ ڈاکہ زنی مدینہ کے لوگوں کے لیے ایک جنگی چیلنج تھا ۔ رجب دوہجری میں نخلہ کا واقعہ پیش آیا ۔ حضور پاک نے عبداللہ بن جحش کو مہاجرین کے آٹھ آدمیوں کے ساتھ نخلہ کی طرف بھیجا ۔ تاکہ وہ قریش کی نقل و حرکت سے حضور کو آگاہ کریں ۔ مگر راستہ میں قریش کے ایک قافلہ سے ان کی مڈ بھیڑ ہو گئی ۔ اس لڑائی میں عمرو بن حضرمی مارا گیا ۔ دو گرفتار ہوئے اور مال غنیمت ہاتھ آیا ۔ اس اقدام کو رسول پاک نے نا پسند فرمایا ۔ قیدیوں کو رہا کر دیا اور مقتول کا خون بہا ادا کیا ۔ اس واقعہ نے مکہ میں انتقام کی آگ بھڑکا دی ۔
شعبان دو ہجری کو ابوسفیان کی معایت میں مکہ والوں کا ایک بڑا تجارتی قافلہ مدینہ سے گزرا ۔ اس میں مکہ کے ہر شخص نے اپنا مال لگایا ہوا تھا ۔ یہاں تک کہ عورتوں نے اپنے زیور بیچ کر اس تجارت میں رقم لگائی تھی ۔ یہ قافلہ اس مقصد سے بھیجا گیا تھا کہ تجارت میں ہونے والے فائدہ سے جنگی سامان خریدا جائے گا ۔ چالیس سے پچاس لوگ اس کی حفاظت پر تعینات تھے ۔ ابو سفیان کو خطرہ محسوس ہوا ۔ انہوں نے ایک آدمی کو مکہ کی طرف مدد کے لیے روانہ کیا ۔ قاصد نے مکہ پہنچ کر چلا چلا کر دہائی دی کہ قریشیوں "تمہارا مال و اسباب تو ابو سفیان کے پاس ہے اور اس پر محمد اور اس کے ساتھیوں نے حملہ کر دیا ہے میں نہیں سمجھتا کہ تم اب اسے حاصل کر سکو گے”۔
جنگ کی تیاری: قریش نے مسلمانوں سے مقابلہ کے لیے بڑا لشکر تیار کیا ۔ اور بڑی شان و شوکت مدینہ کی طرف روانہ ہوئے ایسا لگتا تھا کہ یہ صرف مسلمانوں کا ہی نہیں مدینہ کا بھی خاتمہ کرکے لوٹیں گے ۔ ان کے پاس سو سواروں کا رسالہ تھا، 600 زرہیں اور بے تہاشہ اونٹ تھے ۔ ان کی افرادی قوت ایک ہزار تھی اس میں قریش کے بڑے بڑے سردار عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل، عباس، حرث بن عامر، نصرین بن حارث، امیہ وغیرہ شامل تھے ۔ انہیں راستہ میں معلوم ہوا کہ تجارتی قافلہ بخیر و عافیت مکہ پہنچ گیا ہے ۔ تو حکیم بن حرام نے عتبہ سے کہا کہ آپ چاہیں تو حضرمی کا خون بہا ادا کرکے اس خون ریزی سے بچ سکتے ہیں ۔ ادھر عتبہ کے بیٹے ابوحزیفہ اسلام لا چکے تھے ۔ اس لئے ابوجہل کو خیال ہوا کہ عتبہ جنگ سے بچ سکتا ہے ۔ اس نے حضرمی کے بھائی عامر کو بلا کر عتبہ کا پیغام سنایا ۔ اس نے اپنے کپڑے پھاڑ لئے اور قصاص کی بات کہی ابوجہل نے فیصلہ کیا کہ ہم اس وقت تک نہیں لوٹیں گے جب تک میدان بدر میں پہنچ کر تین دن قیام نہ کر لیں ۔ اس کی ضد سے بنی زہرہ اور بنی عدی کے لوگ واپس چلے گئے ۔
ادھر حضور نے صحابہ سے مشورہ کیا کہ ہمیں مدینہ سے نکل کر قریش کے لشکر پر حملہ کرنا چاہیے یا ان کا مقابلہ ۔ کچھ صحابہ نے کہا ہمیں لشکر پر حملہ کرنا چاہیے ۔ آپ نے سوال پھر دوہرایا صحابہ آپ کا اشارہ سمجھ گئے ۔ حضرت مقداد نے اٹھ کر کہا "ہم موسیٰ کی قوم کی طرح یہ نہ کہیں گے کہ آپ اور آپ کا خدا جا کر لڑیں ہم آپ کے داہنے سے بائیں سے سامنے اور پیچھے سے لڑیں گے”۔ ابھی انصار کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تھا آپ ان کی طرف دیکھ رہے تھے ۔ آپ ان کا جواب چاہتے تھے، انصار کی جانب سے حضرت سعد بن معاذ نے کھڑے ہو کر کہا "حضور کا اشارہ ہماری طرف ہے؟ خدا کی قسم آپ فرمائیں تو ہم سمندر میں کود پڑیں”۔ اس کے بعد سامان جنگ اکٹھا کیا گیا ۔ تین گھوڑے، 70 اونٹ جن پر تین تین چار چار اصحاب باری باری سوار ہوتے ۔ 60 کے پاس زرہیں تھیں افرادی قوت (ان میں 86 مہاجر، 61 قبیلہ اوس کے اور 170 قبیلہ خزرج) تین سو سے کچھ زائد تھی ۔
9 رمضان المبارک 2 ہجری کو یہ مختصر جماعت مدینہ سے نکلی ۔ مسلمانوں کی تعداد قرءش کے مقابلہ ایک تہائی تھی ۔ مدینہ سے چلتے وقت آپ نے ابولبابہ ابن عبدالمنزر کو مدینہ کا حاکم مقرر کیا ۔ مسلمان چونکہ بعد میں پہنچے تھے انہیں ایسے مقام پر قیام کرنا پڑا جہاں کوئی چشمہ یا کنواں نہیں تھا ۔ مسلمانوں کو پہاڑی نشیب پر جگہ ملی جہاں ریت میں پیر گڑھتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے بارش کر دی، مسلمانوں نے میڑھ بنا کر پانی کو روک کر تالاب بنا لیا ۔ قریش چونکہ میدانی علاقہ میں تھے وہاں کیچڑ ہو گئی ۔
یوم الفرقان: میدان جنگ آراستہ ہوا، ایک طرف قریش کی فوج کھڑی تھی ۔ دوسری طرف مٹھی بھر صحابہ کی جماعت ۔ ایک کا مقصد خدا کے دین کو مٹا کر اسلام کی طاقت کو پسپا کرنا تھا ۔ دوسرے کا مقصد دین کی صحیح راہ کی طرف دعوت دینا تھا ۔ جنگ شروع ہوئی تین آدمی مشریکن کی صفوں میں سے باہر آئے عتبہ بن ربیعہ اس کا بیٹا ولید اور عتبہ کا بھائی شیبہ ۔ مقابلہ کے لیے پکارا، مسلمانوں میں انصار کی طرف سے تین آدمی مقابکہ کو نکلے ۔ عتبہ نے نام و نسب دریافت کیا جب معلوم ہوا کہ یہ انصار ہیں تو کہنے لگا ہمیں تم سے کوئی سروکار نہیں ۔ ہمارے مقابلہ میں ہمارے جوڑ کے لوگ آئیں ۔ حضور کے حکم سے انصار واپس آ گئے ۔ اور حمزہ بن عبدالمطلب، عبیدہ بن حارث اور علی بن ابی طالب، عتبہ، وکید اور شیبہ کے مقابلے کو نکلے ۔ حضرت حمزہ نے عتبہ کو، حضرت علی نے ولید کو مار گرایا ۔ شیبہ نے عبیدہ کو زخمی کر کر دیا ۔ حضرت علی نے آگے بڑھ کر شیبہ کو بھی قتل کر دیا ۔ سعد بن عاص کا بیٹا جو سر سے پیر تک لوہے میں غرق تھا نے قریش کی صف سے نکل کر پکارا میں ابوکرش ہوں ۔ حضرت زبیر اس کے مقابلہ کو نکلے اس کی صرف آنکھیں نظر آتی تھیں ۔ حضرت زبیر نے ایسی تاک کر برچھی ماری جو اس کی آنکھ میں گھپ گئی ۔ وہ زمین پر ڈھیر ہو گیا ۔ حضرت زبیر نے اس کی لاش پر پیر رکھ کر برچھی نکالی جو ٹیڑھی ہو گئی تھی ۔ حضور نے حضرت زبیر سے وہ برچھی لے لی ۔ جو بعد میں چاروں خلفہ راشدین کے پاس باری باری رہی ۔
عام مقابلہ شروع ہوا، رسول پاک نے بین الاقوامی جنگی اصولوں کے مطابق صحابہ کی صف بندی کی تھی ۔ پہلے تیر اندازوں کو حکم ہوا انہوں نے سامنے سے کور کیا اور دونوں جانب سے صحابہ نے قریش پر حملہ کیا ۔ قریش اس تکنیک سے واقف نہیں تھے ۔ ان کے تمام بڑے بڑے سردار مارے گئے ۔ اللہ کے رسول نے پہلے ہی نشاندہی کر دی تھی کہ کون کہاں مارا جائے گا ۔ اللہ نے اس معرکہ میں مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی ۔ حضرت سعد بن معاذ آں حضرت کی حفاظت پر معمور تھے ۔ میدان جنگ میں قتل و خون تھا دوسری طرف رسول اکرم صلی اللہ الیہ و سلم رب سے دعا کر رہے تھے کہ "اے اللہ یہ قریش اپنے کبرواعجاب کے نشہ میں سرشار ہو کر اس غرض سے آ رہے ہیں کہ تیرے بندوں کو تیری عبادت سے بعض رکھیں اور تیرے رسول کو جھٹلائیں ۔ پس اے اللہ اپنی نصرت بھیج جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کر رکھا ہے ۔ اے اللہ ان کو ہلاکت میں ڈال” پھر یہ جملہ فرمایا "یہ چند جانیں آج ختم ہو گئیں تو پھر قیامت تک تیری عبادت نہیں ہوگی”۔
اللہ نے مسلمانوں کو کامیابی نصیب فرمائی ۔ مسلمانوں میں 6 مہاجر اور 8 انصار شہید ہوئے ۔ قریش کے 70 افراد مارے گئے ۔ ان میں گیارہ وہ لوگ بھی تھے جو آپ کے قتل کی سازش کرنے والوں میں شامل تھے ۔ 70 گرفتار ہوئے بہت سا مال غنیمت ہاتھ آیا ۔ حق غالب ہوا اور باطل کی مکمل سکشت ہوئی ۔ قرآن کے مطابق حق تو ہے ہی غالب ہونے کے لیے ۔ 17 رمضان نہ صرف اس واقعہ کی یاد تازہ کرتا ہے بلکہ ہمارے ایمان اور اللہ پر یقین کو اور مضبوط کرتا ہے ۔

You may also like