شعبۂ اردو ،چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی میں یوم اساتذہ کے تعلق سے شاندار پرو گرام کا انعقاد

میرٹھ:ایک اچھا استاد ہمیشہ اپنے طلبہ و طالبات کے بہتر مستقبل کی فکر میں لگا رہتا ہے اور اپنی کاوشوں سے نہ صرف ان کی بہترین تربیت کرتا ہے بلکہ اپنے طلبا کا مستقبل بھی روشن کردیتا ہے۔یہ الفاظ تھے پرو فیسر اسلم جمشید پوری کے جو شعبۂ اردو ،چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی میں یوم اساتذہ کے تعلق سے منعقدہ پرو گرام میں اپنے صدارتی خطبے کے دوران ادا کر رہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ استاد ہی اپنے طلبا کے ذریعے معاشرے میں پھیلی برا ئیوں کو دور کرسکتا ہے۔انہوں نے اس مو قع پر اپنے استاتذہ کے تعلق سے کئی اہم واقعات، ان کے کردار اور طلبا پر ان کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے ان کی تخلیقات کے کچھ اہم حصے بھی طلبہ و طالبات کو پڑھ کر سنائے۔اس سے قبل پرو گرام کا آغاز ایم اے سال دوم کے طا لب علم مولانا اسرار احمد نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔پی ایچ ڈی کی طالبہ فرح ناز نے ہدیہ نعت پیش کیا ۔اس موقع پر سعید احمد سہارنپوری نے غالب کی غزل اپنی مترنم آواز میں پیش کر سماں باندھا تو وہیں ایم فل کی طالبہ سیدہ مریم نے اساتذہ پر اپنی بہترین تخلیق پیش کر خوب داد و تحسین حاصل کی۔ بعد ازاں سبھی طلبہ و طالبات نے سبھی اساتذہ کرام کا پھولوں کے ذریعے استقبال کیا۔نظامت کے فرائض فیضان ظفر اور فرح ناز نے مشترکہ طور پر انجام دیے۔
اس مو قع پر اپنے خیالات کا اظہار کر تے ہو ئے شعبہ کی استاد ڈاکٹر شاداب علیم نے کہا یوم اسا تذہ ہما را قومی دن ہے جس کو ہم ہر سال5؍ ستمبر کو نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منا تے ہیں۔ آج کے دن اسا تذہ کے او پر ایک ذمہ داری عا ئد ہو تی ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کریں کہ وہ اپنے منصب کی ذمہ داریوں کو بہتر طور پر انجام دے رہے ہیں یا نہیں ۔وہ طلبا کو صرف نصا بی تعلیم تک محدود نہ رکھیں اس کے ساتھ ساتھ تربیت پر بھی خا ص توجہ فر مائیں ۔کیو نکہ تر بیت کے بنا تعلیم کا تصور ادھورا ہے۔ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ یو م اساتذہ کے اس مبا رک مو قع پر خو د اسا تذہ کو بھی اپنا تجزیہ و احتساب کرنے کی ضرورت ہے۔جیسے جیسے تعلیم عام ہوتے جارہی ہے جرائم کا گراف بھی بڑھتا جارہا ہے ۔در اصل حصول علم کے حروف شناسی کے ساتھ ساتھ تربیت بھی لازمی ہے ۔آج کا تعلیمی نظام محض حروف شناسی یا حصول ڈگری تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ لہٰذا آج اساتذہ کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ طلبا کی تربیت بھی کما حقہٗ ادا کریں۔
ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے کہا کہ روزِ اول سے ہی استاد کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ موجودہ صورت حال میں بھی اساتذہ کو اپنی ذمہ داریوں اور طلبہ و طالبات کی رہنما ئی کے لیے کوشش کرتے رہنا چاہیے ۔کیو نکہ ایک طا لب علم کی کامیابی میں اس کے استاد کا بڑا کردار ہو تا ہے۔
ڈاکٹر الکا وششٹھ نے کہا کہ ابتدا سے ہی میرے اساتذہ نے میری اچھی رہنمائی کی۔ ان کی دعا ئوں کے طفیل میں آج آپ کے سامنے ہوں اورمیں سبھی طلبہ و طالبات کے لیے دعا گو ہوں کہ وہ بھی اپنے مقصد میں کامیاب ہوں۔آخر میں آفس انچارج محترم شمشاد نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس موقع پر شوبی زہرا نقوی، محمد نوید خاں، تابش فرید،شاکر رحمن، عبد الواحد ،شاہ نور، افشاں،نشا، ربا،ریشما،بھوت وغیرہ سمیت طلباو طالبات موجود رہے۔